یوں سینۂ گیتی پر روشن، اسلاف کا یہ کردار رہے!
از: محمد شاہد ناصری حنفی
بانی و صدر ادارہ دعوۃ السنہ ویلفیئر ٹرسٹ کاندیولی ممبئی، مدیر ماہنامہ مکہ میگزین ممبئی
دارالعلوم دیوبند اب محتاجِ تعارف نہیں رہا؛ اس کا نام ہی اس کی تاریخ ہے، اس کی شناخت ہے اور برصغیر کی علمی و دینی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ آج جب اس کے وسیع و باوقار دامن میں جلسۂ انعامیہ کی یہ بابرکت محفل آراستہ ہے تو میں جسمانی طور پر اگرچہ وہاں موجود نہیں، مگر روح کی آنکھوں سے خود کو اسی مجلس میں حاضر پاتا ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دارالعلوم کی فضا پر طمانیت و سکینت کا ایک نورانی حصار چھایا ہوا ہے، جیسے ملأِ اعلیٰ سے رب العالمین اپنے ان بندوں کی طرف محبت بھری نگاہوں سے متوجہ ہے جو اس زمین پر اس کے دین کے علم بردار بننے کے لیے علم کی شمعیں تھامے بیٹھے ہیں۔ یہ بھی کیسا حسین منظر ہے کہ یہ اہلِ علم خود رب العالمین کے خلفاء ہی نہیں، رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث اور نائب بھی ہیں، اور انہی وارثانِ علم و نبوت کے درمیان آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں، علمِ دین کے ان نوخیز مسافروں، کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ سچ پوچھیے تو حرمین شریفین کے علاوہ دنیا کے کسی اور گوشے میں اس سے زیادہ پاکیزہ، اس سے زیادہ بامعنی اور اس سے زیادہ روح پرور منظر کہاں میسر آسکتا ہے!
ایسے ہی کسی منظر کو دیکھ کر شاید مولانا ریاست علی بجنوری رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے یہ صدا نکلی تھی:
کوہسار یہاں دب جاتے ہیں، طوفان یہاں رک جاتے ہیں
اس کاخِ فقیری کے آگے، شاہوں کے محل جھک جاتے ہیں
اور پھر وہی احساس ایک اور آہنگ میں جلوہ گر ہوتا ہے:
آنکھوں نے کہاں دیکھا ہوگا اخلاص کا ایسا تاج محل
یہ صرف شاعرانہ مبالغہ نہیں؛ دارالعلوم کی تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس ادارے کی اصل قوت اس کی عمارتوں، اس کے صحنوں اور اس کے در و دیوار میں نہیں، ان نفوسِ قدسیہ میں رہی ہے جنہوں نے یہاں علم کو عبادت، تدریس کو خدمت، اور زندگی کو دین کے لیے وقف کرنے کا نام دیا۔ اسی روشن کردار کی یاد دلاتے ہوئے مولانا ریاست علی بجنوری رحمۃ اللہ علیہ نے اسلاف کی اس علمی و روحانی میراث کو ایک دعا اور تمنا کی صورت میں یوں سمیٹا تھا:
یوں سینۂ گیتی پر روشن، اسلاف کا یہ کردار رہے
آنکھوں میں رہے انوارِ حرم، سینوں میں دل بیدار رہے!
