موجودہ حالات اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں
بقلم: حضرت مولانا سید اشہد رشیدی صاحب مہتمم جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی وصدر جمعیۃ علماء اترپردیش
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ملک کے موجودہ حالات مسلم اقلیت کے حوالہ سے نہایت تشویشناک ہیں، ایک طرف اگر ان کو مذہب کی بنیاد پر جانی ومالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف ان کی عبادت گاہیں اور تعلیمی ادارے بھی زد میں ہے، ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں پر اس سے پہلے حالات نہیں آئے ہیں اور وہ پہلی مرتبہ جانی ومالی نقصانات اٹھا رہے ہیں؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کی تاریخ مصائب سے بھری پڑی ہے اور اس ملک میں بھی مسلمان مشکلات سے دو چار ہوتے رہے ہیں؛ لیکن موجودہ زمانہ میں دو باتیں ایسی سامنے آرہی ہیں کہ جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں:
(الف) پہلی بات یہ ہے کہ اس دور میں مسلمان اپنے آپ کو بالکل بے بس وبے سہارا سمجھ رہا ہے؛ کیونکہ کسی بھی سرکاری محکمہ میں اس کی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے، اور بی جے پی کا کوئی بھی لیڈر ان کی بات سننے کو تیار نہیں ہے، وہ مظلوم بھی ہے اور مجرم بھی اسی کو قرار دیا جا رہا ہے، نہ اس کی کوئی سیاسی طاقت باقی رہ گئی ہے اور نہ ہی کوئی اس کی مظلومیت کو، درد کو اورآہوں وکراہوں کو محسوس کرنے اور عدل وانصاف اور انسانیت کی بنیاد پر مدد کرنے کو تیار ہے، اس سے پہلے ملک میں اس طرح کی صورت حال کبھی پیش نہیں آئی تھی۔
(ب) ملک میں مسلم مخالف فسادات پہلے بھی ہوئے ہیں مگر اسلامی شعائر کے خلاف کھلم کھلا سرکاری سطح پر کبھی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی تھی (اکا دکا کارروائی کسی علاقہ میں آپسی رضامندی سے کی گئی ہو تو وہ اس سے مستثنیٰ ہے) اب حالات یہ ہیں کہ مساجد ومقابر اورمدارس وغیرہ کو بلڈوزرکے ذریعہ بزور طاقت منہدم کرنے کا سلسلہ ملک کے طول وعرض پر ان تمام ریاستوں میں جاری ہے جہاں بی جے پی برسر اقتدار ہے۔ گویا صرف مسلمان ہی نشانے پر نہیںہے؛ بلکہ اسلام اور اس کے شعائر کو بھی صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان حالات میں ہمیں جوش سے زیادہ ہوش میں آنے کی ضرورت ہے اور نہایت حکمت ودانائی کے ساتھ حالات کے رخ کو بدلنے کی جد وجہد میں مصروف ہوجانا وقت کا ایک اہم تقاضا ہے۔ میرے خیال میں مسلمانوں کو فی الوقت درج ذیل تین باتوں کو ہدف بنا کر اپنی تمام تر طاقت وصلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے جد وجہد کا آغاز کر دینا چاہئے:
(۱) ہند ومسلم اتحاد: حکومت وقت سے ہمیں کسی طرح کی خیر کی امید نہیں ہے؛ کیونکہ وہ پارٹی جو مسلم مخالف نعرے لگا کر اقتدار تک پہنچی ہے اس سے مسلمانوں کے لئے ہمدردی یا حقوق کی پاسداری کا تصور محال ہے؛ لیکن اگر ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی اٹھ کھڑے ہوں احتجاج کرنے اور عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے مطالبہ کو لے کر وہ مسلمانوں کے قدم سے قدم ملاکر سامنے آنے کے لئے تیار ہوجائیں تو بہت سے مسائل حل ہوجائیںگے اور حالات میں خوشگوار تبدیلی آجائے گی، اس کے لئے ہمیں نفرت کے ماحول میں محبت کے پیغام کو عام کرنا ہوگا، بڑے بڑے شہروں سے لے کر گاؤں اور دیہاتوں تک ہندو مسلم اتحاد کے عنوان سے کارنر میٹنگیں کرنی ہوںگی، چھوٹے بڑے پروگرام کرنے پڑیںگے، جن میں اسٹیج سے لیکر شرکاء جلسہ تک ہر سطح پر غیر مسلموں کی بڑی تعداد کو مدعو کرنا ہوگا، اس کے بغیر موجودہ حکومت میں حالات کی تبدیلی کا تصور ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا؛ کیونکہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو رو بعمل لانے سے پہلے فرقہ پرستوں کی طرف سے نفرت کو ہوا دی گئی اور آپسی بھائی چارہ کو آگ لگائی گئی اور جب ماحول ان کے حق میں ساز گار ہوگیا تو عملی اقدامات کئے گئے؛اس لئے اس کی طرف توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کا فیصلہ: حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی منعقدہ: ۱۴-۱۵؍ مئی ۲۰۲۶ء نے ملک بھر میں نفرت وفرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کے لئے محبت کے پیغام کو عام کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ طے کیا گیا کہ ہندو مسلم اتحاد کے عنوان سے ایک پروگرام لکھنؤ کے کسی ہال میں رکھا جائے، جس کی انفرادیت یہ ہو کہ صرف اسٹیج پر ہی غیر مسلم دانشوران نہ ہوں بلکہ شرکائے اجلاس میں بھی ان کی تعداد مناسب ہو ، اسی کے ساتھ یہ بھی طے کیا گیا کہ اس میں کسی سیاسی لیڈر کو مدعو کرنے کے بجائے تعلیمی اداروں سے جڑے اہم افراد کو مذہبی شخصیات کو اور عدالت سے وابستہ حضرات کو دعوت دی جائے، تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ یہ اپوزیشن کی سیاسی چال ہے۔ الحمدﷲ جمعیۃ علماء اترپردیش نے اس چیلنج کو قبول کیا اور ۱۸؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی صدر جمعیۃعلماء ہند کی زیر صدارت ’’ہندو مسلم ایکتا سملین‘‘ کے عنوان سے ایک نہایت باوقار اور عظیم الشان اجلاس لکھنؤ کے ’’اٹل بہاری واجپائی کنونشن سینٹر‘‘ میں کیا۔ ہال کی کپیسٹی چار سو افراد کی تھی ، جس میں ڈھائی سو سے زائد غیر مسلم تھے، توقع سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی، چنانچہ شرکاء کی کل تعداد آٹھ سو سے زائد رہی۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور بدھشٹوں نے بیک زبان نفرت کے خلاف آواز اٹھائی اور اخوت کے پیغام کو عام کرنے کا عہد وپیمان کیا۔ اس پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر سپریم کورٹ کی سینئر ایڈوکیٹ محترمہ اندراجے سنگھ جی اور سنکٹ موچن ہنومان مندر بنارس کے مہنت جناب ڈاکٹر وشمبھر ناتھ مشرا نے شرکت کی، جس کی وجہ سے اس کی افادیت اور معنویت میں زبردست اضافہ ہوگیا۔
آل پارٹیز میٹنگ: ۲۴؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو محترم جناب محمد ادیب صاحب نے ’’انڈین مسلم فارسول رائٹ‘‘ کے بینر تلے ایک میٹنگ دہلی کے ’’کانسٹی ٹیوشن کلب‘‘ میں کی تھی، جس میں بہت سی مسلم تنظیموں کے نمائندوں کو بلایا گیا تھا، جمعیۃ علماء اترپردیش کی طرف سے مجھ کو بھی دعوت دی گئی تھی، میں نے وہاں بھی جمعیۃ علماء ہند کے قومی اتحاد کے نظریہ کو پیش کیا، حاضرین نے اس کی بھرپور تائید کی۔
اتحاد کی قوت: ہم نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا ہے کہ جب راجستھان کے جیسلمیر کے علاقہ میں مدارس ومساجد کو بلڈوز کرنے کی کارروائی شروع کی گئی اور غیر مسلم اس کے خلاف روڈ پر نکل آئے تو فی الفور اس کارروائی پر روک لگ گئی، اور فرقہ پرستی کا ننگا ناچ ناچنے والے ناکام ہوگئے، اسی طرح پیپر لیک معاملے میں متحدہ جد وجہد نے اپنا رنگ دکھایا اور وہ حکومت جس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اس میں استعفیٰ نہیں ہوتا ہے وہ بھی جھکنے پر مجبور ہوگئی۔
(۲) تعلیم کا فروغ:- حالات کی تبدیلی میں تعلیم کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے، جو قوم تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ جائے اور محنت کرکے مختلف کورسیز میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دے اس کو پیچھے ڈھکیلنے والی طاقتیں ناکام ہوجاتی ہیں اور کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے، ہمیں اس کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دینی چاہئے اور مسلم تعلیمی ادارہ جگہ جگہ کھولنے چاہئیں جن میں کم فیس میں معیاری تعلیم دی جائے۔
(۳) عدالتی کارروائی:- جہاں پر بھی مسلمانوں یا ان کے اداروں کے خلاف کوئی غیر قانونی کارروائی کی جائے فوراً اس کے خلاف عدالت کا دروازہ ضرور کھٹکھٹانا چاہئے اور کسی اچھے وکیل کی خدمات حاصل کرتے ہوئے پوری تیاری کے ساتھ کورٹ میں جانا چاہئے؛ کیونکہ موجودہ نازک حالات میں اگر کہیں سے انصاف کی امید لگائی جاسکتی ہے تو وہ ملک کی عدالتیں ہیں، لور کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ جمعیۃ علماء ہند نے قانونی امداد فراہم کرتے ہوئے بہت سے مظلوموں کو انصاف دلایا ہے اور قومی اداروں کی حفاظت میں کامیابی حاصل کی ہے؛ اس لئے اس راستہ سے بھی اپنا قانونی حق حاصل کرنے کی جد وجہد برابر کرتے رہنا چاہئے۔
Comments are closed.