Baseerat Online News Portal

عالم اسلام کے نامور مفکر مالک بن نبی پر آئی او ایس کا دوروزہ بین الاقوامی سمینار اختتام پذیر

 

امریکہ ،قطر، عمان ، بنگلہ دیش، ملیشیا ، انڈونیشیا ، الجیریااور بھارت سمیت متعدد ممالک کے اسکالرس نے پیش کیا مقالہ

نئی دہلی ۔ 19مارچ (پریس ریلیز)

معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے زیر اہتمام عالم اسلام کے مشہور مفکر مالک بن نبی کی حیات وخدمات اور افکار پر دوروزہ انٹر نیشنل سمینارآج اختتام پذیر ہوگیا ، دوسرے دن اختتامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کی یونیورسیٹی میں وزیٹنگ پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ الہیدان نے کہاکہ مالک بن بنی موجودہ صدی کیلئے آئیڈیل شخصیت ہیں، 20ویں صدی میں جہاں پوری دنیا کو دو عالمی جنگوں اور سرد جنگ کے خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑا جس نے پوری انسانیت کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت مالک بن نبی جیسے مفکر اور انسانیت کے خیر خواہ بھی پائے گئے جنہوں نے اسلامی فکر پیش کرنے کی کوششیں کیں۔ لوگوں کے تمام گروہوں کی بقا کے لیے ایک متوازن عالمی نظم پیدا کرنے کے لیے دسیوں کتابیں تصنیف کی اور دنیا بھر میں اسے اہمیت کی نگاہوں سے دیکھاگیا۔

اس موقع پر سات نکات پر مشتمل تجاویز بھی اتفاق رائے منظور کی گئی جس میں کہاگیا ہے کہ ملک بن بنی الجیریا کے مفکر اور انجینئر تھے، انہوں نے ہندوستان سمیت پورے دنیا کے لوگوں کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی حالات کا مطالعہ کیا ۔ ملک بن نبی نے دنیا میں مسلمانوں کی کساد بازاری کے بارے میں جدید طریقہ کار کا مطالعہ کیا، وہیں کسی اور جگہ کی مادی ترقی کے اثرات سے عام حوصلہ شکنی کے بغیر، تجزیہ، تخلیق، نئے خیالات اور معروضیت کی ضرورت پر مبنی سائنسی طور پر قابل تعریف حل پیش کیا۔ مسلمانوں کی ترقی اور ان کے آگے بڑھنے کے لیے ایسی فکر پیش کی جس کی بنیاد قرآن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت طیبہ پر تھی۔ علمائے کرام اور دانشوران اپنے دور کے مشکل ترین حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مالک بن نبی کے نظریات سے استفاد ہ کریں او ران کے افکار سے فائدہ اٹھائیں۔

واضح رہے کہ مالک بن بنی یکم جنوری 1905 میں الجیریا میں ان کی ولادت ہوئی تھی اور 31 اکتوبر 1973 میں وہ وفات پاگئے ، قاہرہ میں انہوں نے تعلیم حاصل کیا تھا ۔ مالک بن بنی دنیا کے ان اسکالروں میں شامل ہیں جنہوں نے اسلام کے مقاصد ، پالیسی اور تہذیب وثقافت پر معرکة الاراءکتابیں تصنیف کی اور دنیا بھر میں اس سے استفادہ کیاگیا ۔

پروفیسر محمد اسحاق نے کہاکہ الجیریا کی جدید تہذیب ثقافت کو اسلام سے ہم کنار کرانے میں مالک بن نبی کا کردار ناقابل فراموش ہے ۔ انہوں نے دسیوں کتابیں لکھی ہے جس میں الجیریا میں اسلامی تہذیب وثقافت کے فروغ کو بتایا گیا ہے۔شرکا ءنے مشترکہ طور پر یہ بھی بتایاکہ مالک بن نبی کے ہندوستان کے ساتھ گہرے تعلقات تھے ۔ ہندوستان کے علماءوسیاستداں سے بھی وہ بہت متاثر تھے اس کی وجہ یہ بھی تھی یہ دونوں ملک غلامی کا شکار تھے ۔ ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت تھی اور الجیریا کو فرانس نے اپنی کالونی بنارکھا تھا ۔ انہوں نے مہاتماگاندھی ،مولانا ابوالکلام آزاد ، پنڈٹ جواہر لال نہرو سمیت متعدد ہندوستانی رہنماﺅں سے ملاقات کی تھی اور متعدد ایشوز پر کئی مرتبہ میٹنگ بھی کی ۔