یہ محض ایک ترانے کا شعر نہیں، بلکہ دارالعلوم کے پورے مزاج اور اس کے مقصدِ وجود کی ایک بلیغ تصویر ہے۔ اسلاف نے جس علم، اخلاص، مجاہدہ اور خدمتِ دین سے اس ادارے کی بنیادوں کو مضبوط کیا، ان کے روشن کردار کی پیروی کرتے ہوئے اسی تسلسل کو آگے بڑھانے کے لیے جلسۂ انعامیہ جیسی روایات آج بھی زندہ رکھی گئی ہیں۔ یہ مجلس گویا ماضی کے روشن چراغ کو حال کی نسل کے ہاتھ میں دینے کا ایک خوب صورت منظر ہے؛ اسلاف کی محنتوں کی یاد بھی، ان کے طریقے کی پاسداری بھی، اور آنے والے زمانوں کے لیے اس علمی سلسلے کو جاری رکھنے کا عزم بھی۔
اور شعر کا دوسرا مصرع تو گویا اسی مجلس میں بیٹھے ہوئے ان طلبہ کے چہروں اور سینوں کی ترجمانی کرتا ہے: “آنکھوں میں رہے انوارِ حرم، سینوں میں دل بیدار رہے!” یہ وہ طلبہ ہیں جو عشقِ دین و شریعت کی طلب میں اپنے گھروں سے نکل کر اس علمی آشیانے میں آ بیٹھے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کہلاتے ہیں، جن کی آنکھیں حرمین شریفین کی محبت اور ان کے انوار سے روشن رہنے کی آرزو لیے ہوئے ہیں، اور جن کے سینے علمِ شریعت سے بیدار ہیں۔ ان کے لیے علم محض حافظے میں محفوظ کیے جانے والی معلومات کا نام نہیں؛ یہ دل کی زندگی، عمل کی رہنمائی اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کا وسیلہ ہے۔ ان کی آنکھوں میں انوارِ حرم ہوں اور سینوں میں احکامِ شریعت کی بیداری—تو یہی وہ کیفیت ہے جس سے اسلاف کا کردار زندہ رہتا ہے اور یہی وہ نسل ہے جو اس علمی امانت کو آگے لے جانے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔
تو اسی زندہ روایت کی ایک خوب صورت علامت جلسۂ انعامیہ ہے، جس کی روایت حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، بانیِ دارالعلوم دیوبند، کے عہد سے چلی آرہی ہے۔ یہ محض امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کے ہاتھ میں انعام رکھنے کی تقریب نہیں؛ یہ علم کی راہ میں محنت کرنے والے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہے جن کے سینوں میں آنے والے زمانوں کی علمی امانتیں پرورش پارہی ہیں۔ انعام یہاں صرف ایک طالب علم کی کامیابی کا اعتراف نہیں، بلکہ علم، محنت اور اسلاف کی علمی روایت سے وابستگی کی قدر افزائی ہے۔
یکم اکتوبر 2026ء، جمعرات کو منعقد ہونے والی اس سال کی مجلس بھی اسی قدیم روایت کی ایک روشن کڑی تھی۔ ہزاروں طلبہ کے درمیان حاضری اور تعلیمی انہماک کے جو اعداد سامنے آئے، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ درس سے وابستگی اور وقت کی پابندی کا ذوق آج بھی اس ادارے کے ماحول میں زندہ ہے۔ اسی مجلس کی نظامت کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نے دارالعلوم کی عظمت اور اس کے علمی ورثے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے طلبہ کو اپنے اکابر کی تصانیف سے مضبوط رشتہ قائم کرنے کی ضرورت یاد دلائی۔ یہ بات بظاہر مختصر ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا علمی منہج پوشیدہ ہے؛ کیونکہ جو طالب علم اپنے اسلاف کی کتابوں سے واقف ہوتا ہے، وہ صرف ماضی نہیں پڑھتا، بلکہ اپنے علمی مزاج کی بنیادوں کو بھی پہچانتا ہے۔
