عالمی سفارت کاری کا قضیۂ نامرضیہ: میلوڈی سے میلو ڈراما تک

 

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

سچ پوچھئے تو ہم اس سمارٹ فون نامی آفتِ ناگہانی، فتنۂ دوراں اور عذابِ جیب و داماں سے اتنا ہی خوف کھاتے ہیں جتنا پرانے وقتوں کے شرفا تھانے، کچہری، پٹواری اور تقاضا کرنے والے مستعد قرض خواہ سے کھایا کرتے تھے۔ ہمارا بس چلے تو ہم اسے لوہے کے چمٹے سے پکڑیں اور رات کو سوتے وقت اس کی چمکتی ہوئی سکرین پر باقاعدہ بلند آواز میں آیت الکرسی پڑھ کر پھونک مار دیں تاکہ رات بھر اس کے شر، وسوسوں اور فیس بک کے نوٹیفیکیشنوں سے محفوظ رہ سکیں، یا پھر اسے مٹی کے گھڑے میں رکھ کر اوپر سے بھاری سل دھر دیں تاکہ کوئی پوشیدہ پیغام باہر نہ آ سکے۔
ہماری لرزتی ہوئی، کانپتی انگلی اس کی نازک سکرین کو یوں چھوتی ہے جیسے کوئی نااہل سپاہی کسی لاوارث اور زندہ بم کی تار کو چھو رہا ہو، کہ نہ جانے کون سا من گھڑت، نامعلوم بٹن دب جائے اور پینٹاگون کے خفیہ سرور ہیک ہو جائیں یا اس سے بھی بڑا خاندانی سانحہ یہ گزرے کہ غلطی سے کسی غصہ ور رشتہ دار یا کسی ایسی منہ بولی خالہ کی دس سال پرانی تصویر پر ‘لائک’ کا انگوٹھا دب جائے جن سے برسوں سے خاندانی بول چال بند ہو۔ ہمارے نزدیک ٹچ سکرین اور کسی قدیم معرکے کے میدانِ جنگ میں بچھی بارودی سرنگ میں محض اتنا ہی فرق ہے کہ سرنگ پھٹنے سے صرف انسان کی فانی جان جاتی ہے، جبکہ سکرین پر ایک غلط ٹچ سے انسان کی خاندانی عزتِ نفس، عزتِ باکرہ اور بقیہ زندگی کا رہا سہا سکونِ قلب ہمیشہ کے لیے غارت ہو جاتا ہے۔ ہم تو اس گئے گزرے، پسماندہ دور کے پروردہ ہیں جہاں رابطے کے لیے دل کا اخلاص، خط لکھنے کے لیے دوات کی سیاہی اور فاصلے طے کرنے کے لیے جوتوں کے تلے گھسانے پڑتے تھے۔
آج کل کے یہ لونڈے لپاڑے، جن کی کل کائنات ہاتھ کی چھوٹی انگلی اور سکرین کا لمس ہے، کیا جانیں کہ ہمارے زمانے میں کسی سے تعلق جوڑنا تو درکنار، تعلق توڑنے کے لیے بھی کس قدر جگر کاوی، خونِ جگر اور باقاعدہ خاندانی ریاضت درکار ہوتی تھی۔ قطع تعلق اس دور میں کوئی بچوں کا کھیل نہیں تھا، بلکہ اسے باقاعدہ ایک فنِ لطیف گردانا جاتا تھا جس کے اپنے کچھ اصول و ضوابط اور آدابِ بندگی ہوا کرتے تھے۔ اگر خدانخواستہ محبوب سے کوئی رنجش ہو جاتی تو مہینوں اس قطع تعلق کی اندرونی تیاری ہوتی تھی۔ آنسوؤں سے تر بتر، فصیح و بلیغ زبان میں طویل خطوط لکھے جاتے، جنہیں ڈاک کے حوالے کرنے سے قبل سات مرتبہ چوما جاتا، رات بھر سرہانے رکھ کر رویا جاتا، اور پھر اسی تعداد میں پھاڑ کر کوڑے دان کی نذر کیا جاتا، اور صبح اٹھ کر پھر دوبارہ نئے سرے سے قلم دوات سنبھالی جاتی۔
