ھجری کیلنڈر،ہماری قومی پہچان

 

شمع فروزاں

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف الله رحمانی دامت برکاتہم

صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

 

اسلامی کیلنڈر ’’ ہجری کیلنڈر‘‘ کہلاتا ہے ، پیغمبر اسلام ﷺکے واقعہ ہجرت کی طرف اس کی نسبت ہے، عربی زبان میں ’’ ہجر‘‘ کے معنی چھوڑ نے کے ہیں ، اسی سے ہجرت کا لفظ ماخوذ ہے ، ہجرت ایک اسلامی اصطلاح ہے ، ایمان کی حفاظت یاد ین کی اشاعت کی غرض سے ترکِ وطن کرنے کو ’’ہجرت ‘‘ کہتے ہیں ، ’’ تارکین وطن‘‘ آج کل ایک بین الاقوامی اصطلاح ہے ، ہرملک میں تارکین وطن موجود ہیں ، ترقی یافتہ ممالک میں ان کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے ، یہ وہ تارکین وطن ہیں ، جنھوں نے معاشی اور سیاسی مقاصد کے تحت اپنا وطن چھوڑا ہے ، ان کو مہاجرین کہنا ’’ ہجرت ‘‘ کے مقدس لفظ کے ساتھ نا انصافی ہے ۔

ہجرت در اصل پیغمبروں کی سنت ہے ، شاید ہی کوئی پیغمبر ہو، جس کو ہجرت نہ کرنی پڑی ہو ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام وغیرہ کی ہجرت کے واقعات تو خود قرآن مجید میں مذکور ہیں ؛ لیکن تاریخ میں ہجرت کے نام سے جو شہرہ آپ ﷺ کی ہجرت کو ہوا ، کسی اور پیغمبرکی ہجرت کو وہ شہرت حاصل نہیں ہوئی ، آپ ﷺ ۵۷۱ء میں پیدا ہوئے اور ٹھیک ۴۰ ؍ سال کی عمر یعنی ۶۱۱ء میں آپ ﷺکو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا ، آپ ﷺکی صداقت و دیانت اور اخلاقی خوبیوں کا پورے مکہ میں چرچا تھا ، آپ ﷺ نے اپنا بچپن اور جوانی اسی مکہ میں گزارا ، نبوت کے بعد آپ ﷺکے خلاف لوگوں نے ہر طرح کی ایذاء رسانی کا راستہ اختیار کیا ؛ لیکن کوئی انگلی نہ تھی، جو آپ ﷺ کے کردار پر اُٹھے ، اور کوئی زبان نہ تھی، جو آپ ﷺ کی دیانت و پاکیزگی پر کھلے ۔

۱۳ ؍ سال آپ ﷺ نے مکہ میں دعوتِ دین کی جد و جہد فرمائی ، یہ ۱۳ ؍ سال ایسے گزرے کہ شب و روز آپ ﷺبے قرار رہتے کہ کسی طرح اللہ کے بندے اللہ کو پالیں اور صحیح راستہ کی طرف آجائیں ، پورا دن آپ ﷺ گلیوں ، کوچوں اور بازاروں میں گھوم گھوم کر دعوت دینے میں گزارتے ، ایک ایک دروازہ پر پہنچتے اور دروازۂ دل کو دستک دیتے ، ایک ایک شخص سے ملتے اور اس کی خوشامد فرماتے ؛ لیکن بہت کم لوگ تھے ، جنھوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، اکثریت ان لوگوں کی تھی کہ حق کی روشنی ان کے سامنے دو پہر کی دھوپ کی طرح کھل کر آگئی ، مگر بت پرستی اور بے دینی کو چھوڑ نے پر وہ آمادہ نہیں تھے ؛ کیوںکہ یہی ان کے آباء واجداد کا مذہب تھا ، اس درمیان کوئی تکلیف نہ تھی جو آپ ﷺ کو پہنچائی نہ گئی ہو ، آپ ﷺکا پورے خاندان سمیت بائیکاٹ کیا گیا ، مسلمان لقمہ لقمہ کو ترستے تھے، اور آپ ﷺاپنے اہل خاندان کے ساتھ درخت کے پتے اور چھال تک کھانے پر مجبور تھے ، جسم اقدس پر اونٹ کی اوجھ اور غلاظت ڈال دی گئی ، گلے میں پھندہ ڈال کر جان لینے کی کوشش کی گئی ، راستہ میں کانٹے بچھائے گئے ، جملے کسے گئے اور تالیاں پیٹی گئیں ، آپ ﷺ کو فاتر العقل اور جادو گر مشہور کیا گیا ۔