اسی تسلسل میں صدر المدرسین حضرت مولانا سید محمد ارشد مدنی صاحب نے دارالعلوم کو اکابر کی امانت قرار دیتے ہوئے اس کی حفاظت کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا۔ یہ امانت محض عمارتوں، کتابوں اور چند تاریخی یادگاروں کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے علمی و دینی مزاج کی امانت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوا ہے۔ دارالعلوم کے فضلاء آج دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً امریکہ، برطانیہ اور دوسرے ممالک میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں؛ اس لیے اس امانت کی وسعت بھی دارالعلوم کی حدود سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔
اسی موقع پر حضرت مولانا بدرالدین اجمل صاحب کی محبت و وابستگی بھی خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ دارالعلوم کے ساتھ ان کا تعلق محض کسی تقریب کی حد تک نہیں؛ طلبہ، اساتذہ اور ادارے کے مستقبل کے بارے میں ان کی فکر اس تعلق کی گہرائی کا پتہ دیتی ہے۔ اس سال بھی انعامات کے لیے ان کی طرف سے نمایاں تعاون ہوا اور دارالعلوم کی جانب سے مقررہ رقم کے ساتھ مجموعی انعامات بیالیس لاکھ چونتیس ہزار پانچ سو روپے تک پہنچے۔ اصل قدر اس رقم سے زیادہ اس جذبے کی ہے جو علم کے ان نوجوان مسافروں کی حوصلہ افزائی کے پیچھے کارفرما ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور صدقۂ جاریہ بنائے۔
خوشی کے ایسے مواقع پر محبت کے ساتھ چند باتیں عرض کرنے کی بھی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی لیے اربابِ دارالعلوم، اربابِ شوریٰ اور اربابِ انتظامیہ کی خدمت میں یہ چند گزارشات کسی شکایت کے طور پر نہیں، ایک خیرخواہ کی آرزو کے طور پر پیش ہیں۔
دارالعلوم کی تاریخ جس قدر عظیم ہے، اس کے علمی امکانات بھی اسی قدر وسیع ہونے چاہییں۔ دنیا کے بڑے جامعات اور علمی مراکز نے اپنے نظامِ تعلیم، تحقیق، رہائش اور مختلف شعبوں میں بہت سی نئی صورتیں اختیار کی ہیں۔ دارالعلوم کی اپنی روایت اور اپنے اصول ہیں، جن کی حفاظت ضروری ہے؛ لیکن جو مفید تجربات ان اصولوں سے ہم آہنگ ہوں، ان سے استفادہ روایت سے انحراف نہیں۔ روایت کی حفاظت اور ترقی کی ضرورت ایک دوسرے کی ضد نہیں۔
اسی احساس کے تحت یہ بھی عرض ہے کہ دارالعلوم جیسی عالمی علمی درس گاہ کے لیے طلبہ کی گنجائش، عمارتوں کی وسعت اور بعض علمی شعبوں کا پھیلاؤ مزید توجہ کا مستحق ہوسکتا ہے۔ یہ بات کسی تقابل یا تفاخر کے لیے نہیں، بلکہ اس آرزو کے ساتھ ہے کہ اس عظیم علمی مرکز کا دامن مزید وسیع ہو اور اس کی خدمت کا دائرہ اس کی تاریخی عظمت کے شایانِ شان بڑھتا چلا جائے۔
اور جب ایک بڑے علمی مرکز کے مجموعی ماحول کی بات آتی ہے تو صفائی ستھرائی اور طلبہ کی رہائش گاہوں کا ذکر بھی بے محل نہیں۔ خصوصاً کمروں کے ماحول کو الائشوں سے پاک رکھنا اس وقت کی ایک اہم ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ درس گاہوں کی پاکیزگی، رہائشی مقامات کی صفائی اور عمومی نظم و ضبط بھی طالب علم کے ذوق اور طبیعت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ بظاہر چھوٹی چیزیں بھی کسی بڑے ادارے کی مجموعی شخصیت میں اپنا حصہ رکھتی ہیں۔
