حقوق العبادکی اہمیت
مفتی احمد نادر القاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
انسانوں کے حقوق کو شریعت میں حقوق العباد کہاجاتاہے. اللہ تعالی روزقیامت اپنے حقوق تومعاف کرسکتاہے.مگر بندوں کے حقوق کی اتنی اہمیت ہےکہ جب تک بندہ معاف نہیں کرےگا.اللہ بھی اسے معاف نہیں کرےگا.اورنہ ہی اس وقت اسکی تلافی کی کوصورت ہوگی سوائیے نیکیاں دینےکے. حدیث میں اس کی سخت وعید آئی ہے. "رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے اپنے جاں نثار صحابہ سے دریافت فرمایا.کہ مفلس اور فقیرومسکین کون ہے. معمول کےمطابق صحابہ نے عرض کیا.جس کے پاس مال اوردرہم ودینار نہ ہو.آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نہیں.پھرصحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ پھرکون مفلس ہے۔توآپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا مفلس وہ شخص ہے .جوکل قیامت میں روزے.نماز اورصدقات وخیرات کی بہت سی نیکیاں لےکراللہ کےدربارمیں حاضرہوگا.مگرجب حساب لیاجائےگاتواس کے خلاف بہت سے مدعی اپنے دعوے لیکر کھڑےہوجائیں گے.کوئی کہےگا اس نے دنیامیں میری زمین پڑپ لی تھی.اس کے بدلے اس کی نیکیاں دیدی جائیں گی. پھردوسراکھڑاہوگا.وہ کہےگا اس نے میری پیٹھ پیچھےغیبت کی تھی .اس کوبھی غیبت کی پاداش میں اس کی نیکیاں دیدی جائیں گی.اس طرح یکے بعد دیگر مدعی آتےجائیں گے اوراس کی نیکیاں ان کودی جاتی رہیں گی. جب ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی.اوردعویدارابھی باقی ہوں گے . تو ان دعویداروں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے. ان گناہوں کابوجھ اتناہوگاکہ فرشتوں کہ اللہ تعالی فرشتوں کوحکم دےگا اس شخص کو جہنم میں جھونک دو.(صحیح مسلم حدیث نمبر 2581) اندازہ لگائیے.آج لوگ کتنی آسانی اورجھوٹ وفریب کاسہارالےکر.یہاں تک کے بھائی.بہن .عزیز. پڑوسی رشتہ دار کسی کابھی حق بغیرآخرت کےخوف کے دبالیتےہیں. اورغیبت توعام سی بات ہوگئی ہے.جسے اپنےمردہ بھائی کاگوشت کھانے کےبرابرقراردیاگیاہے. اس کےعلاوہ نہ جانے کتنے حقوق ہیں.جولوگ ایک دوسرے کے پامال کرتے رہتے ہیں. اللہ کے دربار میں بندوں کے حقوق کی پامالی کی پاداش میں نہ بادشاہ بخشاجائیےگا.نہ وزیر. اورعزیزنہ رشتہ دار .نہ عام انسان.سب کوجواب بھی دیناہوگا. اورنیکیاں بھی دینی ہو ں گی.ورنہ جہنم توٹھکانہ ہےہی. اللہ تعالی ہم سب کو آخرت کی ایسی مفلسی.لاچاری اورخسارے سے حفاظت فرمائے. آمین.
Comments are closed.