بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

 

چھوٹے پاپا جناب شمیم اختر صاحب کی یاد میں ۔

 

تحریر: قمر اعظم صدیقی

 

زندگی میں کچھ رشتے صرف خون سے نہیں، محبت، شفقت اور دعاؤں سے بنتے ہیں۔ میرے چھوٹے پاپا جناب شمیم اختر صاحب میرے لیے ایسے ہی ایک سایہ دار شجر کی مانند تھے، جن کی شفقت مجھے بچپن سے حاصل رہی۔ آپ نے مجھے کبھی بھتیجا نہیں بلکہ اپنا بیٹا سمجھا۔ کئی مواقع پر آپ سے میرا اختلاف رائے بھی ہوا، لیکن آپ نے کبھی دل میں کدورت نہیں رکھی۔ یہی آپ کے بڑے ظرف اور اعلیٰ اخلاق کی دلیل تھی۔

 

* سوانحِ عمری اور خاندانی پس منظر*

 

آپ کی پیدائش تعلیمی اسناد کے مطابق 2 دسمبر 1974 کو ہوئی۔ آپ کا آبائی وطن بھیرو پور، (بدوپور) ضلع ویشالی، بہار ہے۔

 

میرے دادا جان جناب عبدالوہاب صاحب مرحوم روزگار کے سلسلے میں کلکتہ میں مقیم تھے۔ اسی دوران انہوں نے محلہ عطردہ، رام دیالو نگر ، مظفر پور میں زمین خرید کر مکان تعمیر کرایا اور بعد میں پورے خاندان کو وہیں مستقل طور پر بسا دیا۔

 

دادا جان کی عدم موجودگی میں میری دادی جان مرحومہ حسیب النساء صاحبہ نے بڑی ہمت، حوصلہ اور سلیقہ مندی کے ساتھ اپنے چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کی ذمہ داری تنِ تنہا بحسن و خوبی نبھائی۔ میرے والد محترم جناب شہاب الرحمن صدیقی صاحب سب سے بڑے ہونے کی وجہ سے والدہ کے دست و بازو بنے رہے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری بخوبی نبھاتے رہے۔

 

آپ ( شمیم اختر ) نے ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی اور مکتب کے استاد سے حاصل کی۔ عطردہ آنے کے بعد میٹرک تک تعلیم مظفر پور سے مکمل کی، انٹرمیڈیٹ کا امتحان حاجی پور کے معروف کالج سکھدیو مکھ لال سے پاس کیا اور پھر آئی ٹی آئی کالج، غنی پور، مظفر پور سے سرویر کورس میں ڈپلومہ حاصل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھا۔

 

آپ فطرتاً نہایت شریف، ملنسار، مہمان نواز اور خوش مزاج انسان تھے۔ آپ کی مجلس میں کبھی بوریت محسوس نہ ہوتی اور چہرے پر ہر وقت ایک پیاری مسکراہٹ سجی رہتی۔

 

*عملی زندگی اور زندگی کے نشیب و فراز*

 

تعلیم سے فراغت کے بعد آپ معاش کی تلاش میں لگ گئے۔ سب سے پہلے آپ کو مظفر پور تا حاجی پور سڑک سروے پروجیکٹ میں ایک نجی کمپنی کے ذریعے ملازمت ملی۔ اس پروجیکٹ کے ختم ہونے پر آپ احمد آباد چلے گئے، جہاں آپ نے ہرش چندرا انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ میں ایک طویل عرصہ تک خدمات انجام دیں۔ بعد کے برسوں میں آپ نے کئی کمپنیاں تبدیل کیں اور ملک کی مختلف ریاستوں میں رہ کر کام کیا۔ آخری دنوں میں آپ بنارس کی ایک کمپنی میں سرویر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

 

شادی سے پہلے تک آپ کی زندگی بڑی آزاد اور خوشگوار گزری، لیکن شادی کے بعد ذمہ داریوں کا بوجھ اور اہلیہ کی طویل بیماری کی وجہ کر آپ پریشان حال رہے ۔ اللہ نے آپ کو تین بیٹیوں کی نعمت سے نوازا۔ آپ نے اپنی باون سالہ زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے، بڑی قربانیاں دیں، لیکن کبھی بھی زبان پر شکوے کا ایک لفظ تک نہ لائے۔

 

* بیماری کا آغاز اور علاج کی جدوجہد *

 

