نمستے ٹرمپ سے الوداع ٹرمپ تک۔ محمد صابر حسین ندوی
نمستے ٹرمپ سے الوداع ٹرمپ تک۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
دقت کی بات یہ ہے کہ رواں حکومت خارجی پالیسیوں کی باریکیاں سمجھنے و برتنے اور عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لے رہی ہے، ایک طرف ملک میں نسل پرستی اور فاشزم کو ہوا دئے جاتی ہے؛ تو دوسری جانب بیرونی منصوبہ بندی میں محض خام خیالی اور وقتی فوائد کو سامنے رکھتے ہوئے لائحہ عمل تیار کرتی ہے، اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہ ہوتا تھا کہ ہندوستان خارجی معاملات میں دو ٹوک رویہ رکھے (اس سے فلسطین کا مسئلہ مستثنیٰ ہے، جس کے متعلق گاندھی جی فیصلہ کن بات کہتے ہوئے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کی تھی) لیکن اس حکومت نے عالمی قیادت کے نشہ میں ہر معاملے کے اندر ٹانگ اڑائی اور بلاضرورت اس حد تک چلے گئے جس سے صرف نقصان ہی لازم آتا ہے؛ بالخصوص امریکہ کے متعلق ہندوستان کا رویہ بڑا متوازن ہوا کرتا تھا، مگر اس دفعہ مودی گورنمنٹ نے کھلے عام ٹرمپ کے سامنے خود سپردگی سے کام لیا، اپنے اڑوس پڑوس سے رشتے بگاڑ کر اور چائنا کی شیطانی چالوں سے نبرد آزما ہو کر بھی اس نے خود مستقل کوئی خاکہ تیار کرنے کے بجائے امریکہ کی پشت پناہی کو ہی اہمیت دی، یہ بات بھی درست ہے کہ دفعہ ٣٧٠/ بالاکوٹ فضائی اسٹرائک کے بعد کیپٹن ابھینندن کو پاکستان سے واپس لانے، این آر سی اور سی اے اے، جیسے متعدد معاملے میں ان کی خموشی (جو کہ رضامندی کی دلیل تھی) حاصل کی؛ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حق میں طویل ترین قصیدے کہے گئے؛ سب سے بڑی قصیدہ خوانی کی محفل ٢٢/ ٢٥ فروری ٢٠٢٠ کو "نمستے ٹرمپ” کے انعقاد کی صورت میں لگی تھی، یہ وہ وقت تھا جب ملک عزیز ساتھ ہی امریکہ میں بھی کرونا وائرس دستک دے چکا تھا، یہاں تو پہلا کیس جنوری کے اخیر میں ہی پایا جاچکا تھا، اور ٹھیک اسی دن دہلی فساد کی زد میں تھا، لوگوں کی لاشیں بکھر رہی تھیں، خون سے راجدھانی نہا رہی تھی اور انسانیت دم توڑ رہی تھی؛ اس کے باوجود اپنے آقا کی غلامی اور خود کی کمزوری کو چھپانے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں بھیڑ اکٹھی کی گئی، گجرات، آگرہ اور دہلی کی سیر کروائی گئی، کہتے ہیں کہ سو کڑور سے زیادہ خرچ کیا گیا تھا، یہ اتنی بڑی رقم تھی جس سے ملک کے سینکڑوں نوجوانوں کی نوکریوں بنائی جاسکتی تھیں، مگر کیا کیجئے! مودی جی نے اسے اپنی دوستی ثابت کرنے اور دنیا کو یہ جتانے کیلئے کہ ٹرمپ ہی دنیا کی قیادت کرسکتے ہیں اور ہندوستان ہی ان کا ساتھ دے سکتا ہے؛ انہوں نے سب کچھ کردیا، مخالفت ہوتی رہی، حزب مخالف بھی آواز اٹھاتے رہے بلکہ خود امریکہ کی اپوزیشن اور دانشوروں نے لاکھ باتیں کی؛ لیکن کون سنتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ نمستے ٹرمپ "ھاؤڈی موڈی” کا بدل تھا، یہ محفل امریکہ کے اندر ہوسٹن میں ٢٢/ اکتوبر ٢٠٢٠ کو سجی تھی، جس کے اندر پچاس ہزار ہندوستانی نژاد امریکیوں کی شرکت متوقع تھی، ایسا مانا جاتا ہے کہ اس میں ایک ٹریلین خرچ کیا گیا تھا، یہ بھی ایک موقع تھا جب مودی نے خود ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا تھا، بلکہ صراحتاً کہہ دیا تھا کہ اب کی بار ٹرمپ سرکار، یہ کتنی بڑی بیوقوفی تھی کہ اس کا اندازہ ہر کوئی کر سکتا ہے، ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنے ماموں اور پھوپھا کے یہاں گئے ہیں، اور ناسمجھ بچے ہیں جو دوڑ کر گھر گھر چلا جاتا ہے، ایک ایک کمرے میں داخل ہوتا ہے اور پورے حق کے ساتھ سامان بکھیرتا پھرتا ہے، وہ تو برداشت کرلیتے ہیں؛ لیکن یہ نادان اتنا نہیں سمجھ پائے کہ سیاست میں کوئی رشتہ داری نہی ہوتی؛ بلکہ پالیسیاں ہوتی ہیں، یہاں گدی کسی کی نہیں ہے، سبھی کرایہ دار ہیں، اگر ان کا ذاتی تعلق ہے تو وہ بھی کنارے رہنا چاہئے تھا اور صرف ملک کے مفاد کی بات ہونی چاہئے تھی؛ مگر ایسا نہیں ہوا، اس کے برعکس ٹرمپ امریکہ کو اولیت دینے میں ہر حد سے بڑھے ہوئے تھے، امریکہ فرسٹ کے نعرے میں وہ اتنا مگن تھے کہ ہندوستان کو کرونا میں معاون ایک دوا کیلئے دھمکی تک دے دی تھی، بھارتیوں کو باشندگی دینے سے انکار کردیا، کتنے طلبہ جو آن لائن پڑھ سکتے تھے انہیں واپس بھیج دیا کہ وہ ہندوستان سے ہی پڑھائی کریں گے، صرف امریکیوں کو نوکری دینے یا انہیں ترجیح دینے کی بات سینکڑوں دفعہ کر چکے تھے، خلیجی ممالک، افغانستان حتی کہ چائنا سے بھی لاکھ اختلافات کے باوجود وہ ایسی پالیسی اپنائے ہوئے تھے جس سے نوبت جنگ کی نہ آئے اور انہیں ایک طرف غلام بنایا جائے تو دوسری طرف ہتھیاروں کی فروخت سے معاشی بدحالی دور کی جائے، ساتھ ہی اپنی شخصیت مسلم بنائی جائے؛ مگر پھر بھی ہندوستان ٹرمپ کا دم چھلا بنا رہا، اب وہ شکست کھاچکے ہیں، ملک کے اندر گودی میڈیا میں کھلبلاہت مچی ہوئی ہے، وہ زبردستی بائیڈن سے مودی کا رشتہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں؛ جبکہ انہوں نے پہلے ہی این آر سی، کشمیر اور نیا مدعا آسام کے سلسلہ میں مکمل تشفی بخش اقدام کا عندیہ دے دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے ان کی تنقید بھی کی تھی؛ ایسے میں اب کیا ہوگا؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا؛ لیکن اتنا طے ہے کہ بے شرمی میں ہر ذلت کو امرت سمجھ کر پی جانے کی کوشش کریں گے اور مالک کے سامنے ننگا ناچ کرنے میں پہل کی جائے گی۔
Comments are closed.