جمہوریہ ترکیہ ایک عظیم ملک:صدارتی انتخابات، زلزلہ اور بین الاقوامی سیاست کے پس منظر میں

سفر نامہ:کھول آنکھ زمین دیکھ، فلک دیکھ

مسافر :ڈاکٹر محمد قطب الدین
(ماہر نفسیات شکاگو امریکہ)
سلطنت عثمانیہ ترکی جو آج کل جمہوریہ ترکیہ کہلاتا ہے. دنیا کا ایک عظیم الشان اور منفرد ملک ہے. یہ ایشیا اور یورپ کو ملاتا ھے ۔ یہ جغرافیائی لحاظ سے بھی بہت ہیStrategic مرکزی مقام رکھتا ہے ۔
جمہوریہ ترکیہ کی آبادی قریباً 90 ملین ھے یہاں کی آبادی کی اکثریت سنی مسلمانوں کی ۔
1923 ء کے آتا ترک کے انقلاب کے بعد کے ادوار میں دین سے بہت بیگانہ اور دور تھے لیکن ان کے دلوں میں اسلام کی محبت اور رسول مقبول شہر سے عشق و محبت ان کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی. پھر وہ ملک کے مختلف ادوار میں رفتہ رفتہ وہ اسلام کے قریب آنے لگے اب وہ کافی حد تک اسلام سے نہ صرف بہت قریب ہیں بلکہ دوسرے ملکوں کو اسلامی شعار اور ان پر عمل پیرا ہوکر متاثر و دعوت فکر و عمل دے رہیے ہیں۔
ترک قوم نہایت ہی ملنسار اور محبت کرنے والی قوم ہے مہمان نوازی اور تکریم انسانیت کا جذبہ ان کا اندر کثرت سے پایا جاتا ہے،وہ ایک محنتی و جفاکش قوم ہے جو باتوں سے زیادہ کام پر توجہ دیتی ہے۔
کام سے کام فضول کاموں میں وقت گزارا نہیں کرتے ہے، وہ عام طور پر صحت مند، خوبصورت اور خوش اخلاق ہوتے ہیں ۔
میں تقریبا 20 سال سے ترکیہ آتا جاتا رہا ہوں اور کئی سال وہاں پر ابن خلدون یونیورسٹی میں Psychology پڑھاتارہا ہوں ۔ مجھے وہاں کے لوگوں سے بے حد محبت ہے انکی سادگی ، محبت اور عزم واستقلال قابل رشک و عمل ہے. یہ قوم ایک عظیم طاقت کی مالک ہے ۔ بہت ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ سخت محنتی بھی ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ ہندوستانی ، خوشبو عطریات اور Bollywood movies
کے کیسٹ پسند کرتے ہیں۔
استنبول ترکیہ کا دارالسلطنت ہے کافی طویل اور خوبصورت شہر ہے. اس کی آبادی 15 سے 18 لاکھ کے قریب ہے۔
شہر کی خوبصورت و عالیشان عمارتیں، خوبصورت میناروں اور گنبدوں کا شہر اس کے چاروں طرف خوبصورت پہاڑیاں جس وہ گھرا ہوا ہے دن میں اور رات میں یکساں پر رونق لگی ہوتی ہی. ۔ استنبول پانی ہے گھرا ہوا باسفورس ندی
Mediterean Sea
یہ دونوں استنبول کے بیچوں بیچ سے گزرتے ہیں . آپ یہاں سے ہر وقت یہاں سے سینکڑوں چھوٹے بڑے جہاز گزرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ساتھ میں یہ لوگ مچھلی پکڑتے رہتے ہیں واقعی بے حد خوبصورت شہر ھے اسکی مثال دنیا س نہیں ملتی۔
استنبول کے اہم و تاریخی مقامات
مسجد سلطان فاغ در سلیمانیہ مسجد، Galata Tower گلاٹا ٹاور، مسجد آیا صوفیہ گل ٹاور با سنفورس برج، گرانڈ بازار مشہور ہیں ۔ اسکے ساتھ ساتھ ترکش Turkish delights اور حمام بھی بہت مشہور ہے۔
یہاں کے مرد و عورتیں دونوں خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ کپڑوں کا Quietly اور اسٹائل اور معیار بھی بے باذوق ہے۔ لوگ ریاکاری، دکھاوے، جھوٹ، مکاری اور دھوکہ دہی کو بالکل پسند نہیں کرتے ۔
ترکی کے مشہور شہر
ترکی کے مشہور شہروں میں انقرہ قونیہ ، از میر وغیرہ شامل ہیں۔
