عہد جدید .الحاد .اتباع ھوا ء اورفکری ارتدادکافتنہ

 

احمدنادرالقاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

عہدجدید کاسب سے بڑا فتنہ الحادوبےدینی اورآزادخیالی ہے.آج جولوگ تھوڑاسا دینی شعوراورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتاہے.اس کی سب بڑی کمزوری یاکمی یہ ہے کہ کتاب وسنت کاسہارالیکر اپنی سمجھ اورفکرکو دین سمجھ بیٹھتاہے.وہ کوئی رائے قائم کرتےوقت اس بات کوبھول جاتاہے کہ وہ اس پہلوکوبھی مدنظررکھےکہ اس نے جورائے قائم کی ہے واقعی وہ کتاب وسنت سے ہم آہنگ اورمربوط ہے بھی یانہیں. بس وہ اپنی فہم وعقل پر اعتمادکرکےرائےدینےکوکمال دانشوری گردانتاہے. اوریہیں سے دروازہ کھلتاہے فکری ارتداد اورالحادی فتنہ کا .یعنی وہ اپنی رائے میں پیروی تو اپنی عقل اورہوائےنفس کی کرتاہے.مگرخوب صورت نام اسے کتاب وسنت کادیتاہے.اورپھروہ خلق کثیرکواپنے دام فریب میں لےلیتاہے. اصولی طورپرہماراایمان ہے کہ دین اوردینی افکاروخیالات کاشرچشمہ قران وسنت ہی ہے.اوراس سے ہٹ کرکسی فکری میتھڈ کودین کانام دیاجاناسراسرگمراہی ہے.اوربےدینی ہے. مگرسوال یہ ہے کہ فہم نصوص کاوہ کون سامعیارہے جسے کتاب وسنت کے تابع کہاجائے؟ .جوہم سمجھ رہےہیں وہ ہے یاجواسلاف امت نے سمجھااوررائےدی تھی وہ ہے. مجھے اس موقع پر سیدناامام مالک کا وہ اصول اورمقولہ یادآتاہے جوانھوں نے اصلاح احوال امت کے اصول کے طورپرکہاہے: "لایصلح آخرھذہ الامۃ الامااصلح اولھا "کہ اس امت کے بعدکےآنے والےلوگوں کی اصلاح وہی چیزکرسکتی ہے جس نے اس کے پہلے کےلوگوں کی کی ہے. اس سے ہٹ کر اصلاح کایافکری میتھڈ کاکوئی دوسراطریقہ اختیارکیاجاتاہے جیساکہ دورجدیدکےمفکرین نے اختیارکررکھاہے.یعنی ہرمعاملہ میں "میری رائےیہ ہے” یہ میتھڈ اورطرز رائے دہی بالکل فکری دنیاکےلئے تباہ کن ہے .کسی رائے کو دینی رائے اس وقت تک نہیں کہا جاسکتا جب تک اس کی پشت پرقران وحدیث سے ثابت کوئی دلیل نہ ہو. اورکوئی فکراس وقت تک قابل قبول نہیں ہوسکتی جب تک وہ کسی شرعی بنیاد پر ٹکی نہ ہو. اس لئے ہررائے کو دینی رائے نہیں کہاجاسکتا. اورنہ ہی ہراختلاف کو علمی اختلاف کہاجاسکتاہے. یہی وجہ ہے کہ قران نے جابجا اتباع ہوائے نفس پر تیشہ چلایاہے..کہیں ’ولا تتبع الھوا‘. کہا.کہیں "ولاتتبعوا اھواء الذین لایعلمون” کہا. قران میں بیان کردہ "ھواء”یہ بےدلیل رائے اوربےبنیاد فکرہی توہے جس کی پیروی نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے .چاہے کسی ایمان والے کی طرف سے آئے.یاغیر ایمان والے کی طرف سے…اسی طرح نہ تو صرف قران کی بات کرنے والے کی بات درست ہے. اورنہ صرف حدیث کی بات کرنے والے کی بات درست ہے. درست بات اس کی ہے جو دونوں کوایک ساتھ دین اوردینی فکرکی بنیاد تسلیم کرتاہے. "یایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الأمرمنکم” *فکرصحیح کامعیار* دین کے اولین مخاطب صحابہ کرام ہیں. قران ان کی موجودگی میں اترا. ان کے مربی اوراستاد خود صاحب شریعت صلی اللہ علیہ وسلم تھے. ان کے قلوب اطاعت احکام سے لبریزتھے.اورجذبات ہماری سوچ سےبھی زیادہ مخلصانہ تھے.شریعت اوردین کےمعاملے میں ان کی فہم اوربصیرت عمیق اور اعلی تھی.اورہرحکم شرعی کاعملی تجربہ انھیں کی ذات سے ہوا.اگروہ نہ ہوتے توبعد کی دنیایہ جان بھی نہیں پاتی کہ احکام خداوندی پرعمل کیسے کیاجاسکتاہے.اوراحکام الہی اورکتاب وسنت ہیں کیا۔وہ لوگ نادان ہیں جو ان مقدس ہستیوں کواپنی سوچ اورفکرکےپیمانے پرتولنےکی کوشش اوران کی شان میں زبان درازی کرتےہیں.