جومعاشرہ دنیامیں علم بانٹنےکےلئے برپاہواتھاوہی علم سےپیچھےکیسےرہ گیا؟

 

مفتی احمد نادر القاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

تنظیم برائےتعلیم،سائنس اورکلچر(ایسسکو)کی رپورٹ کےمطابق عالم عربی میں 2014میں شرح ناخواندگی پچاس فیصد جن میں 40فیصد مردناخواندہ اور65فیصد خواتین ناخواندہ رہیں. 2017 میں 21 فیصد مصر میں 25آشاریہ 8 فیصد مغرب میں 30 فیصد پاکستان میں ناخواندگی کی شرح 42فیصد اورافغانستان میں خواتین کی ناخواندگی کی شرح 68فیصد اورمردوں میں 40 فیصد رہی .(واقع الفکری التربوی الاسلامی وسبل اصلاحہ ص 511عربی ایڈیشن)

اورخودہمارے ملک بھارت میں سچرکمیٹی کی رپورٹ دیکھ لیئجے.کتنی تشویش ناک ہے.غالبا 64فیصد یادآرہاہے. غورفرمائیں جس ملک میں آج کی علمی دنیامیں ناخواندگی کی یہ شرح ہو بھلاوہ ملک اورمعاشرہ اپنے مسائل کیسے حل کرسکتاہے.ان ملکوں پرتعلیم یافتہ اورٹکنالوجی سے آراستہ ممالک اورافراد کاقبضہ نہیں ہوگا تو اور کیاہوگا. یہی بات قریب قریب مرحوم شیخ زائد بن نہیان نے بھی کہی تھی. بلکہ ان کایہ جملہ جگہ جگہ لکھاہوا اورضرب المثل ہے..مسلمانوں کی شرح خواندگی کودیکھ کرروح کانپ جاتی ہے. ہم خواہ مخواہ صرف تیل کی دولت کونظیربناکر ان کوامریکہ کی غلامی کاطعنہ دیکر کوستےہیں. ان کی اندرونی کمزوری کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی. امریکہ، یورپ، فرانس، رشیا چائنا جیسےممالک ان کی اس ناخواندگی پرایک طرف ترس کھاکران کوتعلیم سےدور اورایک تعلیم کی محتاج کمیونٹی تصور کرتے ہیں. تودوسری طرف ان کی اس ناخواندگی کی کمزوری کافائدہ اٹھاکر ان پرحکمرانی کررہےہیں. آج اگرعرب اور مسلم دنیا تعلیم یافتہ ہوتی تو کسی قیمت پر امریکہ ان پرحکمرانی نہ کررہاہوتا.اس سےپتہ چلاکہ دنیاکی زندگی میں سب سے بڑی کمزوری اورپسماندگی کی جڑ جہالت ہے.

آج دنیاکی عالمی مسلم برادری کودیکھ کراندازہ ہوتاہے.ڈاٹاکےحساب سے کچھ کم زیادہ ہوسکتاہے کہ مسلمانوں میں کم ازکم 70فیصد افراد دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم اورشعوری زندگی سے محروم ہیں.اورصرف روایتی زندگی جی رہے ہیں.لوگ درست کہتےہیں. اگردنیامیں ترقی کرنی ہے اورشان سے زندہ رہناہے توتعلیم میں آگےبڑھو،دنیاخودبخودتمہارےقدموں میں آگرےگی.اب بات سمجھ میں آئی کہ آخر عرب ممالک میں امریکہ، فرانس، برطانیہ اوردوسرے ملکوں کی اپنے اپنے تعلیمی ادارے اوران کی اپنی شرطوں پر کھولنے کی کیوں دوڑلگی ہوئی ہے.مسلمانوں کوسب سے پہلے جہالت اور ناخواندگی کے خلاف جہاد چھیڑناہوگا. ہرچیلنج کوقبول کرناہوگا.تب ہی کھویا ہواوقارواپس آسکتاہے.

Comments are closed.