کاکروچ جنتا پارٹی: جب عدالتی طنز جمہوریت کا استعارہ بن گیا
بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین
نئی دہلی کی ایک عدالت میں 15 مئی 2026ء کو معمول کی سماعت جاری تھی، مگر اس روز چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس سوریا کانت کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ نے پورے ملک میں طوفان برپا کر دیا۔ یہ محض ایک بیان نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی چنگاری تھی جس نے کروڑوں نوجوانوں کی دبی ہوئی مایوسی کو شعلوں میں بدل دیا۔ تاریخ نے ایک بار پھر اپنا سبق دہرایا: جب طاقتور، مظلوم کو حقیر سمجھتا ہے، تو مظلوم اسی تحقیر کو اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ زیرِ نظر تحریر اسی روز سے شروع ہونے والے ان چھ روزہ واقعات کی مستند رپورٹ ہے، جنہوں نے "کاکروچ” جیسے حقیر لفظ کو جمہوری احتجاج کی ایک نئی علامت میں ڈھال دیا۔
15 مئی کی صبح، سپریم کورٹ کے کمرہِ عدالت نمبر ایک میں جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی ملیا باغچی پر مشتمل بینچ، وکیل سنجے دوبے کی بطور سینئر ایڈووکیٹ نامزدگی کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ کارروائی کے دوران چیف جسٹس کا لہجہ تلخ ہو گیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے: "معاشرے میں پہلے ہی ایسے طفیلیے (Parasites) موجود ہیں جو نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں، اور آپ ان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں؟ ایسے نوجوان موجود ہیں جو کاکروچ کی مانند ہیں، جنہیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں جگہ۔ ان میں سے کچھ میڈیا، کچھ سوشل میڈیا، کچھ آر ٹی آئی اور دیگر شعبوں کے کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں۔”
بینچ نے مزید کہا: "ہزاروں دھوکے باز کالے کوٹ پہنے گھوم رہے ہیں، جن کی ڈگریوں پر سنگین شکوک و شبہات ہیں۔” عرضی گزار وکیل نے فوراً معافی مانگتے ہوئے اپنی درخواست واپس لے لی، مگر تب تک یہ الفاظ عدالت کی چار دیواری سے نکل کر پورے ملک میں پھیل چکے تھے۔
اگلے روز، 16 مئی کو، چیف جسٹس نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ میڈیا نے ان کے ریمارکس کو "غلط رنگ” دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "میں نے خاص طور پر ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو جعلی ڈگریوں کے ذریعے قانون جیسے معزز پیشے میں داخل ہوئے ہیں۔ ایسے ہی لوگ میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر معزز شعبوں میں بھی در آئے ہیں، اس لیے وہ طفیلیوں کی مانند ہیں۔” انہوں نے اس تاثر کو "مکمل طور پر بے بنیاد” قرار دیا کہ انہوں نے قوم کے نوجوانوں پر تنقید کی ہے، بلکہ ان کا کہنا تھا کہ "بھارت کا ہر نوجوان مجھے متاثر کرتا ہے۔” تاہم، یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ "#IAmProudCockroach” پہلے ہی ٹرینڈ کر رہا تھا اور لاکھوں نوجوان اس طنزیہ لقب کو سینے سے لگا چکے تھے۔
اسی روز، 30 سالہ پولیٹیکل کمیونیکیشن اسٹریٹجسٹ ابھیجیت دیپکے (جو بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز کے گریجویٹ اور عام آدمی پارٹی کے سابق سوشل میڈیا اسٹریٹجسٹ ہیں) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر ایک پوسٹ لکھی: "اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا؟” اس طنزیہ سوال نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک سوشل میڈیا تحریک کا روپ دھار لیا۔ دیپکے نے "کاکروچ جنتا پارٹی” (CJP) کے نام سے ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا ڈالے۔ خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "یہ بھارت کے سیاسی بیانیے کو بدلنے کی ایک تحریک ہے۔ بھارت کے نوجوان مرکزی دھارے کی سیاسی گفتگو سے بڑی حد تک غائب ہو چکے ہیں۔ کوئی ہمارے بارے میں بات نہیں کر رہا، کوئی ہمارے مسائل نہیں سن رہا، اور نہ ہی کوئی ہمارے وجود کو تسلیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
