مدارس کے اساتذہ اور خادمین دین کی فکر کیجئے محمد قمر الزماں ندوی

مدارس کے اساتذہ اور خادمین دین کی فکر کیجئے

محمد قمر الزماں ندوی

مغربی یوپی کے ضلع شاملی سے ایک انتہائی تکلیف دہ اور افسوس ناک خبر آئی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ، ایک مسجد کے امام صاحب نے، جن کو متولی مسجد نے لاک ڈاؤن میں امامت سے برطرف کر دیا تھا ، وہ حالات کے ستم کو برداشت نہ کرسکے اور زندگی سے مایوس ہوکر موت کے آغوش میں چلے گئے۔ یہ حادثہ بگیرو گاؤں ضلع شاملی کا ہے۔ حافظ محمد وسیم صاحب کے چھ بچے ہیں، وہ کسی جگہ امامت کرتے تھے اور بڑی مشکل سے اپنی اور اپنی بیوی بچوں کی کفالت کرتے تھے،لیکن کرونا کے قہر نے لاکھوں علماء اور ائمہ کی طرح اس کے لیے بھی روزی روٹی کا مسئلہ پیدا کر دیا اور ان کے منھ سے نوالہ چھین لیا، ظالم و ستم گر متولی نے انہیں امامت سے برخواست کردیا۔ وہ ایک خستہ حال فیملی سے تعلق رکھتے تھے، مالی حالت اچھی نہیں تھی، ان کی غیرت اور خود داری نے بھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے روک دیا، یا کسی سے اپنی ضرورت کے لیے کچھ مانگا ہو تو ممکن ہے کسی نے ٹال دیا ہو اور انکار کر دیا ہو۔ نوبت فاقے کی آگئی، غربت نے ڈپریشن کا شکار کر دیا، وہ ذھنی مریض ہوگئے اور اس حالت میں انہوں نے زندگی سے تنگ آکر زندگی سے رخصت ہونے کا فیصلہ لے لیا۔ زندگی کو منزل مل گئی اور محمد وسیم اس دنیا سے رخصت ہوگئے، زندگی میں آس پاس پڑوس، جماعت اور جمعیت اور محلے کے لوگوں نے خبر گیری نہیں کی اب مرنے کے بعد لوگ افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر ان کی زندگی میں محلہ والے آس پاس اور بستی اور علاقہ کے لوگ اپنے ماحول کا اور خاص طور پر دینی خدمت گزاروں کا جائزہ لیتے رہتے، تو محمد وسیم اس اقدام کے لیے اپنے کو مجبور نہیں پاتے۔۔ امت کی بے حسی اور دینی خدمت گزاروں کے تئیں ان کی بے تعلقی و بے توجھی پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
پندرہ بیس دن پہلے ایک مدرسہ کے مدرس نے جو عالیہ کے استاد ہیں، ہم سے کافی سنئیر ہیں، خود دار اور وضع دار بھی ہیں، بڑی اچھی صلاحیت کے مالک ہیں اونچی کتابیں پڑھاتے ہیں،انہوں نے فون کیا کہ عزیزم! سات آٹھ مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ہے (میں نے درمیان میں بات کاٹنے ہوئے تسلی کے لیے کہا میرے مدرسے کے اساتذہ کی بھی یہی حالت ہے صبر کریں) ، انہوں نے کہا کافی دقت کا سامنا ہے، کسی سے قرض لینا بھی اب مشکل ہے، کچھ راستہ نکالئے،)(الحمد للہ ہم سے جو ہوسکتا ہے خدمت خلق کا کام کرتے ہیں خاص طور پر مدرسین کے لیے انتظام کچھ نہ کرواتے رہتے ہیں) میں نے ان سے کہا کہ آپ میرے گاؤں تشریف لائیں اور رسید اپنے ساتھ لیتے آئیں۔ وہ آئے اور میں نے اپنے گاؤں کے لوگوں کو تعاون کے لیے متوجہ کیا اور چوبیس گھنٹے میں تقریبا سترہ اٹھارہ ہزار کا انتظام ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ جب مدارس بند ہیں ، طلبہ گھر میں ہیں تو چندہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، تو ہم نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ آپ لوگ کیا چاہتے مدارس، کے اساتذہ فاقہ کشی کریں اور اپنی جان دے دیں۔ یہ اضطرار کی حالت ہے اس وقت ان کے لیے زکوٰۃ کی رقم بھی تنخواہ میں لینا جائز ہے۔۔۔
یہ امت اتنی بے حس اور بے غیرت ہوگئی ہے کہ ان میں سے اکثر کو اس کی کچھ فکر ہی نہیں ہے، کہ دینی مدارس کے اساتذہ کے بارے میں وہ کچھ سوچیں اور فکر کریں۔ یہ تو ایک واقعہ میں نے بیان کر دیا میرے پاس برابر ایسے اساتذہ کے فون آتے رہتے ہیں۔ میں خود اپنے بارے میں بتاوں کہ لاک ڈاؤن کے اس طویل عرصہ میں سوائے چار پانچ افراد کے کسی نے کبھی خیریت دریافت نہیں کی کہ مولانا کیسے ہیں، اتنے دنوں سے گاوں میں ہیں، مدرسہ بند ہے،کیسے کام چل رہا ہے کوئی ضرورت تو نہیں ہے؟ جب ہزاروں لوگ مجھ سے جڑے ہوئے ہیں۔
