دارالعلوم دیوبند فرقہ پرستوں کے نشانہ پر
شاہنواز بدر قاسمی
ہندوستان صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہی خوبصورتی اس ملک کی سب سے بڑی طاقت اور پہچان ہے۔ دنیا بھر میں ہندوستان کو اس کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور کثرت میں وحدت کی روایت کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ملک کی آزادی کی جدوجہد سے لے کر جدید ہندوستان کی تعمیر و ترقی تک مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں نے مل جل کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جو باہمی احترام، انصاف اور آئینی مساوات پر قائم ہے۔
لیکن گزشتہ چند برسوں میں ملک کے بعض حصوں میں فرقہ وارانہ سیاست اور مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے اس خوب صورت روایت کو ضرور متاثر کیا ہے۔ خصوصاً اترپردیش میں مسلمانوں، ان کے مذہبی مقامات، تعلیمی اداروں اور نمائندہ شخصیات کو مختلف مواقع پر سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بنایا جاتا رہا ہے۔ اختلافِ رائے اور قانونی احتساب جمہوری معاشرے کا لازمی حصہ ہیں، لیکن کسی مذہبی یا تعلیمی ادارے کو بار بار افواہوں، غیر ثابت شدہ الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے متنازع بنانے کا رجحان یقیناً تشویش کا باعث ہے۔
حالیہ دنوں میں ایشیاء کی عظیم اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کو بعض ہندو انتہاء پسند تنظیموں نے ایک مرتبہ پھر بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ایک طرف دارالعلوم دیوبند کی مسجد رشید کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ وہاں شیو لنگ موجود ہے، دوسری طرف اسی دعوے کو بنیاد بنا کر سہارنپور ضلع انتظامیہ کو میمورنڈم بھی پیش کیا گیا اور معاملے کو سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر اچھالا گیا۔ اس پورے معاملے نے یہ سوال ضرور پیدا کیا کہ کیا کسی تاریخی اور حساس مذہبی و تعلیمی ادارے کے بارے میں محض دعوے یا افواہیں ہی اتنی کافی ہیں کہ اسے ایک نئے تنازع میں گھسیٹ دیا جائے؟
اسی سلسلے کا دوسرا واقعہ اس سے بھی زیادہ حساس نوعیت کا تھا۔ ہندو رکچھا دل کی جانب سے ہریدوار سے گنگا جل لا کر دارالعلوم دیوبند میں چڑھانے کا اعلان کیا گیا اور اس حوالے سے ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ ان اعلانات اور ویڈیوز سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اگر ضرورت پڑی تو عدالت سے اجازت حاصل کرکے یہ اقدام کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ایک بڑے اسلامی تعلیمی ادارے کے احاطے میں کسی دوسرے مذہب کی مذہبی رسم انجام دینے کا اعلان محض ایک معمولی سیاسی بیان نہیں بلکہ انتہائی حساس معاملہ ہے، جس سے مذہبی جذبات متاثر ہونے اور امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا تہا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے اس اقدام کو ہونے نہیں دیا اور متعلقہ افراد کو راستے میں روک دیا گیا۔ یہ اچھی بات ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن اس پورے معاملے میں ایک بنیادی سوال باقی رہتا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز اعلانات اور واقعات کے خلاف قانون کے مطابق پیشگی اور مؤثر کارروائی کا معیار کیا ہونا چاہیے؟
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی مذہبی مقام یا تاریخی دعوے کے بارے میں کوئی شکایت ہے تو ملک میں عدالتیں اور قانونی ادارے موجود ہیں۔ کسی کو سڑک پر جلوس نکالنے، مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے یا کسی دوسرے مذہب کے ادارے میں اپنی مذہبی سرگرمی انجام دینے کا حق قانون سے بالاتر ہوکر حاصل نہیں ہو سکتا۔ انصاف کا راستہ عدالت اور آئین سے ہوکر گزرتا ہے، سڑک کی طاقت سے نہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر دارالعلوم دیوبند ہی کو بار بار تنازعات میں کیوں گھسیٹا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے اس ادارے کی تاریخ اور اس کی موجودہ حیثیت کو سمجھنا ضروری ہے۔