ترکیہ پہاڑوں اور سمندروں سے گھرا ہوا ایک خوبصورت ملی ہونے کے ساتھ ایک بہترین تجارتی مرکز بھی ہے۔ اس کے ساتھ 9 نو ملک لگے ہوئے ہیں۔ گزشتہ 20 سال میں ترکیہ نے تیزرفتار و حیرت انگیز طور پر ہر محاذ و ہر شعبہ میں زبردست ترقی کی ہے۔
بلاشبہ ترکیہ کی اس ترقی میں وہاں کے صدر رجب طیب اردگان کا کردار ناقابل فراموش ہے، اردگان کی خارجہ و داخلہ پالیسی اور بین الاقوامی مسائل پر خصوصاً اسلام اور مسلمانوں کے مسائل پر قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے وہ وہاں کے عوام میں نہایت ہی مقبول و کامیاب قائد ہیں۔
ترکیہ ترقی کررہا ہے، اس میں وہاں کے صدر رجب طیب پردوان کی پالیسی اور وہاں کے عوام کی محنت خاص وجہ ھے۔ ایردوان ترک لوگوں میں کافی مقبول اور وہ بہت سیدھے انسان میں وہ اپنی زندگی کے مشکل ایام کو جب وہ بالکل غریب تھے، نہیں بھولے ہیں۔ اسی لیے لوگ اُن کو بے انتہا چاہتے ہیں۔
دنیا کا سب سے بڑا پناہ گزینوں کا کو پناہ دینے والا ملک
ترکیہ کے لئے پچھلے دس سال بے حد سخت گزرے ہیں کیونکہ شام کی خانہ جنگی سے کئی لوگ نام سے ترکیہ ہجرت کرکے آتے ہیں،تقریباً پانچ ملین یعنی 0 5لاکھ لوگ یہاں پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں یہ سانحہ اتنا بڑا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی دوسرا ملک لاکھوں کی تعداد میں موجود پناہ گزینوں کو اپنے یہاں پناہ دینے کو تیار نہیں ہے۔یہ اتنا بڑا سانحہ اور بوجھ تھا کہ کوئی بھی ملک اسکا متحمل نہیں تھا۔
لیکن سلام ترکیہ کی عوام اور وہاں کے نمائندوں پرکہ ترکیہ کی عوام اور خواص نے انہوں نے بے مثال اسلام کی انسانیت نوازی،اخوت و بھائی چارگی کی عظیم الشان مثال قائم کی ہے کہ رہتی دنیا تک اس کو بھلایا نہ جائے گا۔
یوکرین جنگ سے جو دنیا کی حالت تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر پہنچی تھی ایسے نازک وقت میں صدر رجب طیب کی حکمت عملی سے بہت مدد ملی ہے ورنہ دنیا ایک بڑے خشک سالی اور سوکھے سے دو چار ہوتی اگر بیوں وغیرہ دنیا کو Thapat نہ ہوتا خشک سالی اور
ابھی چند مہینے پہلے جو زلزلہ ترکیہ میں آیا ہے اس ہے ہوئے اور پورا علاقہ کبھی تھاکہ نہیں ہوگیا۔ قربان جائیے وہاں کی عوام کو کہ انہوں بہ بہترین اخلاق کا مظاہرہ کیا۔اس زلزلہ میں پچاس ہزار سے زائد لوگ شہید ہوگئے۔
صدر رجب کی دور اندیشی، ترکش عوام کی شجاعت سخاوت اور قربانی سے ترکیہ اس عظیم سانحہ میں میں بھی کامیاب رہاہے،جو مادہ پرستوں کو حیرت میں ڈالنےوالا ہے۔
قیامت خیز زلزلہ میں پچاس ہزار سے زائد لوگ شہید ہوئے اور لاکھوں بے گھر و بے سرو سامان ہوئے۔ سلام یہاں کی عوام کو کہ انہوںنے جس اسلامی اخوت و بھائی چارہ، شجاعت و سخاوت، ایثار و قربانی کا ثبوت و مظاہرہ کیا وہ دنیا میں کہیں دیکھنے کو نہیں مل سکتا ہے اور بلاشبہ قوم و ملک کے سربراہ رجب طیب اردگان کی مخلصانہ قیادت کی برکت ہے۔
ترکیہ میں جو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں وہ بہت اھم ہیں کیونکہ وہاں کی کرنسی lira لیرا کافی حد تک گر چکی ہے اور مہنگائی کافی بڑھ چکی ہے ۔ لیکن ترکش عوام نہایت ہی جسارت اور خود اعتمادی سے اسکو برداشت کر رہے ہیں اور وہ صدر اردگان کی ایمانداری اور دور اندیشی سے کافی متاثر ہیں ۔
انشاءاللہ دوسرے راؤنڈ میں بھی وہ بہت بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔

Comments are closed.