نبوت کے سال آپ ﷺنے طائف کا رخ کیا ، شاید ان کو قبولِ اسلام کی توفیق ہو ؛ لیکن طائف کی زمین مکہ سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئی ، انھوں نے نہ صرف انکار کیا ؛ بلکہ آپ ﷺ کے پیچھے اوباش لڑکوں کو بھی لگادیا ، یہ آپ ﷺپر پتھر پھینکتے ، خاک اُڑاتے ، ہنستے اورتمسخر کرتے ، جسم لہو لہان ہوگیا ، نعلین مبارکین میں خون جم گیا ، گھٹنے زخمی ہوگئے ، آپ ﷺ بیٹھ جاتے ، تو یہ آپ ﷺ کو کھڑا کر دیتے ، حضرت زید بن حارثہؓ ساتھ تھے ، انھوں نے آپ ﷺ کو کاندھوں پر اُٹھالیا اور ایک باغ کی پناہ لی ، ٹوٹے ہوئے دل اور اشکبار آنکھوں سے آپ ﷺ خدا کی طرف متوجہ ہوئے ، جب مطمئن ہوگئے تو بڑی پُر درد دُعاء فرمائی ، آپ ﷺ نے فرمایا :

الٰہا ! اپنے ضعف و بے سروسامانی اور لوگوں کے مقابلہ میں اپنی بےبسی کی فریاد آپ ہی سے کرتا ہوں ، آپ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں ، درماندہ بے کسوں کے پروردگار آپ ہی ہیں ، آپ ہی میرے مالک ہیں ، آخر آپ مجھے کس کے حوالے کر رہے ہیں ؟ کیا اس حریف بے گانہ کے جو مجھ سے ترش روئی روا رکھتا ہے ، یا ایسے دشمن کے جو میرے معاملہ پر قابو رکھتا ہے ؛ لیکن اگر مجھ پر آپ کا غضب نہیں ہے تو پھر مجھے کچھ پرواہ نہیں ، بس آپ کی عافیت میرے لئے زیادہ وسعت رکھتی ہے ، میں اس بات کے مقابلہ میں کہ آپ کاغضب مجھ پر پڑے ،یا آپ کا عذاب مجھ پر نازل ہو ، آپ ہی کے نور جمال کی پناہ مانگتا ہوں ، جس سے ساری تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور جس کے ذریعہ دین و دنیا کے تمام معاملات سنور جاتے ہیں ، مجھے تو آپ کی رضامندی اورخوشنودی مطلوب ہے ، آپ کے سوا کہیں سے کوئی قوت و طاقت نہیں مل سکتی ۔

خدا کی قدرت دیکھئے کہ ایمان اور اسلام کا جو تخم آپ ﷺ نے مکہ اور طائف کی سرزمین میں بویا تھا ، اللہ اس سے اہل مدینہ کے دلوں کو بار آور فرما رہا تھا ، بارش کہیں اور ہو رہی تھی اور ایمان کا آب حیات کہیں اور جمع ہو رہا تھا ، حج کے موقع سے مدینہ کے لوگ مکہ آئے ، ان کے کان آپ اکی دعوت کی طرف متوجہ ہوئے ، وہ مخلص اور حق کے متلاشی تھے ، ضد اوراکڑ نہ تھی ، اس لئے فوراً ہی کانوں سے دلوں تک کا فاصلہ طے ہوا ، ایمان لائے اور اہل ایمان کو پناہ دینے کا عہد بھی کیا ، مکہ کی زمین بتدریج اہل ایمان پر تنگ سے تنگ تر ہوتی جاتی تھی ، بعض مسلمانوں کو گلے میں پھندا ڈال کر گرم ریتوں پر گھسیٹا جاتا ، بعضوں کو سلگتے ہوئے شعلوں پر لٹایا جاتا اور ان کے جسم سے رسنے والے لہو سے آگ بجھائی جاتی ، کسی کو دُھوئیں کی دُھونی دی جاتی ، بعضے تو بے رحمی سے شہید ہی کر دیئے گئے ۔

