سیرت النبی کے عربی مترجم مولانا رحمت اللہ ندوی کی ندوہ تشریف آوری اور سیرت النبی کا تعارف
سیرت النبی کے عربی مترجم مولانا رحمت اللہ ندوی کی ندوہ تشریف آوری اور سیرت النبی کا تعارف
رپورٹ :-
محمد نفیس خان ندوی
علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف *”سیرت النبی”* بجا طور پر سیرتِ نبوی پر لکھی جانے والی عظیم ترین اور جامع ترین تصانیف میں شمار کی جاتی ہے۔ اپنی جامعیت، علمیت، تحقیقی استحکام، فنی شان اور ہمہ گیر افادیت کے باوجود یہ شاہکار طویل عرصے تک عربی زبان کے قالب میں نہیں ڈھل سکا تھا۔
اگرچہ اس جانب متعدد اہلِ علم اور اصحابِ زبان نے توجہ دی، لیکن اس عظیم خدمت کی سعادت بالآخر مولانا رحمت اللہ ندوی اور ان کے رفقائے کار کے حصے میں آئی۔ چنانچہ ان کی شب و روز کی انتھک محنت، علمی کاوش اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں یہ بے مثال تصنیف عربی زبان میں منتقل ہوکر زیورِ طباعت سے آراستہ ہوگئی۔
آج مولانا رحمت اللہ ندوی اسی عربی ترجمے کا تازہ شائع شدہ نسخہ لے کر ندوۃ العلماء تشریف لائے۔اور ناظمِ ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی دامت برکاتہم سے ملاقات کی اور کتاب کی پیش کی..
حضرت ناظم صاحب نے بڑی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ سیرت النبی پر ایسا مواد نہ عربی میں ہے نہ اردو میں ہے، اس میں شریعت اسلامیہ کا مغز اور نچوڑ آگیا ہے وہ بھی پورے توازن کے ساتھ، ندوہ پر یہ ایک قرض تھا، اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے رفقاء (مولانا آفتاب عالم اعظمی ندوی، ڈاکٹر حسیب الرحمن ندوی، ڈاکٹر صاحب عالم اعظمی ندوی) کو ہم سب کی طرف سے جزائے خیر دے..
حضرت نے مزید فرمایا کہ ہم تو تو ندوی فضلا سے کہتے ہیں کہ اگر تم سیرت النبی نہ پڑھو تو ندوی کہلانا مناسب نہیں..
اس موقع پر قائم مقام مہتمم مولانا عبدالعزیز بھٹکلی ندوی بھی موجود تھے، انھوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا..
حضرت ناظم صاحب سے ملاقات کے بعد مولانا رحمت اللہ ندوی نے مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی دامت برکاتہم سے ان کے مکان پر ملاقات کی اور عربی ترجمے کی یہ علمی کاوش ان کی خدمت میں پیش کی اور ان کی دعاؤں اور حوصلہ افزائی سے فیض یاب ہوئے.
اس مناسب سے مولانا رحمت اللہ ندوی نے اختصاص کے طلباء سے خطاب بھی کیا اور سیرت النبی کی خصوصیات و امتیازات اور ترجمہ و تحقیق میں اپنے تجربات کا نچوڑ بھی پیش کیا..
انھوں نے کہا کہ ہم نے اسی کتاب کا انتخاب کیوں کیا اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب سیرت نگاری کے عام روش سے ہٹ کر محض واقعات کا مجموعہ نہیںہے بلکہ ایک منفرد علمی و تحقیقی شاہکار ہے۔
مولانا نے اس کی خصوصیات و امتیازات کو تفصیل سے پیش کیا جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:
*(1) علمی و تحقیقی منہج*
روایات کو محض نقل نہیں کیا گیا بلکہ محدثین کے اصولِ نقد کے مطابق ان کی جانچ کی گئی ہے۔
روایت اور درایت دونوں پہلوؤں سے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ضرورت پڑنے پر قدیم مؤرخین کی آراء پر احترام کے ساتھ علمی نقد بھی کیا گیا ہے۔
*(2) مستشرقین کے اعتراضات کا مدلل جواب*
کتاب اس دور میں لکھی گئی جب مستشرقین اور ملحدین سیرتِ نبوی پر شدید اعتراضات کر رہے تھے۔
ان اعتراضات کا علمی اور عقلی انداز میں جواب دیا گیا تاکہ جدید تعلیم یافتہ ذہن بھی مطمئن ہو سکیں۔
*(3)تحقیقی و تحلیلی اسلوب*
کتاب صرف تاریخی واقعات بیان نہیں کرتی بلکہ ہر واقعے کی حکمت، پس منظر اور فلسفہ بھی واضح کرتی ہے۔
معراج، معجزات اور دیگر اہم موضوعات کو عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
*(4)خلاقیات پر خصوصی توجہ*
عام سیرت کی کتابوں کے برخلاف اس میں رسول اکرم ﷺ کے اخلاق، کردار، قیادت، دعوت، جنگ و امن کے اخلاق اور عملی اسوہ کو نمایاں کیا گیا ہے۔
*(5)شریعت کے فلسفے کی وضاحت*
اسلامی احکام اور نبوی تعلیمات کے مقاصد اور حکمتوں کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
*(6)اعلیٰ ادبی اسلوب*
کتاب نہایت بلند پایہ ادبی زبان میں لکھی گئی ہے، جس کے ترجمے میں اسلوب اور ادبی حسن کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔
کتاب کے تعارف کے ساتھ ساتھ مولانا نے ترجمہ و تحقیق کے سلسلہ میں ذاتی تجربات بھی پیش کیے چنانچہ مولانا نے کہا کہ اس کتاب کے ترجمے سے انہیں سب سے زیادہ خود علمی فائدہ ہوا۔ انہوں نے اساتذۂ کرام کی تربیت، علمی رہنمائی اور عملی مشق کو اپنی کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ اور بتایا کہ ترجمے کے دوران ادبی اسلوب کو برقرار رکھنا، علمی اشکالات کا حل تلاش کرنا، مختلف نسخوں کا تقابل کرنا اور ہر عبارت کو تنقیدی نظر سے پرکھنا ایک محقق کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے تحقیق میں محض مطبوعہ نسخوں یا معروف شخصیات پر اعتماد کرنے کے بجائے اصل مآخذ کی جانچ ناگزیر ہے۔
اس علمی و فنی گفتگو سے قبل استاذ حدیث مولانا ابو سحبان روح القدس ندوی نے مولانا رحمت اللہ ندوی کا تفصیلی تعارف کرایا، تحقیق و ترجمہ کے میدان میں ان کی متنوع خدمات پر روشنی ڈالی اور موضوع مجلس کی فنی مباحث پر گفتگو کی..
اس نشست میں استاذ فقہ و حدیث مولانا و مفتی عتیق احمد بستوی بھی موجود تھے اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا ۔
اس موقع پر مولانامحمد فیضان نگرامی ندوی، مولانا محمد وثیق ندوی، مولانا اصطفاء الحسن ندوی، مولانا سلمان نسیم ندوی، مولانا عبداللہ مخدومی ندوی وغیرہ موجود تھے..
Comments are closed.