فیض احمد قتل معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ تیز، بہار ریاستی اقلیتی کمیشن کو یادداشت پیش

 

دربھنگہ: آل انڈیا مسلم بیداری کارواں، بہار کی جانب سے دربھنگہ کے مشہور فیض احمد قتل معاملہ (کیس نمبر: 90/26، تھانہ APM، دربھنگہ) کی غیر جانبدارانہ، گہرائی اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کرانے کے مطالبے کے ساتھ بہار ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین مولانا غلام رسول بلیاوی کے نام ایک مفصل یادداشت پیش کی گئی۔ یادداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واردات کی اصل سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے تمام قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔

 

یادداشت میں کہا گیا ہے کہ دربھنگہ کے رہائشی مرحوم فیض احمد کے قتل نے نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پورے معاشرے کو شدید صدمہ پہنچایا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ایک ملزم کی گرفتاری قابلِ ستائش ہے، تاہم دستیاب شواہد اور مختلف پہلوؤں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے کی مکمل سازش اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ابھی باقی ہیں۔

 

تنظیم نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی سائنسی اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کرائی جائیں، تمام مشتبہ افراد سے گہرائی سے پوچھ گچھ کی جائے، موبائل کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR)، چیٹ، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک جانچ کرائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی جائے وقوعہ اور آس پاس کے تمام سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایف ایس ایل کے ذریعے معائنہ کرایا جائے اور عینی شاہدین و متعلقہ افراد کے بیانات مکمل غیر جانبداری کے ساتھ قلم بند کیے جائیں۔

 

یادداشت میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی دوسرے شخص یا سازش کرنے والے کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو اس کے خلاف بھی فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ متاثرہ خاندان کو تحفظ، انصاف اور ضروری سرکاری امداد فراہم کی جائے، نیز بہار ریاستی اقلیتی کمیشن کا ایک نمائندہ وفد متاثرہ خاندان سے ملاقات کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لے اور اپنی سفارشات ریاستی حکومت کو ارسال کرے۔

 

آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے کہا کہ انصاف میں تاخیر، انصاف سے محرومی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کمیشن سے اپیل کی کہ وہ اس حساس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائے اور تمام قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ تنظیم نے امید ظاہر کی کہ بہار ریاستی اقلیتی کمیشن اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

Comments are closed.