دار العلوم دیوبند کی گریگورین تاریخِ تاسیس: 30 مئی یا 31 مئی 1866ء؟ ایک ماخذی جائزہ

 

محمد روح الامین قاسمی
(استاذ دار العلوم حسینیہ، مدنی نگر، چڑئی بھول، ضلع میُوربھنج، اڈیشا)

دار العلوم دیوبند کی تاریخِ تاسیس کے بارے میں سب سے قدیم اور بنیادی مآخذ میں صرف قمری تاریخ ملتی ہے۔ دار العلوم کی اولین روداد (1283ھ) جو خود سنہ 1866ء میں شائع ہوئی، اس کے صفحات 3–4 پر تاریخِ تاسیس ’’15 محرم، بروز پنجشنبہ‘‘ درج ہے، لیکن اس کے ساتھ کوئی عیسوی تاریخ مذکور نہیں۔ بعد میں مولانا محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی نے اپنے مضمون ’’تاریخ دار العلوم دیوبند‘‘ (ماہنامہ القاسم، جون 1928ء، ج 4، ش 1، ص 57) میں بھی یہی تاریخ نقل کی۔ اسی طرح سید محبوب رضوی صاحب نے ”تاریخ دار العلوم دیوبند“ (پہلا ایڈیشن، 1977ء، ج 1، ص 156) میں بھی ’’15 محرم، بروز پنجشنبہ‘‘ ہی ذکر کیا ہے۔

البتہ اس قمری تاریخ کی عیسوی تطبیق کے سلسلے میں مختلف اہلِ قلم نے مختلف آرا پیش کیں۔ مولانا محمد میاں دیوبندی نے اپنی کتاب ”1857ء کے بعد علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے“ (پہلا ایڈیشن، 1946ء، ص 73) میں قیامِ دار العلوم کا سال 1867ء لکھا، تاہم مکمل تاریخ ذکر نہیں کی۔ اس کے بعد قاری محمد طیب صاحب نے ”دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی“ (پہلا ایڈیشن، جون 1965ء، ص 14) میں اس تاریخ کو ’’30 مئی 1867ء‘‘ لکھا۔ پھر سید محبوب رضوی نے اپنی کتاب ”تاریخ دیوبند“ (دوسرا ایڈیشن، 1972ء، ص: 319) میں سنہ کی اصلاح کرتے ہوئے ’’30 مئی 1866ء‘‘ درج کیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی نے ”دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ“ (دوسرا ایڈیشن، اکتوبر 2020ء، ص 74) میں اصل رودادِ دار العلوم (1283ھ) اور ابتدائی اشتہارات کی روشنی میں اس مسئلے کا ازسرِنو جائزہ لیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ قیامِ دار العلوم کی اصل تاریخ 15 محرم الحرام 1283ھ ہے، لیکن اس کی مشہور عیسوی تطبیق ’’30 مئی 1866ء‘‘ درست نہیں۔ ان کے مطابق روداد میں مؤسسین کے اعلانِ تاسیس کی تاریخ 19 محرم بروز دوشنبہ درج ہے۔ اس حساب سے 15 محرم کا دن ’’پنجشنبہ‘‘ (جمعرات) بنتا ہے، جیسا کہ قدیم مآخذ میں بھی مذکور ہے۔ لہٰذا ہفتے کے دن کی اس صراحت کو سامنے رکھتے ہوئے 15 محرم 1283ھ کی درست گریگورین تاریخ 31 مئی 1866ء قرار پاتی ہے، نہ کہ 30 مئی 1866ء۔

اگر تمام مآخذ کو زمانی ترتیب کے ساتھ سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مصنفین نے قمری تاریخ کو عیسوی تقویم سے مطابق کرنے کی کوشش کی، لیکن ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی نے ابتدائی اور بنیادی دستاویزات کی روشنی میں اس مسئلے کی مزید تنقیح کی اور 31 مئی 1866ء کی رائے کے حق میں دلائل پیش کیے۔

1965ء سے پہلے تک دار العلوم دیوبند کی درست گریگوری تاریخِ تاسیس کیا، درست سنہ عیسوی لکھا جانا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔

اگر درست سنہ عیسوی لکھے جانے میں 1930ء کے بعد سے 1965ء کا عرصہ لگا (1930ء سے پہلے لکھی ہوئی گریگوری تاریخِ تطبیق نظر نہیں آ سکی ہے) تو درست گریگوری تاریخ اگر موجودہ مجلسِ شوریٰ دار العلوم دیوبند کی طرف سے تیار کروائی جانے والی کتابوں اور دستاویزات میں 2016ء کے بعد سے 30 مئی کے بجائے 31 مئی لکھی جانے لگی تو یہ قابل حیرت اور لائقِ تعجب بات نہیں ہے۔

انگریز وقائع نگار جان جیمز بانڈ (John James Bond؛ متوفی: 1883ء) نے 1875ء میں لندن سے پہلی بار شائع اپنی کتاب ”ہینڈی بُک آف رولز اینڈ ٹیبلز فار ویریفائنگ ڈیٹس وِد دی کرسچین ایرا، الخ“ (Handy-Book of Rules and Tables for Verifying Dates with the Christian Era, etc.) کے صفحہ 249 پر ہجری سال 1283ھ کے آغاز کے مقابل 16 مئی 1866ء درج کیا ہے، جو بروز بدھ (Wednesday) تھا۔