لیکن مجال نہ تھی کہ دامنِ صبر مسلمانوں سے چھوٹ جائے اور حکم خداوندی کے بغیر وہ اپنے طور سے فیصلہ کریں ، آخر خود خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ آجائیں ، مسلمان آہستہ آہستہ مدینہ آنے لگے اور صرف وہی مکہ میں رہ گئے ، جو یہاں سے جا نہیں سکتے تھے ؛ لیکن آپ ﷺابھی تک مکہ ہی میں مقیم تھے اور اپنے بارے میں حکم خداوندی کے منتظر ، اسلام کے دشمنوں نے آپ ﷺکے قتل کا منصوبہ بنا یا ، ہر قبیلہ سے ایک ایک نمائندہ لے کر درِ دولت کا محاصرہ کر لیا ، ادھر خدا کی طرف سے صورتِ حال سے آپ ﷺ کو آگاہ فرمایا گیا ، آپ ﷺپورے اطمینان کے ساتھ کچھ آیتیں پڑھتے ہوئے اور ایک مشت ِغبار محاصرین پر پھینکتے ہوئے باہر نکل آئے اور چھپتے چھپاتے کچھ دنوں میں مدینہ تشریف لائے ، آپ ﷺ کے سر دھڑ پر انعام مقرر ہوا ، پیچھا کرنے والوں نے پیچھا کی اور اپنے تئیں آپ ﷺکی اورآپ ﷺ کے رفیق خاص حضرت ابو بکرؓ کی جان لینے کی کوشش میں کوئی کسر نہ رکھی ، مگر خدا کی تدبیر کے سامنے ساری تدبیریں اکارت گئیں اور نبوت کا جو آفتاب مکہ میں طلوع ہوا تھا ، مدینہ میں مہر نیم روز بن کر روشن ہوا ۔

آپ ﷺجب مدینہ میں داخل ہوئے تو جشن کا منظر تھا ، بچے ، بوڑھے ، جوان ، مرد اورعورت ، آقا اور غلام ، بڑے اور چھوٹے ، دل اور آنکھیں بچھائے پروانہ وار کھڑے تھے ، زبان پر استقبالیہ نغمے ، نگاہانِ شوق بے تاب ، یاتو مکہ کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ تھی یا پھر مدینہ نے دل و جگر راہوں میں بچھا رکھے تھے ، مہاجرین کے لٹے پٹے قافلوں کو اہل مدینہ نے اپنے یہاں جگہ دی ، گھر دیا ، دَر دیا ، کھیت اور باغات نثار کئے اور سب سے بڑھ کر اتھاہ محبت اورپیار کی سوغات دی ، اہل مدینہ نے جو ایثار کیا ، شاید ہی انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال مل سکے ، اہل مکہ کی قربانیاں بھی کچھ کم نہ تھیں ، گھر چھوڑا ، وطن چھوڑا ، وطن کی فضاؤں کو خیر باد کہا ، اعزہ واقرباء کی محبت قربان کی اور اپنی پوری دنیا سے منھ موڑ کر ایک ایسی منزل کو چل پڑے جہاں اجنبیت سے سابقہ تھا اور مستقبل موہوم تھا ؛ اس لئے آپ آپ ﷺنے مکہ سے ترک وطن کر کے آنے والوں کو ’’ مہاجرین ‘‘ اور مدینہ کے رہنے والوں کو ’’ انصار ‘‘ کا نام دیا ، مہاجرین کے معنی ہیں ’’ دین کے لئے ترک وطن کرنے والا ‘‘ اور ’’ انصاری‘‘ کے معنی ہیں اہل ایمان کی مدد ونصرت کرنے والا ، مسلمانوں میں ان دو طبقوں کے سوا کسی تیسرے طبقہ کا تصور نہیں ، نہ ذات پات کا ، نہ قبیلہ اور برادری کا ، نہ ملک اور صوبہ کا ، نہ زبان کا ، کوئی اور تقسیم نہیں جو اللہ تعالیٰ کو گوارا ہو ۔

