دین اور ملت کے تمام کاموں میں ہمیشہ معاون بنیں، مخالف نہ بنیں : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے زیر اہتمام المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام منعقد
حیدرآباد (بصیرت آن لائن) اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام گزشتہ کل بعد نماز مغرب المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے اشتراک کے ساتھ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ دین کے بہت سے کام ہیں، ہر کام اپنی جگہ قابل تحسین ہے ؛ اس لیے جس کام سے بھی مناسبت ہو وہ کریں ؛ لیکن ہمیشہ دین اور ملت کے تمام کاموں میں معاون رہیں، کبھی مخالف نہ بنیں ؛ لیکن ایک کام ایسا ہے جو بنیادی طور پر علماء کا ہے اور وہ کام دفاع دین کا ہے ؛ اس لیے اسلاموفوبیا کے زمانہ میں اسلامی احکامات کو عقل اور فطرت کے ترازو پر رکھ کر پیش کیے جائیں، یہ کام علماء اور فضلاء مدارس کا ہے اور اس کی سخت ضرورت ہے ؛ کیونکہ اگر آپ اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کی فہرست بنانا شروع کریں تو پوری ایک مکمل کتاب بن جائے ؛ اس لیے آپ اپنے آپ کو ایسا تیار کریں کہ کسی بھی مسئلہ پر سامنے والے کی ذہنیت کے مطابق بات رکھ سکیں، اس کے لیے خود اپنے گھر سے اچھی واقفیت ضروری ہے اور دوسروں کے گھر سے آگہی بھی ؛ تاکہ آپ اپنی خصوصیات اور دوسرے کی خامیوں اور نقصانات سے باخبر رہیں، آپ اعداد و شمار اور ڈیٹا سے بات کریں، عصری معلومات سے لیس ہوکر ان کا جواب دے سکیں، تب جاکر آپ اسلام کے دفاع میں مرد مجاہد ثابت ہوں گے۔
جناب ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب نے ”مسلم پرسنل لاء سے متعلق عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات اور قانونی چیلنجیز“ کے عنوان سے کلیدی خطاب کیا، جس میں انہوں نے بڑے ہی Comprehensive انداز سے باتیں واضح کیں،
انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے تازہ دم موضوعات میں سے ہے ؛ کیونکہ آج کل عدلیہ کے تمام فیصلے ہمارے خلاف آ رہے ہیں، چند سالوں سے ڈیلیبریٹلی ایسے افراد کو متعین کیا جا رہا ہے جو ایک رخ کے مطابق فیصلہ کریں ؛ مگر یہ چیزیں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہیں ؛ کیونکہ تمام عدالتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ہم کسی بھی مذہبی کتاب میں انٹرپریٹ کر سکتے ہیں جس کا تعلق عقائد و عبادات سے نہیں ہے، اسی طرح تمام مذاہب کی طرح اسلام کو بھی حالات کے اعتبار سے تبدیل ہو سکنے والا مانتی ہیں اور ضروری مذہبی اعمال (essential religious practice) کی تعیین بھی خود ہی کرنے لگتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ۱۹۳۷ کے شریعت ایپلیکیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتی ہیں، مثلا طلاق ثلاثہ، طلاق کے پہلے تحکیم ، طلاق میں مرد کا اختیار، طلاق کے بعد بھی تاحیات نفقہ، خواہ جیل میں ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح وراثت کی تقسیم وغیرہ ؛ حالاں کہ یہ احکام طبعی صحت اور انسانی فطرت کے مطابق دیے گئے ہیں، خود غیر مسلم بھائی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
