مولانا قاری شبیر احمد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ:راہیِ ملکِ بقا ہوگئے!

 

از، محمد شاہد ناصری حنفی

ادارہ دعوت السنۃ ویلفیئر ٹرسٹ، کاندیولی، ممبئی

مدیر: ماہنامہ مکہ میگزین، ممبئی

 

بعض لوگوں کے رخصت ہونے کی خبر صرف ایک فرد کے انتقال کی خبر نہیں ہوتی، بلکہ اپنے ساتھ ایک مانوس علمی ماحول کے خاموش ہوجانے کا احساس بھی لاتی ہے۔ مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا قاری شبیر احمد رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال بھی اسی نوعیت کا سانحہ ہے۔ ان کی وفات نے ایک ایسے شخص کو ہم سے جدا کردیا جس کی زندگی علم، تدریس، مطالعہ اور ایک دینی ادارے کی خدمت سے عبارت تھی۔

 

إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔

 

مولانا قاری شبیر احمد رحمۃ اللہ علیہ شکرپور بھروارہ ہی کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد اگرچہ عام دیندار مسلمان تھے، مگر علماء سے محبت رکھتے تھے۔ اسی محبت نے بیٹے کو دینی تعلیم کی راہ دکھائی۔ طالب علمی کا کچھ زمانہ ممبئی میں گزرا، پھر دینی تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے علم و فضل کی دنیا میں اپنا مقام بنایا۔ بعد میں مدرسہ دینیہ غازی پور میں ایک طویل عرصے تک تدریس سے وابستہ رہے۔ مولانا قاری شبیر احمد رحمۃ اللہ علیہ صاحبِ علم ہونے کے ساتھ قادرالکلام اور صاحبِ ذوق ادیب بھی تھے اور عربی زبان و علوم پر اچھی دسترس رکھتے تھے۔

 

اللہ تعالیٰ نے انہیں بصارت سے محروم پیدا کیا تھا، مگر علم کا ذوق اور مطالعے کی لگن بہت عطا فرمائی تھی۔ وہ کثیرالمطالعہ تھے اور اپنے وسیع مطالعے کی بنیاد پر علم میں رسوخ حاصل کیا تھا۔ کتابوں سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ مسلسل مطالعہ، غوروفکر اور علمی جستجو ان کے مزاج کا حصہ تھی۔ ان کی گفتگو اور تحریر میں ان کے مطالعے کی وسعت صاف محسوس ہوتی تھی۔ بصارت کی محرومی ان کے علمی سفر میں حائل نہ ہوسکی اور انہوں نے اپنی زندگی علم و تدریس اور دینی خدمت میں گزاری۔

 

فقیہ الامت حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر غازی پور سے مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ تشریف لائے اور پھر تقریباً پینتیس برس اسی ادارے کی خدمت میں گزار دیے۔ اس دوران مدرسے کے علمی، تعلیمی اور انتظامی امور میں بھی ان کا اہم کردار رہا اور ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی ادارے کی خدمت میں بسر ہوا۔

 

یہ وہی مدرسہ ہے جسے علم کے ایک بے لوث عاشق، مولانا ماسٹر محمد قمر الزماں صاحب مدظلہ نے حضرت مولانا قاری ابو عمر ناصری قاسمی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا مفتی محمود احمد ناصری رحمۃ اللہ علیہ کے مشوروں سے نامساعد حالات میں قائم کیا تھا۔ اس ادارے سے ہماری بھی ذہنی، فکری اور تدریسی وابستگی رہی ہے؛ اس لیے قاری صاحب کی وفات ہمارے لیے ایک مانوس علمی چہرے کے اوجھل ہوجانے کا صدمہ بھی ہے۔ اس مدرسے کی تاریخ اور قاری صاحب کی خدمات کا تفصیلی تذکرہ ان شاء اللہ کسی اور موقع پر ہوگا۔

 

قاری صاحب گزشتہ تقریباً دو ماہ سے علیل تھے۔ بیماری کے اس عرصے کے بعد آج جمعہ، 2 اکتوبر 2026ء، مطابق 20 ربیع الثانی 1448ھ، نمازِ جمعہ کے بعد وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔

 

موت کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ آدمی دوسروں کو رخصت ہوتا دیکھتا ہے، جنازے میں شریک ہوتا ہے، تعزیت کرتا ہے اور پھر چند ہی دنوں میں اپنی مصروفیات میں لوٹ آتا ہے۔ لیکن جس شخص کو ہم آج رخصت کر رہے ہیں، کل اسی راستے پر ہمیں بھی چلنا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اس کی باری کب آجائے گی۔

 

اسی لیے قاری صاحب کی وفات کے موقع پر اپنے بارے میں بھی سوچنے کو جی چاہتا ہے۔ قبر کی چوکھٹیں آج خالی ہیں، مگر معلوم نہیں کب کس کے نام کی تختی وہاں آویزاں کردی جائے۔ اس موقع پر مجھے بے ساختہ یہ شعر یاد آتا ہے:

 

چوکھٹیں قبر کی خالی ہیں اسے مت بھولو

جانے کب کون سی تصویر لگا دی جائے

 

مولانا قاری شبیر احمد رحمۃ اللہ علیہ راہیِ ملکِ بقا ہوگئے۔ علم و تدریس کی جو خدمت انہوں نے انجام دی، اس کی یاد ان سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں باقی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی و تعلیمی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔

 

ہم سب کے لیے بھی موت کی یہ خبر ایک یاد دہانی ہے کہ زندگی کی یہ مہلت ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی کو غفلت میں ضائع کرنے سے بچائے، وقتِ موعود پر خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے اور جب اپنے حضور بلائے تو ایمان و عمل کی پونجی کے ساتھ بلائے۔

 

آمین یا رب العالمین۔

Comments are closed.