بہار کے سرکاری امداد یافتہ مدارس کے ساتھ ناانصافی بند ہو — فرزانہ نوازش خانم

 

پٹنہ: سماجی کارکن فرزانہ نوازش خانم نے بہار حکومت اور محکمۂ تعلیم کی جانب سے سرکاری امداد یافتہ مدارس کی جانچ کے احکامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہار کے بیشتر مدارس پہلے ہی مالی تنگی، وسائل کی کمی اور انتظامی بے توجہی کا شکار ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ مدارس میں خدمات انجام دینے والے غریب مولوی، اساتذہ اور دیگر ملازمین محدود وسائل کے باوجود تعلیم کی خدمت میں مصروف ہیں۔ حکومت کی جانب سے نہ تو مناسب بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی مدارس کی ترقی و استحکام پر مطلوبہ توجہ دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں بار بار جانچ کے احکامات سے مدرسہ انتظامیہ اور اساتذہ کے درمیان خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔

 

فرزانہ نوازش خانم نے کہا کہ اگر کسی قسم کی جانچ ضروری ہے تو اسے مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور دیانت داری کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ جانچ کے نام پر کسی بھی غریب مولوی، استاد یا مدرسہ ملازم کو ہراساں کرنا یا ان سے غیر قانونی وصولی کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

 

انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار، وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری، وزیر تعلیم اور محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ مدارس کے حقیقی مسائل، جیسے عمارتوں کی تعمیر، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کے حقوق و مفادات کے تحفظ اور تعلیمی اداروں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ نیز یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ جانچ کا عمل بدعنوانی اور غیر ضروری ہراسانی کا ذریعہ نہ بنے۔

 

فرزانہ نوازش خانم نے مزید کہا کہ محکمۂ تعلیم کو ایسی پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں جن سے تعلیمی نظام مضبوط ہو، مدارس کی ترقی کو فروغ ملے اور غریب اساتذہ و مولوی حضرات کو عزت و وقار کے ساتھ اپنی خدمات انجام دینے کا موقع حاصل ہو۔

Comments are closed.