پھر انہوں نے اسی ذیل میں بابری مسجد کے فیصلہ پر بھی بحث کی کہ سپریم کورٹ میں مسجد کے حق میں تمام دلائل، ثبوت اور مشاہدات ہونے کے باوجود کورٹ نے محض آستھہ کی بنیاد پر فیصلہ مسجد کے خلاف اور مندر کے حق میں صادر کردیا : ،جس سے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ یہ فیصلے دلیل اور فیکٹ کی بنیاد پر نہیں ہوتے ہیں، خواہ کوئی بھی قانون بن جائے، جیساکہ places of worship act بنا، اس کے باؤجود گیان واپی مسجد، متھرا کی عید گاہ اور کمال مولی مسجد کے خلاف قانونی داؤ پینچ کھیلا گیا، یہ داؤ آپ کو اپنے دین سے روکنے کے لیے ہے، اسی طرح دلفریب باتیں کرکے UCC لانے کی کوشش جاری ہے، اتراکھنڈ، آسام اور مدھیہ پردیش میں کامیاب ہو چکے اور مہاراشٹر و بنگال میں اس کی تیاری جاری ہے، وندے ماترم پڑھنا لازم کیا جا رہا ہے۔
اب ایسے ماحول میں ہمیں اسلام کی مصلحت بتانی پڑے گی،اسلامی قانون کی معنویت و افادیت کو اہل ملک کے سامنے ان کی زبان میں پیش کرنی چاہیے، دوسرے طبقات کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کی کوشش کریں، جمہوری ملک کے اندر عوام کی طاقت ہی سب سے بڑی طاقت ہے جس کا عملی نمونہ ہم نے جنتر منتر پر دیکھا ؛ اس لیے جب کبھی ہماری ملی تنظیموں کی طرف سے کال آئے تو ہمیں میدان عمل میں آنا ہوگا۔
سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا مقصد اور اس کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی امتیاز احمد قاسمی( اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا) نے کہا کہ ہر زمانہ میں تربیتی پروگرام اور علمی ورکشاپ کی اہمیت و افادیت رہی ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں ہر شعبہ حیات میں تیزی سے ترقی ہورہی ہے، درس و تدریس اور تعلیم و تحقیق کے میدان میں بھی خاصی ترقی ہوئی ہے، بحث و تحقیق کے نئے ذرائع و وسائل نے ایسے پنہاں گوشوں کو کھول دیئے ہیں جن کا تصور پچھلے سالوں میں نہیں کیا جاسکتا تھا، وہیں دوسری طرف ہمارے سامنے نئے نئے چیلنجز اور تحدیات سامنے آرہی ہیں، جن کا سامنا کرنا اور حل پیش کرنا نوجوان علماء کی ذمہ داری ہے
اس پس منظر میں اس طرح کے تربیتی پروگرام کی اہمیت اور اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے.
مفتی امتیاز احمد قاسمی نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ دینی مدارس اور معاہد اسلامیہ میں اس تجربہ اور طریقہ سے خوب خوب فائدہ اٹھا یا جارہا ہے، انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی سرگرمیوں کو مختصر انداز میں پیش کیا.
جبکہ اس سمر کیمپ کی پہلی تربیتی نشست آج 9 بجے صبح سے 2 بجے دن تک جاری رہی ، اس میں 6 نہایت اہم محاضرات ہوئے، جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں :
1 – سنگھ پریوار کی مذہبی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی میدان میں سرگرمیاں – ایک تعارف (مولانا ڈاکٹر احمد نور عینی)
2 – سنگھ پریوار کے ہندوستانی سماج پر اثرات اور طریقہ کار – ایک تعارف (مولانا نوشاد اختر ندوی)
3- مسلم پرسنل لاء سے متعلق عدالتوں کے فیصلے (ایڈوکیٹ نوید سیف حسامی)
4-نئ تعلیمی پالیسی اور دینی مدارس کا مستقبل (ڈاکٹر مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی)
5- ہندوستانی مذاہب کے درمیان مشترکہ اقدار (مولانا انصار اللہ قاسمی)
6- فضلاء مدارس کے لیے عصری اداروں میں تعلیم کے مواقع (ڈاکٹر مفتی محمد سراج الدین قاسمی)
محاضرات کے اختتام پر سوال و جواب طویل سلسلہ رہا.
آج مغرب کے بعد متصلا دوسری تربیتی نشست ہوگی، جبکہ کل بروز جمعرات صبح 9 بجے تیسری اور آخری تربیتی نشست ہوگی.
Comments are closed.