ان مقام ومرتبے کی بلندی کی شہادت رب نے دی .ان کا رتبہ نبی نے بیان کیا.ان کی زندگی کاعملی اورفکری معیاربنانے سے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتےہیں: "من کان مستنا فلیستن بمن قدمات.فان الحی لاتومن علیہ الفتنۃ. أولئک أصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کانواافضل ھذہ الأمۃ .ابرھاقلوبا.وأعمقھاعلما.واقلھا تکلفا. قوما اختارھم اللہ لصحبۃ نبیہ ولنقل دینہ .فأعرفوالھم فضلھم واتبعواعلی أثرھم.وتمسکوابمااستطعتم علی اخلاقھم وسیرھم .فانھم علی الھدی المستقیم”(جامع بیان العلم وفضلہ ج 1ص144.حلیۃ الاولیاء ج1 ص 305 . نیز شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ ). ترجمہ:اگرکوئی شخص کسی کی اتباع کرنا چاہے تو اسے چاہئیےکہ اس کی اتباع کرے جووفات پاچکےہیں .کیونکہ زندہ شخص کے بارے میں فتنےسے محفوظ ہونے کا یقین نہیں کیاجاسکتا..صحابہ کرام اس امت کے بہترین اورچنیدہ لوگ تھے..اللہ تعالی نے نبی کی صحبت اوراس دین کو منتقل اورمحفوظ کرنےکےلئیے انھیں منتخب کیاتھا .وہ دلوں کے پاکیزہ اورمخلص. علم میں گہرائی رکھنے والے اورتکلفات سے عاری تھے.اس لئے ان کی قدروقیمت کوپہچانوں.ان کے نقش قدم پرچلو.ان کے سیرت واخلاق کو اختیارکرو.کیونکہ یہی ہدایت اورصراط مستقیم پر گامزن لوگ تھے. یہ بات یادرکھئے دین واعتقاداورفہم شریعت میں بحث وتحقیق الگ چیزہے اور کسی منہج کوپیش نظررکھنا علاحدہ امرہے. ہماری سوچ .ہماری فکر اورفکرکامنہچ درست ہوناچاہئیے . یہ اصول بھی ذہن میں رکھئیے!*کوتاہی اورکاہلی کاعلاج توممکن ہے .مگرکج فکری کاکوئی علاج نہیں.اس کاعلاج اسی وقت ممکن ہے جب منہج مستقیم کے سانچے میں اسے سنواراجائیے* – جب فکرصحیح ہوگی توعمل بھی درست ہوگا. اگرفکرغلط ہوگی توعمل بھی غلط ہوگا. آج دنیامیں کڑوروں انسان پتھرپوج رہےہیں .یہ فکری غلطی کاہی تونتیجہ ہے.*بخاری اورمسلم میں قرب قیامت کی نشانیوں کے تذکرے میں یہ بات موجود ہے .کہ اس وقت دنیامیں بہت تھوڑے لوگ ایمان والے یعنی صحیح سوچ اورفکرکےافراد بچ جائیبں گے .پھر ایک ٹھنڈی ہواچلےگی اورایک ایک کرکے ان کابھی خاتمہ ہوجائےگا..اوردنیامیں بس شرپسند اورکج فکروبےایمان بچ جائیں گے.آپس میں ان کو خوب محبتیں ہوگی .وہ باہم شیروشکرہوں گے.اورپھر ان پردنیاکاخاتمہ ہوگا. جب صحابہ نے ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاکہ جنت میں کون لوگ جائیں گے توآپ علیہ السلام نے فرمایا :”جوتم میں سے اورتمہارے طریقےپرہوں گے”ہماری سوچ کی صحت کامعیار اورمنہج بس "مااناعلیہ واصحابی "ہے* کچھ لوگ سمجھتےہیں کہ قران وحدیث ہمارے سامنے مدون موجودہے .ہم ان کی روشنی میں دین کو اپنی ذہنی رسائی اورحرف شناسی کےبل بوتے صحابہ اورسلف صالحین سے ہٹ کر سمجھ لیں گے.یہ بھی حددرجے کی کج فکری ہے. .آج دنیامیں سب سے زیادہ فکری انتشارکاشکارہے.دین کےمعاملے میں مسلکی.گروہی اورفرقہ وارانہ تنوع اس قدرہےکہ اصل دین ہی ان کی نظروں سے اوجھل ہوچکاہے.ہرمکتب فکرکاحامل اپنے آپ کو صراط مستقیم کا راہی بتاتاہے.ایسے میں ایک سادہ ذہن انسان کے لئیے صحیح اورغلط میں امتیازکرنامشکل ہوگیاہے .پلے توشیعہ اورسنی اورپھر.اہل سنت میں دسیوں فرقے.شیعوں میں ان گنت فرقے..ایسے حالات میں صرف ایک ہی راستہ اورفکروعمل کا بچتاہے .نبی اوراصحاب نبی کا.اس سے ہٹ کرنہ کوئی فکرمحمودہے اورنہ کوئی عمل مقبول. ھذہ سبیلی وادعو الیہ.

Comments are closed.