اردو کا ایک مخلص دوست اور انسانیت کا ہمدرد ہم سے جدا ہوگیا: فرید احمد خان
ممبئی(پریس ریلیز) معروف سماجی و سیاسی رہنما، انسانیت نواز شخصیت اور اردو زبان و ادب کے سچے محب جناب ارشد صدیقی صاحب کے انتقال کی خبر نے اردو حلقوں سمیت تمام اہلِ فکر و عمل کو غم زدہ کر دیا ہے۔
ارشد صدیقی صاحب کی شخصیت کئی جہتوں کی حامل تھی۔ وہ جہاں سماجی اور سیاسی میدان میں اپنی نمایاں شناخت رکھتے تھے، وہیں اردو زبان و ادب سے بھی گہری محبت رکھتے تھے۔ اردو کے پروگراموں میں ان کی شرکت، اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور اردو کتابوں سے ان کی دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ وہ اردو کو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت سمجھتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار اردوکارواں کے صدر فرید احمد خان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کیا.
انہوں نے مزید کہا کہ اردو کتاب میلوں میں ان کی شرکت ہمیشہ باعثِ حوصلہ ہوا کرتی تھی۔ وہ بڑی تعداد میں کتابیں خرید کر مختلف لائبریریوں، تعلیمی اور تحقیقی اداروں تک پہنچایا کرتے تھے تاکہ نئی نسل تک اردو علم و ادب کا سرمایہ پہنچ سکے۔
فرید احمد خان نے بتایا کہ مجھے ذاتی طور پر اس کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ چند برس قبل جب ممبئی کے باندرہ کرلا کمپلیکس (BKC) میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کی جانب سے اردو کتاب میلے کا انعقاد ہوا، تو ارشد صدیقی صاحب نے اردو سے اپنی محبت کا عملی ثبوت دیتے ہوئے تقریباً ایک لاکھ روپے کی کتابیں خریدیں اور انہیں مختلف تعلیمی و تحقیقی اداروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔
یہ صرف کتابوں کی خریداری نہیں تھی بلکہ اردو کے مستقبل، طلبہ اور تحقیق کے فروغ کے لیے ایک مخلصانہ خدمت تھی۔ ایسے لوگ زبانوں کو زندہ رکھنے میں خاموش مگر تاریخ ساز کردار ادا کرتے ہیں۔
ارشد صدیقی صاحب جیسے لوگ کسی ایک شعبے سے وابستہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے کردار، خلوص اور خدمت سے کئی نسلوں پر اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ آج ممبئی کے اردو والے ایک ایسے محبِ اردو سے محروم ہوگئے ہیں جو مشکل وقت میں دھوپ میں گھنی چھاؤں کی مانند ان کے ساتھ کھڑا رہتا تھا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم ارشد صدیقی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کی سماجی اور ادبی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، ان کے درجات بلند فرمائے اور تمام پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین
Comments are closed.