نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹس — جوئے اور اسراف کا بڑھتا فتنہ
فیض اسماعیل خطیب
کھیل انسان کی جسمانی صحت، ذہنی تازگی اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسلام بھی ان کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جن میں جسمانی قوت، چستی اور صحت برقرار رہے اور جن کے نتیجے میں انسان اپنے فرائضِ زندگی بہتر انداز میں انجام دے سکے۔ اسی بنیاد پر اگر کرکٹ یا کوئی بھی کھیل صرف صحت اور جسمانی فائدے کے مقصد سے، دینی حدود و آداب کی رعایت کرتے ہوئے کھیلا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل کرکٹ محض ایک کھیل نہیں رہا بلکہ ایک ایسا جنون بنتا جا رہا ہے جس نے خصوصاً ہمارے علاقے کوکن میں غیر معمولی صورت اختیار کر لی ہے۔ جگہ جگہ بڑے بڑے ٹورنامنٹس منعقد کیے جا رہے ہیں، جن پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ ان مقابلوں میں انٹری فیس لی جاتی ہے اور بھاری انعامات رکھے جاتے ہیں، جبکہ اکثر علمائے کرام نے واضح طور پر یہ فتویٰ دیا ہے کہ انٹری فیس لے کر انعامات پر مشتمل ٹورنامنٹس جوئے کی ایک شکل ہیں، اس لیے یہ ناجائز ہیں۔ کیونکہ ہر ٹیم اپنی رقم اس امید پر لگاتی ہے کہ وہ جیت کر زیادہ رقم حاصل کرے گی، جبکہ ہارنے والی ٹیموں کی رقم ضائع ہو جاتی ہے، اور یہی حقیقت جوئے کی بنیاد ہے۔
اگرچہ بعض حضرات نے اس کی جائز صورت نکالنے کی کوشش کی ہے، مثلاً یہ کہ انٹری فیس نہ ہو، نماز اور دیگر دینی امور کا مکمل خیال رکھا جائے، اور انعام کسی ایک فرد یا ادارے کی طرف سے رکھا جائے؛ لیکن اس کے باوجود بہت سے اہلِ علم نے موجودہ رائج صورتوں کو فتنہ، فضول خرچی اور دینی غفلت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ جامعہ حسینیہ عربیہ شریوردھن کے دارالافتاء (فقہ شافعی) سے بھی اس سلسلے میں فتویٰ جاری کیا گیا کہ اس طرح کے کرکٹ ٹورنامنٹس کا انعقاد کرنا جائز نہیں۔
آج کل ایک اور تشویشناک رجحان کوکن میں تیزی سے پھیل رہا ہے، وہ ہے “نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹس” کا کلچر۔ ان مقابلوں میں ایک لاکھ، دو لاکھ بلکہ تین لاکھ روپے تک کے انعامات رکھے جاتے ہیں۔ ہر گاؤں کی اپنی ٹیم ہوتی ہے، لیکن ٹیموں کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ باہر سے مشہور اور مہنگے کھلاڑی، جنہیں “آئیکان پلیئر” کہا جاتا ہے، اپنی ٹیم میں شامل کریں۔ ان کھلاڑیوں کی فیس پچیس ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ ان کے سفر، رہائش اور کھانے پینے کے تمام اخراجات بھی منتظمین یا ٹیم مالکان برداشت کرتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایک گاؤں سے دو دو، تین تین ٹیمیں بنائی جاتی ہیں اور صرف چند دن کے ٹورنامنٹ پر لاکھوں روپے خرچ کر دیے جاتے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں سرمایہ لگانے والوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کی ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مال کا صحیح استعمال ہے؟ کیا یہ اسراف اور مال کا ضیاع نہیں؟ جبکہ یہی رقم اگر دینی تعلیم، غریب طلبہ کی مدد، بیواؤں اور یتیموں کی کفالت، بیماروں کے علاج، مساجد و مدارس کی خدمت یا معاشرے کی فلاح و بہبود کے کاموں میں خرچ کی جائے تو وہ دنیا و آخرت دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
آج امت مسلمہ کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی صلاحیتیں، اپنا وقت اور اپنا سرمایہ کہاں صرف کر رہے ہیں۔ کھیل اگر صحت اور اعتدال کے دائرے میں رہے تو مفید ہے، لیکن جب وہ جنون، فضول خرچی اور دینی غفلت کا سبب بن جائے تو پھر اس پر غور و فکر کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو ایسے کھیلوں اور سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے جن سے نہ صرف جسمانی فائدہ ہو بلکہ وہ دینی، اسلامی و اخلاقی معیار کو بلند سے بلند تر کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں۔ اسی طرح معاشرے کے اہلِ خیر اور ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی دولت کو ایسے کاموں میں لگائیں جو قوم و ملت کے لیے نفع بخش سرمایہ بن سکیں ـ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعتدال، صحیح سوچ اور اپنی نعمتوں کو صحیح جگہ استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
فیض اسماعیل خطیب
Comments are closed.