مطبخ اور خورد و نوش کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا مسئلہ نہیں؛ ہزاروں طلبہ کی صحت، توانائی اور تعلیمی انہماک اس سے وابستہ ہے۔ اگر دوپہر میں دال روٹی اور رات میں گوشت روٹی کا معمول پورے سال قائم رہے تو سادگی برقرار رکھتے ہوئے کچھ تنوع اور توازن کی گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔ ملک کے بڑے تعلیمی اداروں کے تجربات سے جو چیزیں دارالعلوم کے مزاج اور اصولوں سے ہم آہنگ ہوں، ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ خواہش صرف اتنی ہے کہ دارالعلوم کا پورا ماحول بھی اس کی علمی عظمت کی ترجمانی کرے۔ اس کے در و دیوار سے لے کر اس کے مطبخ تک، اس کی درس گاہوں سے لے کر طلبہ کے کمروں تک، ہر جگہ ایک ایسے ادارے کی سادگی، پاکیزگی اور سلیقہ مندی محسوس ہو جس سے دنیا بھر کے مسلمان محبت کرتے ہیں۔
دارالعلوم نے ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اس امت کی علمی رہنمائی کی ہے۔ آنے والے زمانوں میں اس کی ذمہ داری اس سے بھی بڑھ کر ہوگی۔ اسے اپنی روشن روایت کی حفاظت بھی کرنی ہے اور نئے سوالات کے سامنے اپنے علمی افق کو بھی وسیع رکھنا ہے۔ دنیا اس کی طرف دیکھتی ہے، اس کے فضلاء سے امیدیں وابستہ کرتی ہے، اور اس کے علمی چراغوں سے روشنی چاہتی ہے۔ ایسے میں دارالعلوم کا ہر قدم صرف اس ادارے کا قدم نہیں رہتا، وہ ایک بڑے علمی خانوادے کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خوشی کی اس ساعت میں کہی گئی یہ چند باتیں بھی اسی محبت کا حصہ ہیں جو دارالعلوم کے لیے دل میں موجود ہے۔ عظیم اداروں کی تاریخ صرف ان کے ماضی سے نہیں بنتی؛ ہر نسل اپنے حصے کا ایک ورق اس میں شامل کرتی ہے۔ اگر ہمارے اسلاف نے اخلاص، قربانی اور علم سے اس چراغ کو روشن کیا تھا تو ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے بصیرت، حسنِ انتظام اور وسعتِ نظر کے ساتھ آنے والے زمانوں تک پہنچائیں۔
اور جب کبھی اسی دل کی بیداری کے ساتھ تاریخِ دیوبند کے اگلے ابواب لکھے جائیں تو آنے والی نسلیں یہ کہیں گی کہ اس دور کے بزرگوں نے دارالعلوم کی شکل میں اپنے اسلاف کی امانت صرف سنبھالی ہی نہیں تھی، بلکہ اسے محبت، بصیرت اور حکمت کے ساتھ ہمارے زمانوں تک پہنچایا تھا؛ اب اس امانت کو اسی محبت اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ شاید آنے والے زمانوں میں بھی اسی تسلسل کے ساتھ جلسۂ انعامیہ کی یہ بزم سجتی رہے گی؛ ہم نہیں ہوں گے، مگر ہماری یہ کاوش اور یہ چند سطریں ضرور کسی نہ کسی دل پر دستک دیں گی، بالکل اسی طرح جیسے آج ہمارے اکابر کے روشن نقوش ہمارے دلوں پر دستک دے رہے ہیں۔ یوں نسلیں بدلتی رہیں گی، چہرے بدلتے رہیں گے، مگر اس علمی چراغ کی روشنی اور اسلاف کے روشن کردار کا یہ تسلسل قائم رہے گا۔
اللہ تعالیٰ دارالعلوم دیوبند کو ہمیشہ علم و عمل، اخلاص و بصیرت اور خدمتِ دین کا روشن مینار بنائے، اس کے اساتذہ و طلبہ کو قبولیت عطا فرمائے، اس کے معاونین کے اخلاص و تعاون کو شرفِ قبول بخشے، اور اس کے دامن کو اتنا وسیع فرمائے کہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی یہاں سے انوارِ حرم ملتے رہیں اور دل بیدار ہوتے رہیں۔ آمین۔
Comments are closed.