ایم ایل اے پورے سماج کا نمائندہ ہوتا ہے، کسی ایک برادری کو نشانہ بنانا افسوسناک: نظرعالم
دربھنگہ: آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر اور جنتادل (یونائیٹڈ) کے رکن نظرعالم نے کیوٹی کے رکنِ اسمبلی مراری موہن کی جانب سے کیوٹی تھانہ احاطے میں دیے گئے دھرنے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک عوامی نمائندے کا فرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل اور ان کی آواز کو بلند کرے، اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔
لیکن اگر کسی دھرنے یا عوامی جلسے میں کسی خاص ذات یا مذہب، خصوصاً مسلم برادری، کو نشانہ بنایا جائے، ان کے خلاف نامناسب تبصرے کیے جائیں یا ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے سماجی کشیدگی اور نفرت کو فروغ ملے، تو یہ انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔
بہار میں وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری اور سابق وزیرِ اعلیٰ و رکنِ راجیہ سبھا نتیش کمار کی قیادت اور رہنمائی میں سماجی ہم آہنگی، قانون کی حکمرانی اور ترقی کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی عوامی نمائندے کو ایسی زبان اور طرزِ عمل سے گریز کرنا چاہیے جس سے حکومت، پارٹی اور سماجی ہم آہنگی کی شبیہ متاثر ہو۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ یہی مقامی کیوٹی تھانہ ہے جہاں رکنِ اسمبلی مراری موہن کئی مواقع پر مختلف مقدمات میں ملزم اور جرائم پیشہ عناصر کی سفارش کرتے رہے ہیں۔ اگر آج یہی تھانہ قانون کے مطابق کام کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے اور کسی کے ناجائز دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے، تو اس کے خلاف اس طرح کا دھرنا دینا اور ماحول بنانا ہرگز مناسب نہیں۔ عوامی نمائندوں کو ایسی سطحی اور سیاسی مفاد پر مبنی سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ایک رکنِ اسمبلی پورے اسمبلی حلقے کا نمائندہ ہوتا ہے، کسی ایک ذات یا مذہب کا نہیں۔ مراری موہن کے بیان سے مسلم برادری کے جذبات مجروح ہوئے ہیں انہیں عوامی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔
انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے مذہبی بنیادوں پر معاشرے کو تقسیم کرنے یا فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ عوام ترقی، انصاف اور باہمی بھائی چارے کی سیاست چاہتے ہیں، نہ کہ ہندو مسلم کے نام پر معاشرے کو تقسیم کرنے کی سیاست۔
Comments are closed.