آئی او ایس کے اس بین الاقوامی سمینار میں امریکہ ، عمان ، مصر ، بنگلہ دیش، ملیشیا ، انڈونیشیا ، الجیریااور بھارت سمیت متعدد ممالک کے اسکالرس نے اپنا مقالہ پیش کیا جس میں انڈونیشا کے اسکالرڈاکٹر ہینڈری تنجنگ ،کیرالا کے ہدی عبد الکریم ،کیرالا کے توفیق عبد الکریم، محترمہ زرین وہاب، الجیریا کے پروفیسر اولڈ صدیق میلوڈ، پروفیسر عمار غاسمی، الجیریا کی محترمہ امینہ فلاحی ، ملیشیا کے ڈاکٹر سوہرین محمد سولیہن (ملیشیا)، سور عبدو(الجیریا)، ثنا نوفور،سور زکیتو ، عبید الرحمن نوفل( نئی دہلی)،ڈاکٹر محمد مسیح اللہ( نئی دہلی) ،محترمہ ڈاکٹر رقیہ اسلم (علی گڑھ)، ابراہیم ابڈیلالی( الجیریا)، ڈاکٹر ادریس جیبری( ڈبلن)، علینہ نصر(کیرلا)، طہر سعود (عمان)، ڈاکٹر نروان سیفرین (انڈونیشیا)، محی الدین وداکیالی(کیرالا)، ڈاکٹر علی محمد(کشمیر) ، ڈاکٹر نڈجیٹ بوکوضولا( الجیریا)، پڑوفیسرلاحول بخاری( الجیریا) ، ڈاکٹر بیدرانا بن لاحیکن (قطر) ،ڈاکٹر عدیل سیاد(الجیریا)، پروفیسر سید جمال الدین(علی گڑھ)، پروفیسر عبد الماجد عمرانی (الجیریا) ، پروفیسر حسینہ حمید ، محمد حسن خان (نئی دہلی)، ڈاکٹر محمد تاثیر بن شاہ گولفی ( موریشش) پروفیسر بورایا محمود (الجیریا)، ڈاکٹر راویاکوچی( الجیریا) ، نو رالدین الکبر( انڈونیشیا)، عمر نقیب ( الجیریا)، محمد خلیفہ (لیبیا) ، اونیسہ ایٹ بنالی الجیریا ، ڈاکٹر رحمت اللہ(علی گڑھ) ، ڈاکٹر محمد اجمل (اسسٹنٹ پروفیسر جے این یو نئی دہلی)، ڈاکٹر تنزیل احمد(علی گڑھ)،ڈاکٹر حفصہ علگیک(الجیریا)، محمد فڈیل بیل مومین( ملیشیا) ، مختری ، محمد احمل زہری ، سعد فرح ، مصطفی بن بولیڈ(الجیریا)، ڈاکٹر محمد ازہر الاسلام ( بنگلہ دیش)، سید سیف الدین( ملیشیا) ،ڈاکٹر انس پی ابوبکر(کیرلا)،ڈاکٹر عائشہ صدیقہ (علی گڑھ) ، شیخ افران (کیرلا) ،محمد لال چند(نئی دہلی‘،پروفیسر میلوکی سلیمان، پروفیسر حمید اللہ مرازی ، جمالیہ جمال، حفنی نسیف، مولیدہ عزت الامین ، ڈاکٹر لاربی اسماعیل ، ہاشم موگاہیڈ، ڈاکٹر نگہت رشید کے نام سر فہرست ہیں۔علاوہ پروفیسر حبیب اللہ خان پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ڈاکٹر عمر حسن کسولے جنرل سکریٹری آئی آئی آئی ٹی امریکہ ،ڈاکٹر طالب ہشام صدر آئی آئی آئی ٹی امریکہ،پروفیسر زیڈ ایم خان ، ڈاکٹر نو رالدین سابق وزیر الجیریا سمیت متعدد اہم مہمانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

پروفیسر افضل وانی نے نظامت کا فریضہ انجام دیا جبکہ  پروفیسر حسینہ حاشیہ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔

 

Comments are closed.