ڈاکٹر فیاض احمد کی ہار میں لالچی اور ضمیر فروشوں کا کردار محمداللہ قیصر قاسمی

ڈاکٹر فیاض احمد کی ہار میں لالچی اور ضمیر فروشوں کا کردار

محمداللہ قیصر قاسمی

ڈاکٹر فیاض احمد کے مقابلہ ایک تشدد پسند اور فرقہ پرست کو کامیاب بناکر یقینا اپنے ضمیر کے سوداگر بڑے خوش ہوں گے، چند پیسوں کے عوض اپنی عزت و آبرو اور ایمان سے کھلواڑ کرنے والے کو سر کا تاج بنا کر وہ جھوم رہے ہوں گے، ڈاکٹر فیاض احمد سے ذاتی رنجش کا بدلہ انہوں نے اس شکل میں نکالا کہ پوری قوم اس کی مار جھیلے گی، کیا آپ نے اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہوئے ایک بار بھی معصوم مسلمانوں کے بارے میں نہیں سونچا، آپ نے ایک بار بھی یہ غور نہیں کیا کہ آپ کی ضمیر فروشی کی قیمت ہزاروں مسلمانوں کو چکانی پڑے گی، آپ نے کیا سمجھا تھا، کہ ڈاکٹر فیاض احمد کو ناکام کرکے خود کو سورما ثابت کردیں گے؟ بھول جائیے اپنے ذہن و دماغ سے اس بھوت کو مٹادیجئے، آپ ذلیل ہوں گے، خوار ہوں گے، اور ڈاکٹر فیاض احمد کے نزدیک جو نخرے دکھانے میں کامیاب ہوجاتے تھے وہ دن ہوا ہوئے، یقین جانئے آپ کو آنے والے کے سامنے غلاموں کی طرح کھڑا ہونا پڑےگا، کیوں کہ اپنے اپنا ضمیر اس کے ہاتھ فروخت کیا یے، آپ میں مجال نہیں کہ ایک حرف نکال لیں، مدھوبنی کا ایم پی غائب رہتا ہے، کوئی کام نہیں کرتا، بلکہ دیکھتا بھی نہیں کہ مجھے ووٹ دینے والے کا حال میں ہیں، کون مائی کا لعل ہے جو ان سے سوال کر سکے کہ آپ اپنی ذمہ نبھاتے کیوں نہیں، جی نہیں، کسی میں یہ ہمت نہیں،

جبکہ ڈاکٹر فیاض احمد نے خوب کام کیا، پھر بھی شکایتی مسلمانوں کو شکایت ہوگئی کہ میرے دروازے پر نہیں ائے، اب شاید آپ کا نام سمان بڑھ جائے گا، اور پوری بی جے پی آپ کے دروازے پر "نتمستک” کیلئے پہونچے گی، اور آپ کا کام بھی خوب ہوگا،

واقعی یہ ابھاگی قوم ہے، دین سے بیزاری کا یہی نتیجہ ہوتا ہے،

یادوں سے سبق لیجئے، انہوں نے صرف مذہب کی بنیاد پر فیصلہ لیتے ہوئے خاموشی سے اپنا ووٹ کہیں اور ٹرانسفر کردیا.

Comments are closed.