‘الجزیرہ’ کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا: "اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ سمجھتے ہیں کہ شہری، کاکروچ اور طفیلیے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کاکروچ گلے سڑے مقامات پر پلتے ہیں۔ آج کا بھارت یہی ہے۔”
اس کے بعد جو ہوا، وہ ڈیجیٹل تاریخ میں شاید ہی کبھی دیکھا گیا ہو۔ محض چار دنوں میں کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد ڈیڑھ کروڑ (15 ملین) سے تجاوز کر گئی، جبکہ اس وقت وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت ‘بھارتیہ جنتا پارٹی’ کے فالوورز 88 لاکھ (8.8 ملین) سے بھی کم تھے۔ مختلف ذرائع کے مطابق، ساڑھے تین لاکھ سے چھ لاکھ کے درمیان لوگوں نے گوگل فارم کے ذریعے پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ دیپکے نے اس غیر معمولی ردعمل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "اس میں سے کچھ بھی پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ یہ وہ نوجوان تھے جو حقیقت میں شدید مایوس تھے۔ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا اور وہ حکومت سے واقعی ناراض تھے۔”
21 مئی کو ایک قانونی نوٹس کے تحت پارٹی کے ‘ایکس’ اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کر دیا گیا۔ دیپکے نے اسے حکومت کا "اون گول” (Own Goal) قرار دیا اور اسی روز "Cockroach Is Back” کے نام سے نیا اکاؤنٹ بنا لیا، جس نے راتوں رات ہزاروں نئے فالوورز حاصل کر لیے۔
اس تحریک کی آندھی نے جلد ہی سیاسی شخصیات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ترنمول کانگریس (TMC) کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا نے ‘ایکس’ پر اس پارٹی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی، جس کا پارٹی نے خیرمقدم کیا۔ سابق رکنِ پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے بھی پارٹی میں شمولیت کا عندیہ دیا۔ سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے چیف جسٹس کے ریمارکس کو "انتہائی افسوسناک” قرار دیا۔ آر ٹی آئی کارکن انجلی بھاردواج نے تبصرہ کیا کہ صاحبانِ اقتدار سے سوال کرنا ہی جمہوریت کا حسن ہے۔ راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا نے چیف جسٹس کو ایک کھلا خط لکھ کر "کاکروچ” اور "طفیلیے” جیسی زبان کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ آشیش جوشی نے ‘الجزیرہ’ کو بتایا: "کاکروچ سخت جان کیڑے ہوتے ہیں؛ وہ ہر حال میں زندہ رہتے ہیں۔ اور بظاہر، وہ ایک پارٹی بنا کر آپ کے پورے نظام پر رینگ بھی سکتے ہیں۔”
کاکروچ جنتا پارٹی نے خود کو "سست اور بے روزگار لوگوں کی آواز” قرار دیا۔ جہاں ایک طرف رکنیت کے لیے بے روزگاری، کاہلی، ہمہ وقت آن لائن رہنے، اور پیشہ ورانہ شکایتی ہونے جیسے طنزیہ معیار رکھے گئے، وہیں دوسری جانب پارٹی کا منشور حیرت انگیز طور پر سنجیدہ سیاسی مطالبات پر مبنی تھا۔ ان مطالبات میں چیف جسٹسز کی ریٹائرمنٹ کے بعد راجیہ سبھا کی نشستوں پر پابندی، پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 50 فیصد کوٹہ، اور منحرف اراکین پر 20 سال کی پابندی شامل تھی۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ مزاح کی اس چادر تلے دراصل ایک گہرا سیاسی شعور بیدار ہو چکا تھا۔
