ملت کو نئے خون کی ضرورت

✒️ محمد نفیس خان ندوی

 

انکاؤنٹر، موب لنچنگ، بلڈوزر کارروائیاں، بے جا مقدمات، نوکریوں سے محرومی، تجارت میں فرقہ واریت، شرکیہ کلمات کی ادائی پر جبر، مسلم نام پر ہراسانی — اس طرح نہ جانے کتنے عنوانات ہیں جن کے نام پر مسلم نوجوان ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہیں۔

 

حالات کا رخ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ نوجوان طبقہ ایک طرف خوف، مایوسی اور احساسِ مظلومیت میں مبتلا ہے، تو دوسری طرف بے راہ روی، جذباتیت اور انتہاپسندی کے مختلف راستے اس کے سامنے کھلتے جا رہے ہیں۔

 

افسوس کہ ایسے حالات میں کہیں بھی ایسی مخلص، باصلاحیت اور دور اندیش قیادت نظر نہیں آتی جو نوجوانوں کو مایوسی کے بھنور سے نکال کر معتدل شعور اور تعمیری جدوجہد کی راہ پر گامزن کر سکے۔

 

ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اس وقت مسلمان ایک مؤثر اور دور اندیش قیادت سے محروم ہیں۔ سماج کے تقریباً ہر شعبہ کی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں،اخلاقی قدریں مٹ رہی ہیں، ایمانی غیرت بے معنی ہورہی ہے اور اس پر المیہ یہ ہے کہ کسی بھی میدان میں ایسی نمایاں شخصیت نظر نہیں آتی جس کے گرد نئی نسل اعتماد کے ساتھ جمع ہو سکے۔

 

یہ باتیں مایوس کرنے یا ہمت توڑنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ صحیح شعور اور حقیقی ادراک پیدا کرنے کے لیے ہیں کہ اس وقت مسلمان حقیقی قیادت کے بحران سے دوچار ہیں۔

 

قیادت کے نام پر جو شخصیات نظر آتی ہیں، ان میں سے بیشتر اپنی ذمہ داریاں ادا کر چکی ہیں۔ انہیں خدمت کے لیے جو دور ملا تھا، اس میں وہ اپنا کردار نبھا چکی ہیں۔ اب وقت ان کا محاسبہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ خود احتسابی کا ہے، حالات کا تقاضا ہے کہ نئی نسل آگے بڑھے، اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور ملت کے مستقبل کی فکر اپنے ہاتھ میں لے۔

 

اب نوجوانوں کو زمام قیادت سنبھالنی ہوگی۔ جن نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ نے صلاحیتوں، حوصلوں اور فکر و شعور سے نوازا ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا جائزہ لیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اور خود کو جس میدان کا اہل سمجھتے ہوں، اس میں پورے اخلاص کے ساتھ آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھالیں۔

 

سوشل میڈیا کی چکاچوند، تخریبی تبصروں اور جا و بے جا تنقید کے مزاج سے نکل کر زمینی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔ محض تبصروں، چٹپٹی پوسٹوں اور جذباتی نعروں سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلا کرتی؛ اس کے لیے میدان عمل میں اترنا پڑتا ہے، قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور مستقبل کی تعمیر کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے۔

 

آج ملت کو ایسے نئے خون کی ضرورت ہے جو شکایت سے زیادہ تعمیر کا جذبہ رکھتا ہو، جو جذبات کے بجائے بصیرت سے کام لے، جو مسائل کا رونا رونے کے بجائے ان کے حل کی طرف قدم بڑھائے، اور جو آنے والے کل کی قیادت کے لیے خود کو تیار کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

 

(تکیہ کلاں، رائے بریلی)

Comments are closed.