مئی 2026 میں بنارس میں کام کے دوران آپ کو بائیں جانب گلے میں گلٹی اور درد کا احساس ہوا۔ وہیں ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو ڈاکٹر نے کینسر مرض کی علامت کا اظہار کیا ۔ اور جانچ کے لیے کہا۔ جانچ کے بعد ڈاکٹر کی تشویش سچ ثابت ہوئ اور ان کی تکلیف بھی روز بروز بڑھنے لگی ۔

آپ نے کمپنی میں چھٹی کی درخواست دی، مگر کام زیادہ ہونے کی وجہ سے ہفتوں تک چھٹی نہ مل سکی۔ آخر کار درد کی ناقابلِ برداشت تکلیف کی وجہ سے آپ 18 مئی 2026 کو اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر بغیر اطلاع کے مظفر پور واپس آ گئے۔

 

اس کے بعد علاج کے لیے آپ کو پٹنہ کے آئی جی ایم ایس، مہاویر کینسر اسپتال اور سویرا کینسر اسپتال لے جایا گیا۔ آخر میں سب کے مشورے سے یہ طے پایا کہ آپ کا علاج ٹاٹا کینسر اسپتال، مظفر پور میں ہی کرایا جائے۔ وہاں ماہر ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپ کو گلے کے غدود کا سب سے خطرناک” اینا پلاسٹ تھائریکل گلینڈ کینسر ” ہے ۔ جس میں عام طور پر مریض کو تین سے چار ماہ سے زیادہ کی مہلت نہیں ملتی ہے ۔

اور ہوا بھی وہی ۔ تقریباً تین مہینوں تک علاج جاری رہا، اس دوران چھ بار کیمو تھراپی اور شعاؤں کے ذریعہ بھی علاج ہوا۔ کبھی تکلیف میں کمی اور کبھی اضافہ ہوتا رہا۔ آخری دنوں میں سانس لینے میں دشواری، نگلنے میں تکلیف، سینے میں درد اور کھانسی کی شدت بہت بڑھ گئی اور آپ نے آخری کئی دن سخت اذیت میں گزارے۔

اس آزمائش کی گھڑی میں خاندان کے افراد و رشتہ داروں نے بے مثال ہمدردی دکھائی۔ بیٹا نہ ہونے کا خلا بھتیجوں نے اپنی خدمت سے پر کر دیا، دن ہو یا رات اسپتال لانے اور لے جانے میں سب پیش پیش رہے، خاص طور پر فیضان عادل اور راشد احمد کی دن رات کی خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آپ کی صاحبزادیوں نے اور بالخصوص منجھلی بیٹی حبیبہ تبسم عرف شالو نے جس طرح راتوں کو جاگ کر ، آنسؤں کو چھپا کر ، ہمت باندھ کر اپنے والد کی خدمت کی وہ وفاداری کی ایک روشن مثال ہے۔ اس کٹھن وقت میں تمام بھائیوں، بہنوں، اہلیہ اور رشتہ داروں نے دل سے دعائیں کیں اور آپ کے چھوٹے سالے ببلو صاحب نے جس خاموشی اور فراخدلی سے مالی مدد کی، وہ بھی قابلِ تعریف ہے۔

 

* زندگی کا آخری سفر *

 

مگر جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو کوئی تدبیر کام نہیں آتی۔ تمام کوششوں اور دعاؤں کے باوجود 4 ستمبر 2026 بروز جمعہ رات تقریباً ایک بجے آپ اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اور پورے گھر کو غمزدہ کرکے آخری سفر پر روانہ ہو گۓ ۔

 

اگلے دن جمعہ کی نماز کے بعد عطردہ مظفر پور کے ایک وسیع میدان میں بڑی تعداد میں لوگوں نے قاری جنید احمد صاحب ناظمِ اعلیٰ مدرسہ ام کلثوم راجا پور کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی ۔ بعدازاں کچی پکی قبرستان میں سیکڑوں لوگوں نے اپنی اشکبار آنکھوں سے آپ کو سپردخاک کیا ۔

 

آج آپ ہم لوگوں کے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ کی مسکراہٹ، آپ کی باتیں، آپ کی مہمان نوازی اور آپ کی شفقت کا احساس ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ دعا ہے کہ اللہ آپ کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائے، آپ کی نیکیوں، محنتوں اور قربانیوں کو قبول فرمائے، آپ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اور لواحقین کو صبر جمیل کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین

Comments are closed.