وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
محمد اللہ قیصر
قاری شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی علمی گہرائی و گیرائی پر اہل علم گفتگو کرتے رہیں گے البتہ ہم جیسے لوگ جنہوں نے صرف انہیں سنا ہے، ان کی مجلس میں باریابی کے شرف سے محروم رہے ہیں، حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا نام سنتے ہی انہیں احمد فراز یاد آتے ہیں اور زبان سے بے ساختہ نکلتا ہے کہ
"وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں”
ایسا خوبصورت، دل آویز، شیریں اور من موہک لب و لہجہ کم از کم میں نے اب تک نہیں سنا تھا حالاں کہ یوٹیوب کی دنیا نے آج ہمیں یہ موقع ضرور فراہم کیا ہے کہ موجودہ اہل علم کے علاوہ قدیم شعراء، ادباء، علماء، و خطباء کی آوازیں سن سکتے ہیں، لیکن ان کے جیسا کوئی نہیں نظر نہیں آتا۔
یوسف خان عرف دلیپ کمار سے لیکر معین اختر، انور جلال پوری اور بشیر بدر تک، وہیں مذہبی حلقہ میں احمد جاوید صاحب، سلمان ندوی صاحب اور استاذ محترم حضرت سلمان بجنوری سب کے سب لب و لہجے میں اپنی مثال آپ ہیں، یہ سب بولتے ہیں تو لگتا ہے ان کی زبان سے الفاظ نکلتے نہیں ڈھلکتے ہیں لیکن میرا دل کہتا ہے کہ قاری صاحب سب پر فائق تھے، ان کی گفتگو آبشار کا سماں پیدا کردیتی تھی۔
وہ گفتگو کرتے تو محسوس ہوتا جیسے آس پاس کوئی جھرنا بہہ رہا *ہو،* جس میں روانی بھی ہے، الفاظ کے تسلسل سے پیدا ہونے والی دلگداز لے بھی، موسیقیت کی صوتی ہم آہنگی بھی،کانوں میں رس گھولتی ترنم خیز سرسراہٹ بھی، دلنشیں باز گشت بھی ،سکون قلب کا سامان بھی، اور خاموشی کا ایک لطیف احساس بھی۔
ان کے یہاں الفاظ کی آمد کے انتظار کا بوجھ نہیں جھیلنا پڑتا ہے، جملوں میں جو لفظ جہاں رکھ دیں محسوس ہوتا کہ اس لفظ کے لیے اس سے بہتر کوئی جگہ ہو نہیں سکتی، اور کمال کی بات ہے کہ ان کے یہاں لب و لہجے کی نزاکت صرف ادبی گفتگو میں ہی باقی نہیں رہتی بلکہ علمی، دینی، سیاسی، سماجی تاریخی ہر طرح کی گفتگو میں زبان و ادب کی لطافت اور چاشنی جوں کا توں برقرار رہتی ہے۔
موجودہ علمی و ادبی شخصیات میں کئی لوگ ہیں جن کے یہاں زبان کے حسن کی حفاظت کا خاصا اہتمام ہوتا ہے حتی کہ وہ فلسفہ اور تصوف جیسے بورکر دینے والے موضوعات میں بھی پرشکوہ الفاظ اور خوبصورت تراکیب سے زبان کے جمالیاتی پہلو پر آنچ نہیں آنے دیتے لیکن ان کے یہاں بھی کچھ نہ کچھ حد تک ایک قسم کا بوجھل پن محسوس ہونے لگتا ہے۔ قاری شبیر صاحب رحمت اللہ علیہ کو سنیے تو ان کی زبان سے جملے اتنی سبک خرامی سے نکلتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے کسی ڈھلوان کی اوپری سطح پر پانی انڈیل دیا جائے اور اوپر سے نیچے تک راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
میں بزم سجاد کے حوالہ سے حضرت رحمت اللہ علیہ سے ملاقات کے لیے دارالعلوم کے مہمان خانہ میں حاضر ہوا،(یہ پہلی اور آخری ملاقات تھی، بشارت العلوم میں انہیں پہلے بھی دیکھا تھا، لیکن حفظ کا طالب علم کیا جانے اور کیا بوجھے) بہر حال میں نے حضرت رحمت اللہ علیہ کو لائبریری میں تشریف آوری کی دعوت دی تو ایک صاحب بیٹھے تھے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا "بھئی غلام ربانی کل کسی وقت فرصت ہے؟ غلام ربانی میں غلام کے کسرہ (اضافت)کو ظاہر کرتے ہوتے جس نزاکت سے جملہ اداکیا یقین کیجئے جیسے کانوں میں رس گھول دیا ہو، میں کچھ دیر کے لیے مبہوت ہوگیا، اس ایک جملے میں لب و لہجے کی دل پذیری، ادائیگی، لفظ میں برتی جانے والی نزاکت، کلمات کے حرکات و سکنات کے مطابق آواز کے زیرو بم کا اہتمام، آواز میں نغمگی، اور ان سب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیان کی سحر انگیزی سب کچھ یکجا ہوگئے تھے، محسوس ہوا کہ ان کے لب و لہجے کے متعلق اب تک ساتھیوں سے جو کچھ سنا تھا وہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی حکایت میں ایک قسم کا قصور تھا اور وہ سب قاری صاحب کے حسن بیان، لب و لہجے کی لطافت، اور انداز کلام کی دلنشینی کی پوری منظرکشی سے قاصر رہے تھے۔
قاری صاحب رحمت اللہ علیہ کی گفتگو میں الفاظ صرف معانی ادا نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ آواز، آہنگ، ترتیب اور ادائیگی کے ساتھ ایک جمالیاتی تجربہ بن جاتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی گفتگو سننا محض کسی صاحبِ علم کو سننا نہیں تھا، بلکہ زبان کے حسن، آواز میں موجود موسیقیت اور بیان کی دل آویزی کا مشاہدہ بھی تھا
اللہ حضرت قاری صاحب کو غریق رحمت فرمائے
ان کے متعلقین و منتسبین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
Comments are closed.