ہجرت کا یہ واقعہ ایک طرف مسلمانوں کی قربانی اور دین کی حفاظت و اشاعت کے لئے پیغمبر اسلام ﷺاور ان کے رفقاء عالی مقام کے ایثار و فدا کاری کی یاد گار ہے اور دوسری طرف آئندہ اسلام کو جو فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوئیں ، ان کا مقدمہ ، یہ محض مکہ سے مدینہ کی طرف سفر نہیں تھا ؛ بلکہ مغلوبیت سے غلبہ و ظہور کی طرف اور مقہوریت سے طاقت و شوکت کی طرف سفر تھا ، بظاہر مسلمانوں پر زمین تنگ ہو رہی تھی ؛ لیکن خدا نے اسی تنگی میں آفاق کی وسعت کو سمو رکھا تھا ، یہ واقعہ نااُمیدیوں میں اُمید کی کرن سے روشناس کرتا ہے اور حوصلہ شکن حالات میں اُمید و حوصلہ کا چراغ جلاتا ہے ، اور اس بات کو بھی یاد دلاتا ہے کہ کیسی کیسی قربانیوں اور جانثاریوں سے خدا کے اس دین کو سربلند کیا گیا ہے ، اور کس قدر خون و لہو کے ذریعہ حق وصداقت کے اس شجرۂ طوبیٰ کی آبیاری فرمائی گئی ہے ؟

حضرت عمرؓ کے سامنے بحیثیت خلیفہ ایک فائل آئی ، جس میں تاریخ درج تھی ، سال درج نہ تھا ، آپ ؓ کو خیال ہوا کہ مسلمانوں کا اپنا کیلنڈر ہونا چاہئے ، آپ ؓ نے مجلس شوریٰ میں یہ تجویز رکھی اور غالباً حضرت علی ؓ کی رائے پر فیصلہ ہوا کہ اسلامی کیلنڈر واقعۂ ہجرت پر مبنی ہونا چاہئے ؛ چنانچہ مہینوں کی ترتیب وہی قائم رہی جو اسلام سے پہلے عربوں میں مروج تھی ، محرم سے آغاز اور ذوالحجہ پر اختتام اور سال کا آغاز واقعۂ ہجرت کے سال سے مانا گیا ، اس طرح ۱۴۴۷ھ کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺکے واقعۂ ہجرت کو اتنے سال گزر چکے ۔

کیلنڈر بھی کسی قوم کی اپنی شناخت ہوتی ہے ، اس سے قوم و ملت کی تاریخ وابستہ ہوتی ہے ، ہجری کیلنڈر پر غور کر جائیے ، اس میں اکثر مہینوں کے نام وہ ہیں ، جو اسلامی عبادات اورمسلمانوں کی مذہبی روایات کی نشان دہی کرتے ہیں اور نام ہی سے ان مہینوں سے متعلق عبادات اور واقعات کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے ، دوسری قوموں کے جو کیلنڈر مروج ہیں ، وہ بھی ان کے مذہبی افکار و روایات کے مظہر ہیں ، یہی حال مہینوں اور ہفتوں کے نام کا ہے ، مثلاً : Sunday اور Monday کے الفاظ ہی پر غور کیجئے ، ان کے معنی ہیں سورج کے دن اورچاند کے دن ؛ چوںکہ اہل یونان کے یہاں ایک دن سورج کی پرستش کے لئے مقرر تھا اورایک دن چاند کی پرستش کے لئے ، اسی لئے مختلف دیوتاؤں کے نام سے دنوں کے نام ہوا کرتے تھے ، کچھ اسی طرح کا معنی مہینوں کے نام کے پیچھے بھی کار فرما ہے ، اسی لئے حضرت عمرؓ نے ان کیلنڈروں کو قبول نہیں فرمایا ، جو اس زمانہ میں مروج تھے ۔

پس اسلامی کیلنڈر مسلمانوں کی اپنی ایک پہچان ہے ؛ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کیلنڈر کو رواج دیں اور آنے والی نسلوں کو اس کے پس منظر اور اس کی دینی و ملی حیثیت سے واقف کرائیں ، علماء نے لکھا ہے کہ ہجری کیلنڈر کے چلن کو باقی رکھنا اور اس کی ترویج کی سعی کرنا فرض کفایہ یعنی اُمت کا اجتماعی فریضہ ہے ، یہ کیلنڈر ہمیں ہمارا تشخص یاد دلاتا ہے ، اور ہجرت کے عبرت آمیز اور موعظت انگیز واقعہ کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے ۔

Comments are closed.