Baseerat Online News Portal

مظفر نگر میں مسلم خاتون کی مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی

 

دوران حمل شوہر اور بہنوئی پر جنسی زیادتی کا الزام، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے انصاف کی اپیل

مظفر نگر۔۱۸؍مارچ: اترپردیش کے مظفر نگر میںنومہینے کی حاملہ خاتون نے شوہر کے جسمانی اور ذہنی تشدد کا الزام لگاتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ خاتون کا الزام ہے کہ حمل کے دوران اس کا شوہر اور بہنوئی اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے ہیں۔ خاتون نے اپنے شوہر پر پیسے کی لالچ میں جنسی استحصال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ خاتون کے مطابق ایسا کرنے سے منع کیا تو اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ شوہر کے مبینہ مظالم سے تنگ آکر خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی تاہم مقامی پولیس نے ملزم شوہر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ خاتون نو مہینے کی حاملہ ہونے کی وجہ سے مسلسل پولیس اسٹیشن کے چکر لگا رہی ہے۔ خاتون نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس نے اس کے شوہر کے خلاف قانونی کارروائی نہ کی تو وہ اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لے گی۔ متاثرہ خاتون کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کردی ہے۔دراصل معاملہ مظفر نگر تھانہ ککرولی علاقہ کے بہڑہ سادات کا ہے جہاں متاثرہ خاتون مسکان کا کہنا ہے کہ وہ بجنور ضلع کے افضل گڑھ کی رہنے والی ہے اور اس کی شادی پانچ سال قبل بہڑہ سادات کے رہنے والے علی شیر سے ہوئی تھی۔ خاتون نے اپنے شوہر علی شیر ایک فرضی ڈاکٹر بتایا ہے۔ الزام ہے کہ شادی کے بعد سے اس کے شوہر اور بہنوئی اس پر زبردستی کرتے تھے۔ علی شیر نشے کا عادی ہے، اسے روزانہ مارتا تھا اور دوران حمل شوہر اور دیگر اس کے ساتھ زبردستی جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ مسکان نے اس کی مخالفت کی تو اسے مارا پیٹا گیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر علی شیر نے پیسوں کی لالچ میں اپنی بیوی کو دوسرے مردوں کے پاس بھیجنا شروع کردیا جب کہ متاثرہ خاتون مسکان 9 ماہ کی حاملہ ہے۔ مسکان کے مطابق اس نے پولیس میں اپنے شوہر کے ظلم کی شکایت درج کرائی، لیکن پولیس نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ آج تھک ہار کر متاثرہ خاتون مسکان پولیس آفس پہنچی اور ایس پی سٹی ستیہ نارائنا پرجاوتی سے ملاقات کی اور اپنے شوہر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی درخواست کی۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اگر اسے انصاف نہیں ملا تو اس کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ خودکشی کر لے گی یا پھر اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلے گی۔ متاثرہ مسکان نے پی ایم مودی اور سی ایم یوگی سے انصاف کی اپیل بھی کی ہے۔ آج بھی متاثرہ خاتون مسکان کو پولیس افسران سے ملنے کی امید میں گھنٹوں دفتر میں انتظار کرنا پڑا۔ تاہم ایس پی سٹی ستیہ نارائن سنگھ نے متاثرہ کی شکایت پر قانونی کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔

Comments are closed.