تذکیر اور اصلاح وتزکیہ

مفتی احمد نادر القاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

 

اسلام کاحسن یہ ہےکہ انسان کا قلب ۔یعنی باطن نورایمان سے منوراورجسم۔یعنی ظاہراعمال سے آراستہ ہو۔ ۔آدمی ہمیشہ یہ سوچتاہےکہ جب فراوانی آئےگی۔اورمال آئیں گے تو نیکی کے یہ کام کرلوں گا۔ وہ کام کرلوں گا۔ اسی طرح ابھی توجوانی ہے بوڑھاپاآئےگا تو مسجدپکڑلوں گا۔ حج کرلوں گا۔وغیرہ وغیرہ ۔ حدیث میں آتاہےکہ نیکی کےکام کرنےکےلئیے جلدی کرو ۔ایسی مالداری کاانتظارمت کروجوسرکش بنادے۔اورایسے بوڑھاپےکاانتظارمت کرو جویادداشت بھلادے اوردماغ مختل ہوجائے۔ایک مسلمان کو ہمیشہ یہ بات یادرکھنی چاہئیے کہ انسان جب مرتاہے تو قبرستان تک تین چیزیں جاتی ہیں۔اعمال۔عزیزواقارب۔اورمال۔ انسان جب قبرمیں اتاردیاجاتاہے۔ توعزیزواقارب اوردفن مین شریک لوگ۔اوراس کامال سب واپس ہوجاتاہے۔ بس اس کے اعمال اسکےساتھ جاتےہیں۔ (مروی عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ حدیث)۔یہ دنیاایک عارضی چیزہے۔اس سے سرکش بھی فائدہ اٹھاتاہے۔اورنیکوکاربھی ۔انسان میں یہ خوبی ہونی چاہئیےکہ مل جائے توشکرکرے۔اورخاطرخواہ نہ ملےتو مایوس نہ ہو۔زندگی میں جتنازیادہ موقع مل جائے نیک کام کرلے۔ *انسان اکثرمنہ اٹھاکردوسرے کوبراکہہ دیتاہے۔ اس کامطلب یہ ہےکہ اس نے اپنے آپ کو اچھاسمجھا ۔اسی لئیے دوسرے پر فوراانگلی اٹھادی۔ یہ تکبر۔رعونت۔اورحسدہے جوبری خصلت۔اوربہت بڑی برائی ہے انسان میں۔ اس کی فورا اصلاح کرنی چاہئیے۔اوردوسرےکےبارے برے تبصرےسے اجتناب کرناچاہئیے۔اگرخودکوبڑا اورپاکبازنہ سمجھتاتوکسی قیمت پرایسے نازیباتبصرے نہ کرتا* یہ بیماری اکثراہل علم کی مجلس میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ دوسروں پر تبصرے اورپھراس پر قہقہے۔ اللہ حفاظت فرمائے۔ اورہماری اصلاح فرمائے.

Comments are closed.