مفکراسلام حضرت مولانا علی میاںؒ اور مسلمانوں کے عائلی اور معاشرتی مسائل

ساتویں قسط
محمدانتخاب ندوی
ناظم تعلیمات دارالعلوم فیض محمدی مہراج گنج یوپی

اجتماعیت میں رہ کر زندگی گزارنے کا تصور ہر عہد میں پایا جاتا تھا۔اگرچہ جغرافیائی حالات اور خطے و علاقے کے لحاظ سے اس کی مختلف شکلیں رہی ہیں۔ بلاشبہ ہرانسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے پورا تحفظ حاصل ہو، تاکہ بے فکر ہوکر افراد خاندان کے ساتھ زندگی گزارے، لیکن ایسا اسی وقت ممکن ہے جب اصول، ضابطے اور قوانین کا اپنے آپ کو بھی پابند بنایا جائے۔اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ سسٹم کے صحیح نفاذ سے ہی خاندان کو منتشر ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اس کی اہمیت کو ہمیشہ محسوس کیا گیا ہے۔ مذہبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ہر خاندان اور قبیلے کا کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہوتاہے ۔ چنانچہ پوری دنیا میں بےشمار مذاہب اور ان کے ماننے والے موجود ہیں، لیکن ان سب کی تعلیمات پر غور کرنے کے بعد ہر انصاف پسند اسی نتیجے پر پہنچے گاکہ صرف اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں انسانوں کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ اس نے خاندان کی اصلاح اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے ایسامکمل خاکہ پیش کیا ہے جس سے بے نیاز ہوکر کسی مستحکم نظام کے قیام کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اس حقیقت کا اظہار مدارس کے پندرہ روزہ تامل اخبار *تغلق* کے ایڈیٹر چورانہ سوامی کو جنوری 1986ءمیں انٹرویو دیتے ہوۓ انھوں نے کہا کہ:۔
” *اسلامی قانون ہمارے قانون سے بڑھ کر عورتوں کے حقوق ومفادات کا ضامن ہے،انھوں نے کہا کہ مسلم ماہرین قانون،دانشورں،علماء اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں سے تبادلہ خیال کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ مسلم پرسنل لا کے حدود میں رہتے ہوۓ عورتوں کے حقوق کی کافی ضمانت دی جاسکتی ہے”*
بحوالہ سہ روزہ *دعوت* دہلی ٢٥/جنوری٦٨٩١؁ء
لیکن افسوس موجودہ وقت میں پھر سے وہی طوفان بدتمیزی حکومت اور خود مسلمانوں کے تجدد پسند اور آزاد خیال طبقہ کا ایک بار پھر سے وہی مطالبہ ہورہا ہے جوہرزمانے میں کیا جاتا رہا ہے اور یہ کہ ہندستان میں سارے فرقوں کا ایک مشترک عائلی قانون( UNIFORM CIVIL CODE)ہونا چاہیےکہ اسکے بغیر قومی وحدت اوریک رنگی نہیں پیدا ہوسکتی،سپریم کورٹ کھلم کھلا مداخلت فی الدین کرنے اور شریعت پر تابڑتوڑ حملہ کرنے پر تلی ہے،اور دوسال قبل ہی سپریم کورٹ نے **طلاق ثلاثہ**کے سلسلہ میں اپنا وہ فیصلہ سنایا جسمیں دین میں کھلی مداخلت، قرآن مجید کے الفاظ کی من مانی تشریح وتفسیر، شریعت اسلامی کی توہین اور اس پر کھلا حملہ تھا اس نے ملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اوراسکو اپنے دین وشریعت سے وابستگی،اسلام سے وفاداری،اور غیرت وخودداری کے ایک کے ایک فیصلہ کن مرحلہ پر لا کھڑا کردیا ہے،توایسے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیے اسکے لیے ہم مفکراسلام کی تحروں کا جائزہ لیتے ہیں
*مسئلہ کا حل*
مفکر اسلام حضرت مولانا تحریر فرماتے ہیں کہ
"ایسے سیکولر اور جمہوری ملک میں اپنی ملی تشخص کی حفاظت آئینی طریقہ پر کریں، ہندوستان کے وفادار، مفید، کارآمد اور اس کی ضروری جزء ہونے کی حیثیت سے اپنی افادیت و اہمیت ثابت کریں اور مطالبہ کریں کہ کوئی قانون ہماری شریعت، آسمان کتاب اور ہمارے عقائد کے خلاف نہیں بننا چاہیے،اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت کریں کے خلاف شریعت قانون بننے سے ہم کو اس سے زیادہ اذیت ہوتی ہے،اور ہمارا ملی موجود اس سے زیادہ خطرے میں پڑ جاتا ہے،جتنا کھاناروکنے سے،کوئی جمہوری حکومت، کوئی اقلیت اور کسی فرقے کی غذائی ضرورتوں کو نہیں روک سکتی، کوئی حکومت چاہے کتنی ہی طاقتور ہو،یہ قانون نہیں بنا سکتی کہ فلاں فرقہ کو غلے کی فراہمی روک دی جائے، یا بازار میں اس کو دکان کھولنے کی اجازت نہ دی جائے، یا اس کے بچوں پر تعلیم اور تعلیم گاہوں کے دروازے بند کر دیے جائیں، اگر ایسا ہونےلگے تو لوگ قیامت برپا کرسکتے ہیں، ہم ثابت کردیں کہ اس قانون اور اس نئے نظام تعلیم سے ہم کو ایسی گھٹن ہو رہی ہے،جیسے مچھلی کو پانی سے نکال کر باہر رکھنے سے ہوتی ہے،ہمارے چہروں کے اتار چڑھاؤ،حرکات و سکنات سے معلوم ہو جائے کہ ہماری صحت اور توانائی اور کارکردگی پر اثر پڑ رہا ہے اور یہ محسوس کر لیا جائے کہ یہ ایک مغموم قوم کے افراد ہیں،اس نئے قانون سے ان کا دم گھٹ رہا ہے، اور یہ ان کی آئندہ نسل کے قتل کے مرادف ہے۔
حقیقت میں ایک جمہوری ملک میں جو اکثریت کےذریعے( جس کے جذبات، خواہشات و مقاصد بدلتے رہتے ہیں) آئین سازی کا دائمی وکلی حق رکھتا ہے، کسی فرقہ واقلیت کو (جو اپنا مستقل دین، عائلی قانون اور ملی تشخص کو رکھتی ہے، اور وہ اس کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے) کسی وقت بھی مطمئن ہو کر بیٹھنے اور حالات و حقائق سے آنکھیں بند کر لینے کی گنجائش نہیں ہے، اس کے متعلق فاتح مصر عمرو بن العاص کی آگاہی اور انتباہ بالکل حسب حال ہے، جو انہوں نے مصر کے فاتح ونئے حاکم عرب مسلمانوں کو دیا تھا "وانتم فی رباط دائم”(تم مستقل محاذ جنگ پرہو)تمہیں ہروقت چوکنا اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.