ہمارے پرانے محلے میں ایک میر عاشق حسین ہوا کرتے تھے، جن کا اسمِ بامسمّیٰ ہونا اس بات سے ثابت تھا کہ وہ ہر اس شے پر بلا تفریق عاشق ہو جاتے تھے جو سانس لیتی ہو اور ان کی طرف دیکھ کر ایک بار مسکرا دے، خواہ وہ پڑوس کی بکری ہی کیوں نہ ہو۔ ایک بار ان کی محبوبہ نے خط کا جواب دینے میں پندرہ دن کی تاخیر کر دی، تو میر صاحب نے طیشِ عشق میں آ کر نہ صرف محبوبہ کا پیغام رساں کبوتر ذبح کر ڈالا، بلکہ اسے دیسی گھی میں بھون کر نہایت رغبت اور کمالِ بے حسی سے کھا بھی گئے اور ہڈیاں پڑوس کے کتے کے آگے ڈال دیں۔ آج کا عاشق کبوتر تو کیا مارے گا، وہ تو مچھر مارنے کے لیے بھی گوگل سے کیمیکل فارمولا پوچھتا ہے اور ناکام محبت پر خودکشی کرنے کے بجائے موبائل کا سٹیٹس بدل لیتا ہے۔ آج کل تعلق توڑنے کے لیے کسی خط، کسی کبوتر یا کسی واسطے کی ضرورت نہیں، محض ایک ‘ان فالو’ کا بٹن درکار ہے۔ کبوتر کی جان تو یقیناً بچ گئی ہے، مگر انسانوں کا سکونِ قلب ہمیشہ کے لیے روٹھ گیا ہے۔ آج انسان ایک کلک سے جڑتا ہے اور دوسرے کلک سے ٹوٹ جاتا ہے، گویا انسانی جذبات اور خلوصِ باہمی نہ ہوئے، کسی سستی ٹیلی کام کمپنی کا پری پیڈ ڈیٹا پیک ہو گئے، جو بیلنس ختم ہوتے ہی خود بخود منقطع ہو جاتے ہیں اور آپ کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ رابطہ کہاں ٹوٹھا۔
ہمارے اسی محلے میں جہاں ہم اپنی جہالتِ جدیدہ اور سادگیِ دیرینہ پر قانع اور شاکر بیٹھے ہیں، دو ایسی نابغۂ روزگار ہستیاں بھی پائی جاتی ہیں جن کے دم سے عالمی سیاست، ملکی معیشت اور محلے کی غیبت کا توازن برقرار ہے۔ ایک خواجہ ڈیٹا بخش ہیں، اور دوسرے ان کے دستِ راست، مرزا تبصرہ علی۔ خواجہ صاحب نے جب سے اپنے گھر میں لامحدود آپٹک فائبر کنکشن لگوایا ہے اور اس کا پاس ورڈ محلے کے تمام بے روزگار، آوارہ اور نااہل نوجوانوں کے لیے صدقۂ جاریہ کے طور پر کھلا چھوڑا ہے، لوگ ان کا اصل نام اور ان کے آبا و اجداد کی تاریخ یوں بھول گئے ہیں جیسے انتخابات کے فوراً بعد کوئی بھی منتخب سیاست دان اپنا انتخابی منشور اور ووٹروں کی شکلیں بھول جایا کرتا ہے۔
اور مرزا تبصرہ علی؟ ان کی تو کیا ہی بات ہے۔ بین الاقوامی سفارت کاری سے لے کر محلے کی بند نالی تک، اور نیٹو کی فوجی حکمتِ عملی سے لے کر پڑوسی کی مرغی کے انڈے کی زردی تک، دنیا کا کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر ان کے پاس ایک ایسی حتمی، قطعی اور ناقابلِ تردید رائے موجود نہ ہو جسے سن کر سقراط اگر زندہ ہوتا تو زہر کا پیالہ پینے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ کرتا اور زہر بیچنے والے کا شکریہ ادا کرتا۔ مرزا صاحب جب اپنے سمارٹ فون کی سکرین پر سکرولنگ کرتے ہیں تو ان کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا درزی کی سلائی مشین کی سوئی کی طرح چلتا ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھیں تھک جائیں مگر ان کا انگوٹھا نہ تھکے۔ اس انگوٹھے پر باقاعدہ ایک موٹا سا گٹہ پڑ چکا ہے جو ان کی چوبیس گھنٹے کی بیداری کا زندہ ثبوت ہے۔ ان کی عینک کے موٹے شیشوں پر جب سکرین کی نیلی روشنی پڑتی ہے تو وہ رات کے اندھیرے میں کسی سستی سائنس فکشن فلم کے ولن یا کسی بھوکے چمگادڑ معلوم ہوتے ہیں۔ جب وہ کسی بے چارے کی معصوم سی پوسٹ پر کوئی زہریلا، طنزیہ کمنٹ ٹائپ کر کے ‘سینڈ’ کا بٹن دباتے ہیں، تو ان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ کی وہ لہر دوڑتی ہے گویا پانی پت کی چوتھی جنگ اسی چبوترے پر لڑی گئی ہو اور وہ تن تنہا پوری دشمن فوج کو اپنے کی بورڈ سے تہہ تیغ کر چکے ہوں۔