اس تحریک کی جڑیں تلاش کرنے کے لیے ہمیں ان اعداد و شمار پر نظر ڈالنی ہوگی جو بھارت کی ‘جنریشن زیڈ’ (Gen-Z) کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ نیشنل اسٹیٹسٹیکل آفس (NSO) کے پیریوڈک لیبر فورس سروے (PLFS) کے مطابق، مارچ 2026ء میں 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 15.2 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جبکہ خواتین میں یہ شرح 17.7 فیصد تھی۔ یہ اضافہ اچانک نہیں بلکہ مسلسل تھا: اپریل 2025ء میں 13.8 فیصد سے بڑھ کر یہ شرح جون 2025ء میں 15.3 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچی، پھر دسمبر 2025ء میں 14.4 فیصد، جنوری 2026ء میں 14.7 فیصد، فروری 2026ء میں 14.8 فیصد، اور بالآخر مارچ 2026ء میں 15.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رپورٹ "اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026” نے اس تصویر کو مزید تاریک کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ 15 سے 25 سال کی عمر کے 40 فیصد گریجویٹ نوجوان بے روزگار ہیں، جبکہ 25 سے 29 سال کے 20 فیصد گریجویٹس بھی روزگار سے محروم ہیں۔ اسی طرح، ‘ڈیلوئٹ’ کے ایک عالمی سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ بھارت کی 54 فیصد ‘جنریشن زیڈ’ نے معاشی دباؤ کے باعث گھر خریدنے جیسے بڑے فیصلے ملتوی کر دیے ہیں۔ یہ دراصل وہ زرخیز مٹی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ جیسی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب طنز و مزاح عوامی غصے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، تو وہ ایک حقیقی سیاسی قوت بن سکتے ہیں۔ 2009ء میں آئس لینڈ کے مالیاتی بحران کے بعد، مزاحیہ اداکار ‘یون گنار’ نے "بیسٹ پارٹی” کے نام سے ایک طنزیہ سیاسی جماعت بنائی تھی، جس نے 2010ء کے بلدیاتی انتخابات میں 34.7 فیصد ووٹ حاصل کر کے دارالحکومت ریکیاوک کی سٹی کونسل میں شاندار کامیابی حاصل کی، اور گنار شہر کے میئر منتخب ہو گئے۔ ‘بیسٹ پارٹی’ نے بھی عوام کے غصے اور روایتی سیاست سے ان کی مایوسی کو مزاح کے ذریعے منظم کیا تھا، جس کا نتیجہ ایک حقیقی انتخابی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت کی "کاکروچ” تحریک بھی 2029ء کے عام انتخابات تک ایک حقیقی سیاسی قوت کا روپ دھار سکتی ہے؟ حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا کے ممالک جیسے سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش میں ‘جنریشن زیڈ’ کی قیادت میں چلنے والی تاریخی احتجاجی تحریکوں نے حکومتوں کے تختے الٹ دیے ہیں؛ تاہم بھارت کا وسیع پیمانہ، اس کی جغرافیائی و سماجی پیچیدگیاں اور جمہوریت کی گہری جڑیں اس سوال کو مزید کٹھن اور اہم بنا دیتی ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا ابھرنا، بھارتی جمہوریت کے لیے بیک وقت امید کی کرن بھی ہے اور خطرے کی گھنٹی بھی۔ امید اس لیے کہ جمہوریت میں طنز و مزاح ہمیشہ سے صاحبانِ اقتدار کے احتساب کا ایک مؤثر ترین ہتھیار رہے ہیں؛جب عدلیہ جیسے اعلیٰ ادارے کی زبان سے ادا ہونے والا محض ایک لفظ لاکھوں نوجوانوں کی شناخت کا نشان بن جائے، تو یہ اس بات کا غماز ہے کہ ڈیجیٹل دور میں شہری اپنی آواز بلند کرنے کے نئے راستے تراش رہے ہیں، اور یہ کہ جمہوریت کی روح ابھی زندہ ہے۔ دوسری جانب، یہ خطرے کی گھنٹی اس لیے ہے کہ جب کسی ملک کے کروڑوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے پاس اپنی شناخت کے لیے "کاکروچ” جیسی توہین آمیز اصطلاح کو فخر سے سینے سے لگانے کے سوا کوئی چارہ نہ بچے، تو یہ اس ریاستی نظام کی واضح ناکامی کی علامت ہے جس نے ایک پوری نسل کو امید اور مستقبل سے محروم کر دیا ہے۔
انٹرنیٹ کا مزاح کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ نہ تو روزگار پیدا کر سکتا ہے، نہ مہنگائی کم کر سکتا ہے، نہ امتحانی پرچوں کا لیک ہونا روک سکتا ہے، اور نہ ہی حقیقی پالیسی سازی کا متبادل بن سکتا ہے۔ یہ ساری صورتحال بھارتی پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے: "کاکروچ ہمیشہ گلے سڑے مقامات پر پلتے ہیں۔” جب تک یہ نظام ان نوجوانوں کو باعزت روزگار، مساوی مواقع اور سیاسی نمائندگی فراہم نہیں کرتا، یہ تحریک محض ایک ‘انٹرنیٹ ٹرینڈ’ تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ایک تباہ کن سیاسی طوفان ثابت ہو سکتی ہے۔
کیونکہ جب لاکھوں "کاکروچ” ایک ساتھ جمع ہوکر چلنا شروع کرتے ہیں، تو وہ تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
Comments are closed.