انتخابی جیت ہار، اور سماجی ہم آہنگی کے حفاظت کی ضرورت از : محمد اللہ قیصر
انتخابی جیت ہار، اور سماجی ہم آہنگی کے حفاظت کی ضرورت
از : محمد اللہ قیصر
الیکشن کے نتائج آنے کو ہیں، قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کے پسندیدہ لیڈر کے کامیابی کی امید زیادہ ہے وہ ابھی سے جشن کی تیاری میں مصروف ہو چکے ہیں، پٹاخے بھی خریدے جارہے ہیں، جلوس کی تیاریاں ہورہی ہیں، اس کے علاؤہ خوشی کے اظہار کے ہر جائز و ناجائز طریقوں پر غور ہو رہا ہے، دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے لیڈر کے کامیابی کی امید کم ہے، وہ رنجیدہ و ملول خاطر ہیں، وہ کامیابی کا جشن منانے والوں کی زد سے بچنے کے طریقے تلاش رہے ہیں، کچھ کٹے کٹے سے نظر آرہے ہیں، انہیں اپنی ناکامی پر کبیدگی سے زیادہ مخالف کی کامیابی اور اس کے نتائج کا خوف ستارہا ہے، گویا ماحول میں ابھی سے کشیدگی کا زہر گھلنے لگا ہے،
سوال ہے کہ آخر ایسا کیوں؟ ایسا کام کیوں کریں، جس سے آپ کے شب و روز اور خوشی و غم کے شریک تکلیف محسوس کریں، ان کی دل شکنی ہو، وہ دوری اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں، اور آپ کا پڑوسی ناراض ہو جائے، وہ روٹھ جائے جو مصیبت کے وقت سب سے پہلے آپ کے پاس آکر مزاج پرستی کرتا ہے، آپ کو پریشانیوں میں انہیں سے مورل سپورٹ ملتا ہے، حالات کے تھپیڑوں سے نڈھال ہوکر آپ کا قدم لڑکھڑانے لگتا ہے تو وہ بازو تھام لیتے ہیں، لیڈر کامیاب ہوگا، پارٹی جیتے گی، سرکار بنے گی، سب کچھ ہوگا، آپ کو وہی ملے گا جو سب کو ملے گا، سرکار اچھی ہوئی، لیڈر انصاف پسند ہوا، تو یقینا ترقیاتی کام کرے گا، جن سے سب فائدہ اٹھائیں گے، آپ اکیلے نہیں، پھر اپنوں کو ناراض کرنےچ کیلئے آپ ہی اتنے اتاؤلے کیوں ہیں؟
خدارا مت کیجئے یہ سب ، اپنی ذاتی اور مخصوص سماجی زندگی کے تقاضوں کی قدر کریں، ان لوگوں کی قدر کریں جو آپ کے آس پاس رہتے ہیں، ان کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے والا کام کوئی عقل مندی نہیں، بلکہ بہت بڑی حماقت ہے، کوئی لیڈر، کوئی بھی پارٹی آپ کو نہیں کہتی کہ اپنوں کو اکسائیں، بھڑکائیں اور ان سے جھگڑے مول لیں، یاد رکھئے انتخابات کے بعد آپ کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے، ماں باپ کے علاج کیلئے، اپنی ضروریات اور شوق کی تکمیل کیلئے، کرنا وہی ہے، جو اب تک کرتے آئے ہیں، جو آپ کا پیشہ ہے، یعنی محنت و مزدوری، پھر کوئی مصیبت آئے گی، تو سب سے پہلے وہی دوڑے گا جو جو آپ کے گاؤں میں، محلہ میں، پڑوس میں رہتے ہیں، جن کی کھڑکی آپ کے گھر کی دیوار سے ملتی ہے، صبح نکلتے وقت سب سے پہلی ملاقات انہیں سے ہوتی ہے، فکر میں مسجد سے نکلتی وقت پہلی علیک سلیک انہیں سے ہوتی ہے، جن کو آپ ناراض کرنا چاہتے ہیں، جن کے سامنے اپنی برتری کے اظہار سے آپ کو دلی تسلی ملتی ہے، وہ لیڈر جس کے لئے آپ اپنوں کو ناراض کرنے پر تلے ہیں، ہزار قربت کے باوجود بھی وقت پر نہیں آسکتا، تو پھر کیوں ہم اپنے بھائی، پڑوسی، اور سماج کے لوگوں کو تکلیف پہونچائیں یا نیچا دکھانے کی کوشش کریں،
آپ خوشیاں منائیں، جھوم جھوم کر فرحت و شادمانی کا اظہار کریں، مسرت کے ترانے گائیں، دلی جذبات کا اظہار کریں ، سب کچھ کریں، لیکن اس سلیقہ سے کہ "سماجی ہم آہنگی”، اور "آپسی بھائی چارگی” کو ٹھیس نہ پہونچے، مخالفین بھی آپ کی سلیقہ مندی کا قائل ہوکر آپ کی خوشی میں شریک ہونے کو بے تاب ہوجائے۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے۔
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں۔
آئیے عہد کریں کہ کل نتجہ کچھ بھی ہو، ہم اپنوں کو یا دوسروں کو اپنے کسی عمل سے بھی تکلیف نہیں پہنچائیں گے، ان کی دل شکنی نہیں کریں گے، ایسا نہیں کریں گے کہ کل صبح ملتے وقت ایک دوسرے سے نظریں پھیرنی پڑی۔
اور اگر ہماری پسندیدہ پارٹی یا لیڈر ناکام ہوتے ہیں تو کسی طرح کی کبیدگی کے بغیر اپنی روز مرہ کی زندگی میں ایسے لوٹ جائیں گے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
Comments are closed.