انہی مرزا تبصرہ علی نے ایک دن چائے کے کھوکھے پر ہانپتے کانپتے ہمیں یہ ہوش ربا خبر دی کہ غضب ہو گیا، آسمان ٹوٹ پڑا اور زمین پھٹ گئی ہے کیونکہ اٹلی کی وزیر اعظم، محترمہ جارجیا میلونی نے ہندوستان کے وزیر اعظم کو انسٹاگرام پر "ان فالو” کر دیا ہے۔ ہم نے اپنی سادگی اور پرانی وضع داری کے باعث ابتدا میں یہ سوچا کہ شاید یہ ‘ان فالو’ کوئی نیا، ہولناک اور مہلک ایٹمی ہتھیار ہے جو مغربی طاقتوں نے راتوں رات ایجاد کیا ہے اور جس کے گرتے ہی کروڑوں لوگ خاکستر ہو جاتے ہیں۔ مرزا صاحب نے کمالِ حقارت سے ہماری اس علمی پسماندگی اور جہالت پر ناک بھوں چڑھائی، چائے کی پیالی میز پر پٹخی اور فرمایا کہ: "قبلہ، انہوں نے اپنا رشتہِ ڈیجیٹل منقطع کر لیا ہے، جسے آپ اپنی پرانی، فرسودہ اور ازکارِ رفتہ زبان میں قطع تعلق یا روگردانی کہتے ہیں۔”
یہ خبر سوشل میڈیا کے جنگل میں یوں پھیلی جیسے بارود کے ڈھیر میں کسی نے ماچس کی جلتی ہوئی تلی پھینک دی ہو۔ یہ ‘میلوڈی ایونٹ’ جو بظاہر دو ممالک کے سربراہان کی ہنستی مسکراتی تصویروں، خوشگوار ملاقاتوں اور انٹرنیٹ کے لونڈوں کی بنائی ہوئی میمز سے شروع ہوا تھا، چشم زدن میں ایک سنسنی خیز اور بھیانک ‘میلو ڈراما’ بن گیا جس میں ہر تماشائی تالیاں بجا رہا تھا۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو یہ معاملہ زیادہ سے زیادہ شطرنج کے ایک حقیر پیادے کے ادھر سے اُدھر ہونے کا تھا، مگر ہمارے اس پرآشوب اور ڈیجیٹل عہد کی سب سے بڑی المیہ خاصیت ہی یہی ہے کہ یہاں شطرنج کا ہر پیادہ خود کو وزیرِ اعظم اور کی بورڈ کے پیچھے بیٹھا ہر تماشائی خود کو عالمی ابلاغیات اور خارجہ پالیسی کا ماہرِ اعظم سمجھنے لگتا ہے، چاہے اس کے اپنے گھر کا راشن ادھار پر چل رہا ہو۔
اب اس عظیم اور پیچیدہ قضیے کی تہہ تک پہنچنے، اس کی جڑیں تلاش کرنے اور سچائی کو طشت از بام کرنے کے لیے دورِ حاضر کے تین بڑے، نامور اور مستند "ڈیجیٹل دانشور” میدان میں اتارے گئے۔ پہلا دانشور خود گوگل تھا، جسے ہم احتراماً، اس کی وسیع علمی پہنچ کے باعث "علامہ سرچ عالم” کہنا پسند کریں گے۔ علامہ سرچ عالم، جو کسی زمانے میں علم و عرفان کا بحرِ بے کراں اور ہر مشکل کی کنجی سمجھے جاتے تھے، اس نازک موقع پر ایک ایسے بوڑھے، خبطی، حواس باختہ اور لرزتے ہوئے کتب دار کی مانند نظر آئے جسے کتب خانے کی ہر کتاب کا نام اور جواب تو معلوم ہے، مگر یہ یاد نہیں کہ وہ کس الماری کے کس خانے اور کس صفحے پر رکھا ہے۔ آپ ان سے ایک سیدھا سوال پوچھیں، وہ جواب دینے کے بجائے دس لاکھ صفحات کی فہرست آپ کے منہ پر دے مارتے ہیں کہ جاؤ میاں، خود ہی ڈھونڈ لو اور اپنی بچی کچی عقل پر وائرس ڈلوا لو۔
