مگر ٹرمپ ازم ختم نہیں ہو سکتا۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
٢٠/ جنوری ٢٠٢١ تک کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی ایوان نمائندگان نے کارروائی شروع کردی ہے، اس قانونی کارروائی کو Impeachment امپیچمینٹ کہتے ہیں، جس میں کسی صدر کو غیر قانونی ایکٹیویٹی کی بنیاد پر ایوان کے ذریعہ معزول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس سے پہلے اینڈریو جانسن، بل کلنٹن اور پھر کچھ ماہ قبل ٹرمپ پر ہی یہ کارروائی ہوچکی ہے؛ لیکن اب تک اس کارروائی میں کسی کو مجرم. نہیں پایا گیا اور ناہی اسے صدارتی عہدہ سے ہٹایا گیا ہے، ٢٥/ ویں آئینی ترمیم کی دفعہ ٤/کے تحت اسے برتنے کی گنجائش ہے، ٹرمپ کے خلاف Impeachment میں ٤٣٥ رکنی ایوان میں سے ٢٣٢ نے حمایت کی ہے؛ جبکہ کچھ کانگریسی نیتاؤں نے مخالفت کی ہے، نوبت یہ آچکی ہے ٹرمپ کو ایوان نے Impeachment کا مستحق مان لیا ہے، اب یہ معاملہ سینیٹ میں جائے گا جہاں قوی امکان ہے کہ وقت سے پہلے ہی صدر کو ہٹا کر نائب صدر اس کا مقام لے لے، مگر تازہ رپورٹس بتلاتی ہیں کہ سینیٹ کی تعطیل ہونے کی وجہ سے اس کارروائی کو ٢١/جنوری کے بعد انجام دیا جائے گا، جب ٹرمپ ایک عام آدمی ہوں، رب بھی اسے اس لئے نتیجہ خیز بنانے کی کوشش ہوگی کیونکہ اس کی وجہ سے ایک پیغام دینا مطلوب ہوگا، قانونی برتری، امریکی جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹا جائے گا، اسی طرح ٹرمپ کو اگلے انتخابات اور کسی بھی سرکاری عہدے سے روک دیا جائے گا، عجیب بات ہے کہ اتنا کچھ ہونے بعد ٹرمپ اب بھی اس بات کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں؛ کہ ان کی شکست ہوئی ہے، بلکہ وہ زور بزور یہ کہتے جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ دہی سے کام لیا گیا ہے، یہی ان کے بیانات تھے جن کی بنا پر امریکہ میں موجود ان کے حامیوں نے جمہوریت کو رسوا کیا، ایوان پر ہلہ بول دیا اور دنیا کو یہ دکھا دیا کہ جمہوریت کے ٹھیکہ دار خود کتنے کھوکھلے اساس کو ڈھوتے پھر رہے ہیں، اس ہنگامے کے بعد وہاں اکٹھا بھیڑ سے پوچھا گیا تو ان میں سے کسی نے بھی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا؛ بلکہ ان میں سے اکثر نے یہی کہا کہ وہ صحیح ہیں اور ملک میں ٹرمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے، اب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن نے یہ تنبیہ کی ہے کہ صدر ٹرمپ کے جانے سے پہلے پہلے پورے امریکہ میں ہتھیار بند نوجوانوں کے ذریعے کارروائیاں ہوسکتی ہیں، امن و امان کو بگاڑا جاسکتا ہے، فساد مچایا جاسکتا ہے؛ حتی کہ پچاس راجدھانیوں اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی ان ہتھیار بند لوگوں کے ذریعے احتجاج کی امید ہے، یہ لوگ ایک جتھے میں ہیں، فرد کی شکل میں نہیں ہیں، امریکی خبر رساں ایجنسیوں میں ہنگامہ ہے، ایسا محسوس کیا جاسکتا ہے کہ پورا امریکہ اپنے ہی صدر اور ان کی رائے اور ان کے متبعین کی چپیٹ میں آنے والا ہے، اگر ٢٠/ جنوری کو شانتی کے ساتھ صدارتی عہدہ سے برطرفی نہ ہوئی تو دنیا دیکھے گی کہ کیسے امریکہ اپنی تہذیب و جمہوریت کی موت مرتا ہے، پورے ملک میں اگر ٹرمپ کے حامی ہیں تو یقیناً اب بائیڈن کے حامی بھی حرکت میں آچکے ہوں گے؛ یہی وجہ ہے کے اندیشے اور خدشات مزید بڑھ گئے ہیں.
دراصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ اگر عہدہ سے برطرف بھی ہوجاتے ہیں تب بھی ان کی سوچ اور ان کی فکر کو برطرف نہیں کیا جاسکتا، پچھلے چار سالوں میں ٹرمپ نے اپنے ماننے والوں کے اندر جنونیت، پاگل پن اور ہلڑبازی پیدا کی ہے، فاشزم، تشدد اور سنگ دلی کو بڑھاوا دیا ہے، عامیانہ سوچ اور مقلدانہ فکر عام کی ہے، آزادیاں چھن گئی ہیں، جوان ہوں کہ بوڑھے ہر طبقے میں بےچینی پیدا کردی گئی ہے، لاک ڈاؤن کے دوران کی رپورٹس کھل کر بتلاتی ہیں کہ امریکہ دیوالیہ پن کا شکار ہوا جاتا ہے، ٹرمپ نے خصوصاً امریکی قانونی اداروں کو جکڑنے کی کوشش کی ہے، سپریم کورٹ سے لیکر ہر نچلے درجے تک اپنے افراد بٹھا دئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والا کوئی نہ تھا، ان پر قانونی روک تھام کرنے والا بھی کوئی نہ تھا؛ اس سنگینی کا اندازہ اسی سے لگالیجئے کہ خود بائیڈن اس حق میں نہیں ہیں کہ ٹرمپ پر کارروائی کی جائے؛ کیونکہ اس سے مزید دشواریاں بڑھ سکتی ہیں، ٹرمپ نے خود کو یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک سپر مین ہیں، اس کے ہاتھوں میں دنیا کو چلانے اور امریکہ کے سارے مسائل حل کرنے کی سکت ہے، صرف وہی پورے امریکہ میں ایک ایسا شخص ہیں، جو امریکی دشمنوں کو جواب دے سکتا ہے؛ بالخصوص پچھلے تیس سال سے زائد عرصے میں امریکہ فوجی کارروائیوں سے خود اس کی اکانومی اور جنگ وجدل کی وجہ سے خاندانی نظام معطل ہوا جارہا ہے، نوجوانوں کی ہلاکت اور پالیسیوں کے سامنے عام امریکی بے بس نظر آتا تھا، ایسے میں ٹرمپ نے کوئی جنگی محاذ نہ کھولتے ہوئے اس نے جنگ بندی کے دائرے میں تمام مفادات حاصل کرنے کی کوششیں کی ہیں اور سچ یہ ہے کہ اس وقت وہ ایک کامیاب صدر کے طور پر جانے جاتے ہیں؛ البتہ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن نیز بعض غلطیوں کی بنا پر وہ قابل مواخذہ رہے؛ لیکن عمومی طور پر انہیں ایسا صاحب سیاست سمجھا جاتا ہے جو اپنی زبان سے نہیں بلکہ اپنے اقدام سے مسائل حل کر لیتا ہے، غور کیجئے خلیجی ممالک پر قبضے کا خواب دیکھنے والے امریکی صدور اتنا کامیاب نہ ہوئے جتنا ٹرمپ رہے ہیں، اس نے حرم مکہ سے لیکر قدس تک کو اپنے پنجے میں لے لیا ہے، اسرائیل کیلئے سب سے زیادہ مفید وہی رہے ہیں، غالباً یہی وجہ ہے کہ اب ان کی سوچ ایک ازم اور رواج بن چکی ہے، اگر وہ نہ بھی رہیں تب بھی ان کی سوچ سے امریکہ متاثر ہوتا رہے گا، اور امریکی پالیسیوں میں ان کی فکر گردش کرتی رہے گی.
Comments are closed.