1866ء میں قائم ہونے والا دارالعلوم دیوبند برصغیر کی اسلامی علمی روایت کا ایک بڑا مرکز ہے۔ 1857ء کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کو سیاسی غلامی کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور تہذیبی بحران کا بھی سامنا تھا۔ ایسے ماحول میں اس ادارے کے بانیان نے تعلیم اور علمی خود کفالت کو اپنی ترجیح بنایا۔ ایک چھوٹے سے مدرسے سے شروع ہونے والا یہ سفر وقت کے ساتھ ایک ایسی بین الاقوامی علمی تحریک میں تبدیل ہوا جس سے ہزاروں علماء، مفتیان، اساتذہ، مصنفین اور دینی شخصیات وابستہ ہوئیں۔
دارالعلوم کی خدمات صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رہیں۔ اس ادارے اور اس کے اکابرین نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن دیوبندیؒ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ اور دیگر علماء نے انگریز حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور آزادی کے لیے قربانیاں پیش کیں۔ ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے کسی بھی سنجیدہ شخص کے لیے یہ پہلو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
دارالعلوم دیوبند کے بارے میں اختلافِ فکر یا علمی تنقید اپنی جگہ ایک الگ موضوع ہے۔ ہر ادارہ تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا۔ لیکن کسی ادارے سے اختلاف اور اسے مسلسل مشکوک یا خطرناک ثابت کرنے کی کوشش، دونوں الگ چیزیں ہیں۔ تنقید شواہد کے ساتھ ہونی چاہیے اور الزام بھی ثبوت کا تقاضہ کرتا ہے۔
مجھے تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں 2005 سے 2020 تک تقریباً پندرہ سال تک دیوبند میں رہنے کا موقع ملا۔ یہ مدت کسی شہر کو صرف باہر سے دیکھنے کی نہیں بلکہ اس کی روزمرہ زندگی، لوگوں کے مزاج اور سماجی تعلقات کو قریب سے سمجھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
میں نے دیوبند کو قریب سے دیکھا ہے اور پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دیوبند کی اصل شناخت نفرت نہیں، امن ہے؛ کشیدگی نہیں، باہمی احترام ہے اور تقسیم نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی روایت ہے۔
یہاں صرف مسلمان ہی دارالعلوم دیوبند کی عظمت کے قائل نہیں بلکہ برادرانِ وطن کی ایک بڑی تعداد بھی اس ادارے کے علمی مقام اور تاریخی کردار کا احترام کرتی ہے۔ مقامی سطح پر دارالعلوم کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ عام لوگوں کے تعلقات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ زمینی حقیقت اکثر سوشل میڈیا کے شور سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے دکھ سکھ میں مقامی لوگوں کی شرکت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ شہر کے روزمرہ معاملات میں مختلف طبقات ایک دوسرے کے ساتھ کاروباری، سماجی اور انسانی تعلقات رکھتے ہیں۔ یہی دیوبند کی اصل تصویر ہے، جسے چند اشتعال انگیز بیانات تبدیل نہیں کر سکتے۔
افسوس یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا نے سیاست کا ایک ایسا میدان پیدا کردیا ہے جہاں چند افراد چند منٹ کی ویڈیو یا ایک اشتعال انگیز بیان کے ذریعے شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسئلے کا حل تلاش کرنے سے زیادہ اہمیت اس بات کو دی جا رہی ہے کہ کس طرح ایک ایسا بیان دیا جائے جو زیادہ سے زیادہ وائرل ہو اور اپنے سیاسی آقاؤں اور گودی میڈیا کی توجہ حاصل کرے۔
یہی وہ ذہنیت ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے۔ سیاست اور صحافت اگر خدمت کے بجائے شہرت اور تنازع کا ذریعہ بن جائے تو معاشرے کا سکون سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے-
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ جب اس قسم کے تنازعات پیدا کیے جاتے ہیں تو متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کی جانب سے بعض اوقات فوری اور مؤثر کارروائی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ یہ صورت حال شرپسند عناصر کے حوصلے بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہب، ذات اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر قانون کی گرفت کو یقینی بنائے۔ کسی بھی فرد یا تنظیم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ نفرت پھیلائے، افواہیں گھڑے یا سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے۔
ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوات اور اپنے اداروں کے تحفظ کا حق دیتا ہے۔ یہی آئینی ضمانت اس ملک کے جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ اگر کسی مذہبی یا تعلیمی ادارے کو جان بوجھ کر تنازع کا موضوع بنایا جائے اور اس کے خلاف اشتعال انگیزی کی جائے تو یہ صرف ایک ادارے پر حملہ نہیں بلکہ آئین کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب قانون کی حکمرانی اور یکساں انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ فرقہ وارانہ سیاست وقتی طور پر کسی کو سیاسی فائدہ پہنچا سکتی ہے لیکن اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نفرت کا ماحول سرمایہ کاری، تعلیم، سماجی استحکام اور قومی یکجہتی سب کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے حکومتوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔
اس موقع پر مسلمانوں اور خصوصاً نوجوانوں کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ اشتعال انگیزی کا مقصد ردعمل پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر لوگ جذبات میں آکر قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگیں تو شرپسند عناصر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کی اشتعال انگیزی کا جواب صبر، حکمت، تدبر اور قانونی راستے کے ذریعے دیا جائے۔ دارالعلوم دیوبند کی تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ مشکلات اور آزمائشوں کا مقابلہ علم، اخلاق اور حکمت سے کیا جائے۔
نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اپنے اسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کرے اور جاننے کی کوشش کرے کہ دارالعلوم دیوبند اور اس کے اکابرین نے اس ملک کے لیے کیا خدمات انجام دی ہیں۔ آزادی کی تحریک میں ان کی قربانیاں، تعلیم کے فروغ میں ان کی جدوجہد اور سماجی اصلاح کے لیے ان کی کوششیں آج بھی مشعلِ راہ ہیں۔ جب نوجوان اپنی تاریخ اور اپنے اداروں سے واقف ہوں گے تو وہ افواہوں اور پروپیگنڈوں کا شکار نہیں ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی مذہبی رواداری، باہمی احترام اور مشترکہ تہذیب میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے اس ملک کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنایا ہے۔ اگر ان اقدار کو کمزور کیا گیا تو نقصان صرف کسی ایک طبقے یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوگا۔
دارالعلوم دیوبند کے خلاف ہونے والی نازیبا اور اشتعال انگیز کوششیں دراصل ایک عظیم علمی ورثے کو متنازع بنانے کی کوشش ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ علم، کردار اور خدمت کی بنیاد پر قائم ادارے افواہوں اور پروپیگنڈوں سے کمزور نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، انتظامیہ، دانشور طبقہ، میڈیا اور تمام انصاف پسند شہری مل کر ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو ملک کے امن اور اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
آج وقت کا تقاضہ ہے کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور ملک کے تاریخی، تعلیمی اور مذہبی ورثے کا تحفظ کیا جائے۔ دارالعلوم دیوبند صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ علم، اعتدال، قومی خدمت اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی ایک زندہ علامت ہے۔ اس کا احترام دراصل اس ملک کی روشن روایات، آزادی کی تاریخ اور آئینی اقدار کا احترام ہے۔
اگر ہم نے نفرت کے بجائے محبت، تقسیم کے بجائے اتحاد اور اشتعال کے بجائے حکمت کا راستہ اختیار کیا تو یقیناً ہندوستان مزید مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر آگے بڑھے گا۔ یہی پیغام دارالعلوم دیوبند کی تاریخ دیتی ہے اور یہی پیغام آج کے حالات میں سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔
Comments are closed.