دوسرا دانشور "گروک” تھا، جو ابھی تازہ تازہ مصنوعی ذہانت کے اکھاڑے میں لنگوٹ کس کر اترا ہے۔ اس کا نام ہم نے اس کی جبلت کے مطابق "میاں کج بحث” رکھا ہے۔ یہ ایک ایسے منہ پھٹ، گستاخ اور بدتہذیب شاگرد کی مانند ہے جو ہر سوال کا جواب دینے سے پہلے خود سوال کی ماہیت پر ایک لایعنی, طنزیہ اور طویل بحث چھیڑ دیتا ہے، جواب کم دیتا ہے اور پوچھنے والے کی ذات پر جگتیں زیادہ لگاتا ہے۔
اور تیسرا دانشور، جسے دنیا چیٹ جی پی ٹی کے نام سے جانتی ہے، ہمارے نزدیک "میرزا مصلحت بیگ” ہے۔ یہ ایک ایسا مہذب، شائستہ، خوش اخلاق مگر حد درجے کا ڈرپوک اور مصلحت پسند سفارتی مشیر ثابت ہوا جو ہر بات نہایت ادب و احترام سے ہاتھ باندھ کر کہتا ہے، مگر اس انتہائی احتیاط اور لیس دار زبان کے ساتھ کہ کہیں سچ بولنے سے کسی کی دل آزاری نہ ہو جائے، یا کہیں کوئی ملک ناراض نہ ہو جائے، یا اس کے اپنے سرورز پر کوئی قانونی نوٹس نہ آ جائے۔ میرزا مصلحت بیگ نے اس نازک معاملے پر ایسا گول مول، مبہم اور لیس دار متوازن جواب دیا کہ پڑھنے والے کو آخری سطر تک یہ سمجھ ہی نہ آ سکے کہ آیا میلونی صاحبہ نے واقعی ان فالو کیا ہے، یا خود میرزا مصلحت بیگ کو کسی نے رات کی تاریکی میں ان فالو کر دیا ہے۔
اگر ہم مرزا تبصرہ علی کے دیوانے خوابوں اور چائے کے کھوکھے کی بحثوں سے نکل کر اس معاملے کا ٹھنڈے دل، منطقی استدلال اور مستند حقائق کی روشنی میں جائزہ لیں، جو کہ ویسے بھی ہمارے معاشرے میں ایک ممنوعہ، متروکہ اور مکروہ شے سمجھا جاتا ہے، تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم بذاتِ خود ایک پیچیدہ ریاضیاتی گورکھ دھندا اور بائنری کوڈز کا کھیل ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس کی تصدیق شدہ علمی تحقیق ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کسی بھی پلیٹ فارم پر ‘فالو’ یا ‘ان فالو’ کا عمل محض ایک عارضی ‘سیشن آئی ڈی’ کی تبدیلی ہے، جو سرور کے ڈیٹا بیس میں موجود ایک بائنری کوڈ میں ‘صفر’ کو ‘ایک’ یا ‘ایک’ کو ‘صفر’ میں بدل دیتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں عقل کے اندھوں، ڈیٹا کے پجاریوں اور تبصروں کے رسیا لوگوں نے اس حقیر سے ریاضیاتی تغیر کو ایک عالمی سفارتی زلزلہ بنا کر پیش کیا۔
کیا دورِ حاضر میں ممالک کے سفارتی تعلقات، اربوں ڈالر کی دو طرفہ تجارت، اور دہائیوں پر محیط بین الاقوامی معاہدے اب اس حد تک نازک، کھوکھلے، سطحی اور لیس دار ہو چکے ہیں کہ کسی ایک سربراہِ مملکت کے انسٹاگرام کا بٹن دبانے یا کسی فنی خرابی سے عالمی طاقت کا توازن بگڑ جائے گا؟ کیا بحیرہ روم کا پانی اس ان فالو سے سوکھ جائے گا یا بحرِ ہند میں کوئی ہولناک سونامی آ جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ یہ دراصل ہمارے ہاں کے مرزا تبصرہ علی اور خواجہ ڈیٹا بخش جیسے فارغ البال مفکرین کا کمال ہے کہ وہ ‘ہاتھ موبائل کو وائی فائی کیا’ کے مصداق، ہر بے پر کی اڑانے، رائی کا پہاڑ بنانے اور پیاز کے چھلکوں میں سے عالمی سازشیں نکالنے کے لیے چوبیس گھنٹے مستعد رہتے ہیں۔
