ظلم پر خاموشی بھی جرم ہے
از:- جاوید اختر حلیمی
بعض اوقات ظلم صرف تلوار کی دھار پر نہیں اترتا، وہ خاموش ہونٹوں، جھکی ہوئی نگاہوں اور مصلحت کی دبیز چادروں میں بھی اپنی پناہ گاہیں تلاش کر لیتا ہے۔ جب حق گوئی کے چراغ بجھا دیے جاتے ہیں اور اہلِ ضمیر اپنی زبانوں پر خاموشی کے تالے لگا لیتے ہیں، تب ظالم کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ پھر جبر صرف ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ ایک رویہ بن جاتا ہے، ایک سوچ بن جاتا ہے، اور آہستہ آہستہ پورے معاشرے کی روح کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ظلم کی عمر کو سب سے زیادہ طول دینے والی چیز مظلوم کی بے بسی سے زیادہ، اہلِ حق کی خاموشی ہوتی ہے۔ جب ظلم کے خلاف بولنے والے کم ہو جائیں تو ظالم خود کو بے خوف سمجھنے لگتا ہے۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس کے ہاتھوں سے بہنے والے خون کا حساب لینے والا کوئی نہیں، اس کی درندگی پر سوال اٹھانے والا کوئی نہیں، اور اس کی سنگ دلی کو للکارنے والا کوئی نہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جو لوگ کل تک اہنسا، رواداری اور عدمِ تشدد کے ترانے گاتے تھے، آج انہی کے درمیان نفرت کے شعلے بھڑکتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہجوم اچانک قانون سے بڑا ہو جاتا ہے، سڑکیں عدالتوں کا کردار ادا کرنے لگتی ہیں اور مشتعل بھیڑ کسی نہتے انسان کی جان لینے کو اپنا حق سمجھنے لگتی ہے۔ یہ محض ایک انسان کا قتل نہیں ہوتا بلکہ آئین، انصاف اور انسانیت کے چہرے پر ایک گہرا طمانچہ ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مظلوم کی شناخت بھی اب انصاف کے پیمانے بدلنے لگی ہے۔ اگر ظلم کا شکار کوئی مسلمان ہو تو اکثر خاموشی چھا جاتی ہے، جیسے انسانی جان کی حرمت کا معیار بدل گیا ہو۔ لیکن جب حالات کا رخ دوسری طرف ہو تو میڈیا کی سرخیاں جاگ اٹھتی ہیں، سیاسی بیانات کی بارش ہونے لگتی ہے اور سماجی کارکن انصاف کے نام پر میدان میں اتر آتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار معاشرے کے ضمیر کو زخمی کرتا ہے۔ آج کہیں گھروں پر بلڈوزر چل رہے ہیں، کہیں دکانیں راکھ کا ڈھیر بن رہی ہیں، کہیں بے قصور لوگ تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں اور کہیں مدارس پر شدت پسندی اور غیر قانونی تعمیرات کے الزامات لگا کر انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن یہی پیمانہ ہر جگہ یکساں کیوں نہیں اپنایا جاتا؟ اگر جرم کسی فرد کا ہے تو سزا اداروں اور پوری برادریوں کو کیوں دی جاتی ہے؟ انصاف کی اصل روح تو یہی ہے کہ وہ تعصب سے پاک اور سب کے لیے یکساں ہو۔ یہ وقت جذباتی نعروں سے زیادہ اجتماعی شعور کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ظلم کے خلاف ہماری آوازیں خاموش رہیں گی تو ظلم کے قدم مزید مضبوط ہوں گے۔ آج جو آگ دوسروں کے گھروں تک محدود محسوس ہوتی ہے، کل وہ ہمارے دروازوں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ظلم کی کوئی مستقل سرحد نہیں ہوتی؛ وہ خاموش معاشروں کو اپنی آسان شکارگاہ سمجھتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خوف کے حصار توڑے جائیں۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حق کی بات کہی جائے۔ نفرت کے مقابلے میں انصاف، تعصب کے مقابلے میں مساوات اور جبر کے مقابلے میں انسانیت کی آواز بلند کی جائے۔ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا بغاوت نہیں، بلکہ ایک مہذب اور زندہ معاشرے کی علامت ہے۔ ملک کی تمام انصاف پسند قوتوں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور اقلیتی اداروں کو چاہیے کہ وہ مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کریں۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر انسانی وقار اور آئینی انصاف کے تحفظ پر سب کو متحد ہونا ہوگا۔ کیونکہ جب سماج کی بنیادیں ہی متزلزل ہو جائیں تو پھر ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے تمام خواب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ میں اس بات پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ ظلم کسی کے خلاف بھی ہو، وہ انسانیت کے وجود پر حملہ ہے۔ مظلوم کا مذہب نہیں دیکھا جانا چاہیے، اس کی آہ سنی جانی چاہیے؛ اس کی قومیت نہیں پوچھی جانی چاہیے، اس کے زخم محسوس کیے جانے چاہئیں۔ انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں اور ہر ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلند کریں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم نہ ظلم کریں گے، نہ ظلم کا ساتھ دیں گے اور نہ ظلم پر خاموش رہیں گے۔ کیونکہ خاموشی بعض اوقات ظالم کی سب سے مضبوط ڈھال بن جاتی ہے، جبکہ حق کے لیے بلند ہونے والی ایک سچی آواز آنے والی نسلوں کے لیے انصاف، امن اور انسانیت کی نئی راہیں متعین کر سکتی ہے۔
Comments are closed.