میں نے دین کے لائن اور شعبہ کو اضطرارا نہیں اختیار کیا بلکہ یہ میری چوائس اور خواہش تھی، میں چاہتا تو آسانی سے سرکاری ملازمت حاصل کرلیتا راستہ ہموار تھا لیکن ہم نے دین کی خدمت کو ترجیح دی ۔ الحمد للہ اس اخلاص اور اختیار کا فائدہ ملا، معاش کا مسئلہ بھی حل ہوتا رہا، زمین سے غلہ کا مسئلہ حال ہوگیا اور لاک ڈاؤن میں کتابوں کی روائلٹی بھی کچھ نہ کچھ ملتی رہی، والدہ کی پینشن نے اور آسانیاں پیدا کردی۔
لیکن لاک ڈاؤن میں شدت سے احساس ہوا کہ علماء کو تعلیم و تدریس کے ساتھ کچھ نہ کچھ تجارت سے بھی جڑنا چاہیے تاکہ مالی دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور امت کے احسان سے بھی اپنے کو بچائے اور پوری خود داری کے ساتھ تعلیم و تدریس اور دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ان کے لیے آسان ہو۔
میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک عالم دین کو اپنی حیثیت عرفی کو باقی رکھنے کے لیے تین تا کا جامع ہونا چاہیے، وہ تعلیم، تبلیغ اور تجارت تینوں کو اپنی زندگی کا جزو بنا لے اور ان تینوں شعبوں میں اپنے آپ کو منہمک رکھے اور بتدریج اس کے لیے کوشش کرتا رہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں امت کو متوجہ کرنے کے لیے
استاد محترم جناب ۔۔۔۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ کی ایک جامع تحریر یہاں پیش خدمت ہے تاکہ صاحب بصیرت ہوش کے ناخن لیں.
*”یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مساجد اور مدارس مسلمانوں کی دینی زندگی کے لئے بے حد اہم ہیں؛ اگر یہ نہ ہوتے تو ہندوستان اور اس جیسے ممالک میں مسلمانوں کو ایمان پر باقی رکھنا بے حد دشوار ہوتا اور اتداد و الحاد کا طوفان نئی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔ دین کے یہ دونوں مراکز دینی خدمت گزاروں کے ذریعہ قائم ہیں، یوں تو ملک میں مدارس کی تعداد ہزاروں میں ہے، ہر سال فارغ ہونے والے علماء اور حفاظ بھی بعید نہیں کہ پچاس ہزار تک پہنچتے ہوں؛ لیکن ان کی ایک بہت ہی مختصر تعداد دینی خدمت کی لائن میں آتی ہے، ان ہی کے ذریعہ مساجدو مدارس کا نظام قائم ہے، یہ چیز بھی علماء کے حصہ میں اپنے بزرگوں کی میراث کے طور پر چلی آ رہی ہے کہ وہ بہت ہی معمولی معاوضہ پر دینی خدمت انجام دیتے ہیں، یہ اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے معاوضہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جب کہ ان کی خدمت کے اوقات بمقابلہ دوسرے لوگوں کے کافی زیادہ ہوتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ بعض دفعہ عصری تعلیمی اداروں میں انگریزی ،حساب اور دیگر عصری مضامین پڑھانے والے ساتھیوں کے مقابلہ ان کی تنخواہ کم رکھی جاتی ہے؛ لیکن پھر بھی وہ حفاظت دین کے جذبہ کے تحت اس پر قناعت کرتے ہیں؛ اگر دین کے یہ خدمت گزار نہ رہیں تو اگلے بیس پچیس سالوں میں مسلمانوں کے لئے اپنی نسلوں کے ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ مدارس و مساجد کے نظام کو فعال اور خودمختار رکھنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیاکہ ان کا حق الخدمۃ عام مسلمانوں کے تعاون سے ادا ہو، حالانکہ بعض جگہ حکومت چاہتی ہے کہ مساجد کے ائمہ اور مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں وہ ادا کرے، کئی ریاستوں میں اس کے لئے مدارس کے بورڈ بھی بنائے گئے ہیں، کئی ریاستوں میں وقف بورڈ نے ائمہ کی تنخواہوں کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے، اور افسوس کہ بعض جگہ مساجد و مدارس کے منتظمین اورائمہ ومدرسین نے اسے قبول بھی کرلیا ہے؛ لیکن در حقیقت یہ ایک میٹھا زہر ہے، آج اس کی مٹھاس اپنی طرف کھینچ رہی ہے؛ لیکن یہ چیز آہستہ آہستہ ان مقاصد کے لئے جان لیوا ثابت ہو گی، جن کے لیے یہ دینی مراکز قائم ہوئے تھے، پھر مساجد میں خطباء تو ہوں گے؛ لیکن ان کے منہ میں حکومت کی زبان ہوگی، مدارس میں علماء تو ہوں گے؛ لیکن ان کو حکومت کے چشم و ابرو کے اشاروں پر چلنا پڑے گا، دینی تعلیم سے آراستہ مصنفین تو ہوں گے؛لیکن ان سے اسلام کی حمایت کے بجائے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کا م لیا جائے گا؛ اس لئے اگر ہمیں ان مراکز کو اپنے اصل مقاصد پر قائم رکھنا ہے تو صحیح طریقہ یہی ہے کہ مسلمان خود ان کی ضروریات پوری کریں۔”*(شمع فروزاں – ١٦/١٠/٢٠٢٠)

Comments are closed.