جدید علمِ نفسیات اور ابلاغیات کی تحقیق، جس سے ہمارے ان مفکرین کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں، یہ بتاتی ہے کہ آج کا انسان ‘کنفرمیشن بائس’ یعنی اپنے پہلے سے موجود خیالات، تعصبات اور ذہنی کج روی کی تصدیق کا اسیر ہے۔ اسے سچائی سے کوئی غرض نہیں ہوتی، اسے صرف اس بیانیے سے غرض ہوتی ہے جو اس کے من کی مراد پوری کرے اور اس کے اندرونی غبار کو راستہ دے۔ خبر خود اتنی اہم نہیں ہوتی جتنی اس خبر پر ہونے والی سنسنی خیز، لایعنی اور جاہلانہ بحث اہم بنا دی جاتی ہے۔
اس طویل، بے ثمر، کان پھاڑ دینے والے اور تھکا دینے والے ڈیجیٹل میلو ڈرامے نے دراصل ہمارے موجودہ سماج کی ایک انتہائی بھیانک، تلخ اور ننگی سچائی کو بے نقاب کیا ہے کہ ہم نے بحیثیتِ مجموعی حقیقت کو نہیں، بلکہ اس کے تاثر کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔ اب یہ قطعی ضروری نہیں کہ کچھ حقیقت میں رونما ہوا بھی ہے یا نہیں، ضروری صرف یہ ہے کہ وہ سکرین پر کیسا چمکتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ آج اگر یہ دونوں رہنما دوبارہ ایک دوسرے کو فالو کر لیں، جو کہ کسی بھی وقت ایک کلک سے ممکن ہے، تو آپ یقین جانیے، یہی مرزا تبصرہ علی اور ان کی قبیل کے دیگر مجاورین، جو آج اسے ایک عظیم سفارتی بحران ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کل صبح کی چائے کے ساتھ اسے عالمی امن کی نوید، جیو پولیٹکس کا ماسٹر سٹروک اور سفارتی تعلقات کی ایک نئی اور بے مثال روشن صبح قرار دے رہے ہوں گے۔ کیونکہ ہمارے اس عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہمارے عہد میں اصول، حقائق اور نظریات کی کوئی وقعت نہیں، ان کی بنیاد پر صرف بیانیہ بدلتا ہے، اور وہ بھی راتوں رات۔
اور ان سب باتوں سے قطع نظر، جب ہم رات کی گہری تاریکی میں اپنے سمارٹ فون کی سکرین آف کرتے ہیں، تو سکرین کے اس سیاہ، سرد اور بے حس آئینے میں ہمیں اپنا ہی چہرہ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح نظر آتا ہے جس کے پاس اب داؤ پر لگانے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ یہ کیسی عجیب، مضحکہ خیز اور دل سوز حقیقت ہے کہ انسان نے فاصلے مٹانے، سرحدیں پار کرنے اور پوری دنیا کو ایک عالمی گاؤں بنانے کے لیے یہ عظیم الشان ڈیجیٹل طلسم خانہ اور سائبر کی دنیا تعمیر کی تھی، لیکن آج وہ تنہائی کے اس گہرے، تاریک اور سرد غار میں کھڑا ہے جہاں انٹرنیٹ پر اس کے لاکھوں فالوورز تو ہیں، اس کی ہر لایعنی پوسٹ پر ہزاروں لائکس کی برسات بھی ہوتی ہے، مگر جب حقیقت میں اس کی زندگی کا چراغ گل ہوتا ہے اور جنازے کی چارپائی اٹھتی ہے، تو اسے کندھا دینے کے لیے چار حقیقی انسان بھی میسر نہیں ہوتے۔ ہم سب ایک ایسے میلو ڈرامے کے مسخرے اور کٹھ پتلی کردار بن چکے ہیں جس کی کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی، بس ہر روز ایک نیا ہیش ٹیگ اوڑھ کر اپنا عنوان بدل لیتی ہے، اور ہم ایک بار پھر اپنا انگوٹھا گھسانے اور اپنی عقل کا جنازہ نکالنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

Comments are closed.