خطا نسیان اور اکراہ امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے ربانی معافی کا جامع اصول

مولانا محمد انعام الحق قاسمی

ریاض، سعودی عرب

 

عن ابن عباسٍ رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((إن الله تـجاوز لي عن أمتي الـخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه))؛ حديث حسن، رواه ابن ماجَهْ والبيهقي وغيرهما.

 

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میری امت کے حق میں خطا کو، بھول کو، اور ہر اس چیز کو جس پر انہیں زبردستی مجبور کیا جائے،درگزر فرما دیا ہے۔”

یہ حدیث حسن ہے، اور اسے ابنِ ماجہ، بیہقی اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔

حدیث کی عظمت و مقام

• امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “اس حدیث میں بے شمار فوائد اور نہایت اہم مسائل جمع ہیں؛ میں نے ان پر مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے، جس کی تفصیل اس کتاب میں نہیں سما سکتی۔”

• علامہ طُوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں: “یہ حدیث عام نفع کی حامل اور نہایت عظیم مرتبہ رکھتی ہے؛ بلکہ اسے نصفِ شریعت کہا جا سکتا ہے۔”

• بعض علماء نے فرمایا:“یہ حدیث اسلام کا نصف حصہ قرار دیے جانے کے لائق ہے۔”

مشکل الفاظ کی وضاحت

• تجاوز: یعنی معاف کر دیا، یا مواخذہ اٹھا لیا۔

• لي: یعنی میری خاطر، میرے مقام کی تعظیم میں۔

• الخطأ: وہ کام جو بغیر قصد و ارادہ کے سرزد ہو جائے۔

• النسيان: علم کے بعد بھول جانا، بغیر ارادہ کے۔

• استُكرِهوا عليه: جس پر زبردستی مجبور کر دیے جائیں۔

حدیث کی تشریح

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی امت پر خاص کرم فرمایا کہ:

• خطا یعنی غیر ارادی غلطی پر کوئی گناہ نہیں۔

• بھول چوک پر بھی مواخذہ نہیں؛ اگرچہ بعض اوقات بھول کے نتیجے میں شرعی حکم لازم آ سکتا ہے، جیسے بھول کر بے وضو نماز پڑھ لی جائے،تو گناہ نہیں، مگر نماز لوٹانا لازم ہوگا۔

• اکراہ یعنی زبردستی کروائے گئے قول یا فعل پر بھی گناہ نہیں۔

لیکن قتل اس سے مستثنیٰ ہے؛ اگر کسی کو قتل پر مجبور کیا جائے تو نہ قاتل کو معافی ہے اور نہ مجبور کرنے والے کو،کیونکہ اپنی جان بچانے کے لیے کسی دوسرے کی جان لینا جائز نہیں۔

حدیث کے اہم فوائد

1. امتِ محمدیہ ﷺ کا شرف و کرم اور اللہ کے نزدیک اس کا بلند مقام۔

2. خطا، نسیان اور اکراہ میں گناہ اٹھ جاتا ہے، مگر شرعی حکم باقی رہ سکتا ہے۔

3. رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور آپ کی امت کی فضیلت۔

4. دینِ اسلام کی وسعت، سہولت، رحمت اور عدمِ سختی۔

محمد انعام الحق قاسمی

ریاض سعودی عرب

30 جولائی 2026

Comments are closed.