اُس جدول کی بنیاد پر حساب کیا جائے تو 15 محرم 1283ھ، بروز بدھ 30 مئی 1866ء کو بنتی ہے۔ تاہم دار العلوم دیوبند کے اولین اور بنیادی مآخذ میں 15 محرم 1283ھ بروز پنج شنبہ (جمعرات) مذکور ہے۔

مزید یہ کہ The Bombay Gazette کے 31 مئی 1866ء کے شمارے کے عنوان میں صراحتاً "Thursday, May 31, 1866” درج ہے، جس سے 31 مئی 1866ء کے جمعرات ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔

اِن قرائن کی بنا پر غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ جان جیمز بانڈ کا جدول لندن یا مغربی دنیا کے تقویمی حساب کے مطابق مرتب کیا گیا تھا، جبکہ برصغیر میں محرم 1283ھ کا آغاز ایک دن بعد، یعنی 17 مئی 1866ء کو ہوا ہوگا۔ اس صورت میں 15 محرم 1283ھ بروز پنج شنبہ 31 مئی 1866ء کے موافق قرار پاتی ہے، جو دار العلوم دیوبند کی زیرِ بحث تاریخِ تاسیس سے مطابقت رکھتی ہے۔

"بعض حسابی تقویموں کے مطابق 31 مئی کو 16 محرم ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر کئی ویب سائٹس پر تطبیق عرب ممالک اور مغربی دنیا کے لحاظ سے ملتی ہے، اس سے بھی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے؛ کیونکہ جنوبی ایشیائی اکثر ممالک؛ بالخصوص شمالی ہند میں عرب ممالک سے ایک دن بعد چاند نظر آتا ہے۔

صرف حسابات تک محدود رکھنے کے بجائے جان جیمز بانڈ کی 1875ء میں لندن سے شائع کتاب کے حوالے اور دی بومبے گیزٹ کے 31 مئی 1866ء کے شمارے کے سرورق سے اِس بات کی تائید پیش کی گئی ہے کہ 31 مئی کو جمعرات کیسے تھا۔ نیز 15 محرم 1283ھ کو جمعرات کا دن ہونا پہلی رودادِ دار العلوم دیوبند ”رودادِ دار العلوم (1283ھ)“ میں تو مذکور ہے ہی۔

مذکورۂ بالا چیزوں اور ان کے علاوہ زمانی ترتیب کے لحاظ سے پیش کیے گئے تجزیے سے دار العلوم دیوبند کی تاریخ تاسیس یوں سمجھ میں آتی ہے: 15 محرم الحرام 1283ھ مطابق 31 مئی 1866ء، بہ روز جمعرات۔ واللہ اعلم بالصواب

مآخذ:
[1] روداد دارالعلوم [1283ھ]۔ دارالعلوم دیوبند۔ 1866ء۔ ص: 3–4۔
[2] سید محبوب رضوی (1977ء)۔تاریخ دار العلوم دیوبند (پہلا ایڈیشن)۔ دار العلوم دیوبند: ادارۂ اہتمام۔ ج: 1۔ ص: 156۔
[3] محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی (جون 1928ء)۔ حبیب الرحمن عثمانی (مدیر)۔ "تاریخ دار العلوم دیوبند”۔ ماہنامہ القاسم۔ ج: 4، ش: 1، ص: 57۔
[4] محمد میاں دیوبندی (1946ء)۔ 1857ء کے بعد علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے (پہلا ایڈیشن)۔ گلی قاسم جان، دہلی: الجمعیۃ بک ڈپو۔ ص: 73۔
[5] قاری محمد طیب (جون 1965ء)۔ دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی (پہلا ایڈیشن)۔ دیوبند: دفتر اہتمام، دار العلوم۔ ص: 14۔
[6] سید محبوب رضوی (1972ء)۔ "تاسیس و قیام”۔ تاریخ دیوبند (دوسرا ایڈیشن)۔ دیوبند: علمی مرکز۔ ص: 319۔
[7] محمد اللہ خلیلی قاسمی (اکتوبر 2020ء)۔ دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (دوسرا ایڈیشن)۔ بھارت: شیخ الہند اکیڈمی۔ او سی ایل سی نمبر:1345466013، ص: 74۔
[8] جان جے بانڈ، ہینڈی بُک آف رولز اینڈ ٹیبلز فار ویریفائنگ ڈیٹس وِد دی کرسچین ایرا، الخ (لندن: جارج بیل اینڈ سنز؛ بارٹلیٹ اینڈ کمپنی، 1875ء)، ص 249، یوآرایل: https://books.google.co.in/books?id=F3mcB6GnOtIC&pg=PA249 ۔
[9] دی بومبے گیزٹ (The Bombay Gazette)، بمبئی، 31 مئی 1866ء، شمارہ مورخہ Thursday, May 31, 1866، ص: 1، یوآرایل: https://www.britishnewspaperarchive.co.uk/viewer/BL/0002920/18660531/001/0001?noTouch=true ۔

Comments are closed.