حواسِ خمسہ اور قوتِ فکر
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ رابطہ نمبر 9506600725
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے
شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں بعض ایسی ہیں جن کی قدر انسان اس وقت کرتا ہے، جب وہ اس سے محروم ہو جاتا ہے۔ صحت، امن، وقت اور عقل کی طرح حواسِ خمسہ بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ دیکھنے کے لیے آنکھ، سننے کے لیے کان، سونگھنے کے لیے ناک، چکھنے کے لیے زبان اور محسوس کرنے کے لیے قوتِ لمس؛ یہ وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے انسان دنیا سے رابطہ قائم کرتا اور زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
آنکھوں کی بینائی انسان کو کائنات کے حسن سے آشنا کرتی ہے۔ کانوں کی سماعت علم و حکمت کے دروازے کھولتی ہے۔ زبان ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ناک خوشبو اور بدبو میں امتیاز کرتی ہے جبکہ قوتِ لمس انسان کو اپنے گرد و پیش کی اشیاء کا احساس دلاتی ہے۔ یہ تمام حواس دراصل زندگی کی آسائش، راحت اور لطف کے ذرائع ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک حس بھی کمزور ہو جائے تو زندگی میں ایک نمایاں خلا پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنی بڑی نعمت سے محروم ہو گیا ہے۔
یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ان حواس کا حصول ہمارا کوئی ذاتی استحقاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل و کرم ہے۔ ہم نہ ان کے خالق ہیں اور نہ ہی ان کی بقا پر قادر ہیں۔ جب یہ سب کچھ اللہ کی عطا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنے رب کا شکر گزار رہے اور ان نعمتوں کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرے جس جائز اور صحیح مقصد کے لیے اسے عطا کیا گیا ہے۔
لیکن اگر غور کیا جائے تو انسان کی زندگی میں ایک اور ایسی قوت موجود ہے، جو حواسِ خمسہ سے بھی زیادہ اہم اور فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ یہ قوتِ فکر، تدبر، عقل و شعور اور صحیح و غلط میں تمیز کی صلاحیت ہے۔ بظاہر یہ کوئی الگ حس دکھائی نہیں دیتی، لیکن حقیقت میں یہی وہ نعمت ہے، جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ آنکھ دیکھ سکتی ہے لیکن کیا دیکھنا ہے اور کس نظر سے دیکھنا ہے، اس کا فیصلہ عقل کرتی ہے۔ کان سن سکتے ہیں لیکن حق کو قبول کرنا یا باطل کو رد کرنا فکر و شعور کا کام ہے۔ زبان ذائقہ محسوس کر سکتی ہے مگر حلال و حرام میں فرق عقل ہی بتاتی ہے۔
انسان کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار دراصل اسی قوتِ فکر پر ہے۔ یہی قوت اسے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے، کائنات کے اسرار سمجھاتی ہے، خالقِ کائنات کی معرفت عطا کرتی ہے اور زندگی کے مقصد سے روشناس کراتی ہے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو تفکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے، کیونکہ جو انسان اپنی عقل اور بصیرت کو صحیح رخ پر استعمال کرتا ہے وہ حق کو پہچان لیتا ہے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔
حواسِ خمسہ کا تعلق زیادہ تر دنیاوی زندگی سے ہے۔ یہ دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ ہیں اور زندگی کے خاتمے کے ساتھ ان کا کردار بھی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن قوتِ فکر کے ذریعے اختیار کیا گیا ایمان، تقویٰ اور عملِ صالح انسان کے ساتھ آخرت تک جاتا ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو جنت کی کامیابی اور دائمی فلاح کا سبب بنتا ہے۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اپنی عقل و شعور کو حق کی تلاش میں استعمال کیا، جبکہ جہنم ان لوگوں کا انجام ہے جنہوں نے اپنی خواہشات کو عقل و ہدایت پر غالب کر دیا۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ انسان نے اپنی ظاہری صلاحیتوں کو تو بہت ترقی دے دی ہے مگر اپنی فکری اور اخلاقی قوت کی آبیاری سے غافل ہو گیا ہے۔ علم بڑھ رہا ہے مگر حکمت کم ہو رہی ہے، معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر بصیرت کا فقدان ہے۔ ایسے ماحول میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ انسان اپنی اس ’’چھٹی حس‘‘ یعنی قوتِ فکر و تدبر کو بیدار رکھے، اسے قرآن و سنت کی روشنی سے منور کرے اور ہر معاملے میں حق و باطل، خیر و شر اور جائز و ناجائز کے درمیان صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے حواسِ خمسہ میں نہیں بلکہ اس عقل و شعور میں ہے جو اسے اپنے رب کی معرفت تک پہنچاتا ہے۔ یہی قوت اسے محض زندہ رہنے والے انسان سے ایک باکردار، باشعور اور کامیاب انسان بناتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تمام نعمتوں خصوصاً قوتِ فکر کی قدر کریں، اسے صحیح سمت میں استعمال کریں اور اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کو یقینی بنائیں۔ یہی فوز و فلاح کا راستہ ہے اور یہی انسان کی حقیقی تقدیر ہے۔
ایک صاحب علم نے اسی حقیقت کو اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے: کہ
"انسان کے جسم میں خصوصی طور پر پانچ ممتاز صلاحیتیں پائی جاتی ہیں- ان صلاحیتوں کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے- وه پانچ ممتاز صلاحیتیں یہ ہیں—- دیکهنا، چهونا، چکهنا، سونگهنا اور سننا-
یہ پانچ حواس، دراصل پانچ مقامات لذت ہیں- ان میں سے ہر ایک صلاحیت کے اندر خالق نے بے پناه لذت رکهی ہے- انسان کے لیے دیکهنا بهی ایک انتہائی لذیذ تجربہ ہے، چهونا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے، چهکنا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے، سونگهنا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے اور سننا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے- اس کائنات میں کسی بهی دوسری مخلوق کے اندر،بشمول حیوانات، ان لذتوں سے انجوائے کرنے کی صلاحیت نہیں- یہ صرف انسان کی استثنائی صفت ہے کہ وه کسی چیز سے انتہائی لطیف قسم کی محظوظیت حاصل کر سکتا ہے-
اسی کے ساتهہ انسان کے اندر چهٹی حس بهی موجود ہے- یہ چهٹی حس سوچنے کی صلاحیت ہے- یہ چهٹی حس، انسان کے لیے سب سے زیاده اعلی لذت کے حصول کا ذریعہ ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ سوچنا، انسان کی ایک انوکهی صفت ہے- سوچنا، انسان کے لیے اتهاه لذت کا خزانہ ہے- سوچنے کا فعل بظاہر دکهائی نہیں دیتا، مگر وه انسان کو ایسی سپر لذت دیتا ہے جس کا حصول کسی بهی دوسری چیز کے ذریعے ممکن نہیں-
اسی کی ساتهہ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان ان لذتوں کو تو محسوس کرتا ہے، لیکن وه موجوده دنیا میں ان لذتوں کی تسکین کا سامان نہیں پاتا- ہر آدمی بے پناه لذتوں کے ساتهہ پیدا هوتا ہے اور پهر تهوڑی مدت کے بعد ہر عورت اور ہر مرد غیر تکمیل شده خواہشات کے ساتهہ مر جاتے ہیں-
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے پاس خواہشیں ہیں، لیکن یہاں اس کے لیے خواہشات کی تکمیل کا سامان موجود نہیں- یہ حقیقت اس بات کا حتمی اشاره ہے کہ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، ان خواہشات کی تکمیل کا سامان، قبل از موت مرحلہ حیات میں نہیں رکها گیا، بلکہ وه بعد از موت مرحلہ حیات میں رکها گیا ہے-یہ خواہشیں انسان کو اس لیے دی گئی ہیں کہ وه حقیقت حیات کو سمجهے اور اس کے مطابق، وه اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے”-
Comments are closed.