عرب سمٹ جدہ

ناظم الدین فاروقی
عرب سمٹ جدہ کے مجلس عام کا 32 واں اجلاس 19؍ مئی 23 کو جدہ میں منعقد ہوا۔اس سمٹ نے محمد بن سلطان کی سربراہی میں علاقائی بدلتی ہوئی سفارتی و سیاسی بدلتی صورت حال کے پیش نظر علاقائی و بین الاقوامی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کا اعلان کیا ہے ۔ ا س سمٹ میں لیگ کے 22 ممبران نے شرکت کی۔
عرب لیگ کے قیام کے 80 سال ہوچکے ہیں ۔ عالمی طاقتوں کے زیر اثر رہنے کی وجہہ سے عرب لیگ کا عرب قطعےمیں کبھی کوئی طاقتور اثر نہیں رہا۔ یہ دراصل تہنیتی ‘ مذمتی قراردادوں کا ایک مختلف الجہات کلب بن کر رہ گیا ہے۔ عرب لیگ کا ہیڈ کوارٹر جو کہ مصر میں ہے ‘ خادم حرمین شریفین کی وجہہ سے سعودیہ عربیہ کو عالم اسلام میں ممتاز مقام حاصل ہے اس کے علاوہ تیل سے مالا مال ہونے کی وجہہ سے ہمیشہ عرب و مسلم ممالک میں سوپر پاور کی حیثیت حاصل ہے۔ابتدائی 70 سالوں میں عرب دشمن طاقتوں خاص کر امریکہ اور اسرائیل نے عرب لیگ کو ایک روایتی عربی تہذیبی ‘ ثقافتی ادارہ بنائے رکھنے میں کامیاب رہے ۔عرب لیگ کوئی باختیار ایسا ادارہ نہیں ہے جس کے فیصلوں کو لازمی طور پر ممبر ممالک روبہ عمل لانے کے پابند ہوں ۔ممبران لیگ کے درمیان اکثر شدید اختلاف اور عدم اتفاق ہی دیکھا گیا۔ عالمی طاقتوں کے سیاسی ‘ معاشی ‘ اقتصادی Order کے مطابق اپنے آپ کو استوار کرنے کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں ۔
اسرائیل کے فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے ایک مسئلہ کو ہی دیکھ لیں ‘ 75 سال سے سیکڑوں قراردادوں کے باوجود اقوام متحدہ پر عرب لیگ موثر انداز میں سفارتی دباؤ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اس مسئلہ کو حل کرانے میں بار بار ناکام ہوتی رہی ‘ حالیہ جدہ سمٹ میں کئی غیر متوقع خبریں دیکھنے کو ملیں ۔شام کے ڈکٹیٹر بشار الاسد اور یوکرین کے صدر زلینسکی کو بھی مدعو کیا گیا تھا تو اِدھر متحدہ عرب امارات نے اُس اجلاس سے اپنے آپ کو دور رکھا۔
باوجود اس کے بعض عرب ممالک کی داخلی و خارجہ تباہی میں کھلے طور پر چند مسلم دشمن ممالک ملوث تھے ۔پھر بھی لیگ کے ممبران کے ان سے گہرے تعلقات قائم ہیں ۔بعض عرب ممالک کو بلا وجہہ ظلم و بربریت کے ذریعہ تباہ و برباد کردیا گیا ۔ عراق ‘ شام ‘ یمن ‘ لبنان ‘ لیبیا کے علاوہ کئی عرب ممالک کی داخلی جمہوری دستوری عوامی حکومتوں کو ملٹری بغاوتوں اور ڈکٹر شپ کے ذریعہ کچل کر حکومتوں کو معزول کردیا گیا۔
یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ عربوں نے ایران و روس کی اس شرط کو قبول کرتے ہوئے شامی عوام پر بشار الاسد کو واپس عرب لیگ میں بڑے پُر تباک طریقے سے لینے کے لئے یہ سمٹ کا انعقاد عمل میں آیا ‘ شامی عوام پر بشار الاسد کے مظالم کے پیشِ نظر2011 سے شام کی رکنیت کو لیگ نے معطل کررکھا تھا ۔
امریکہ اور یورپ نے یوکرین ۔روس کی جنگ کے آغاز کے ساتھ جو تیل کی پیداوار اور روس سے معاملات پربے جا تحدیدات عائد کردیں تھی ‘ عرب سوپر پاور کو اپنی سفارتی بین الاقوامی پالیسی پر دوبارہ غور کرتے ہوئے کچھ بڑی تبدیلیاں لانے پر مجبور کردیا تھا ۔
گزشتہ 20 سال سے روس ‘ امریکہ ‘ ایران ‘ شام ‘ عراق اور یمن میں عربوں کے خلاف پرائیویٹ میلشیا کے ذریعہ Proxy War میں برسرپیکار تھا ۔
2017 میں ٹرمپ کے دورہ ریاض کے موقع پر سعودی عربیہ اور امریکہ کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے دونوں ممالک نے آپسی تعلقات کو عروج پر پہنچانے کے لئے نئے معاہدہ کئے تھے اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ علانیہ امن معاہدات کا ایک سلسلہ عرب ممالک میں چل پڑا۔ اسرائیل کو عرب ممالک میں خوش آمدید کیا جانے لگا‘ سعودی عربیہ کی ہوائی پٹی کو اسرائیلی ہوائی جہاز وں کو گزرنے کی اجازت دے دی گئی ‘قطر کو انتباہ دینے سے سخت4 مطالبات کے ساتھ سعودیہ تعلقات کو فوری طور پر منقطع کردیا۔ اس سے قطر کا نا قابل تلافی نقصان ہوا۔ امریکہ کے انتخابات میں محمد بن سلمان کی ٹرمپ کو امداد نے ڈیمو کریٹس خاص کر جو بائیڈن کو ناراض کردیا اور جو بائیڈن کے صدر امریکہ کے منتخب ہونے کے بعد سے سعودی عربیہ امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری آنی شروع ہوگئی ۔امریکہ سے دوستی کا بار بار خمیازہ سعودی عربیہ کو بھگتنا پڑ رہا تھا‘ سعودی کے مفادات شدید طور پر متاثر ہو رہے تھے ۔
اس سرد مہری کا بڑا فائدہ چین اور روس نے اٹھایا اور علاقائی سیاست کو اپنے اپنے مفادات کے مطابق ازسر نو استوار کرنے میں بڑی پیش رفت حاصل کی ۔ ایران اور سعودی عربیہ کے تعلقات گزشتہ 12 سالوں سے سرد مہری کا شکار تھے ۔ شام ‘ عراق ‘ یمن میں ایران کی پرائیویٹ بریگیڈ القدس اور پاسداران انقلاب کی اسلحہ کی سپلائی ‘ عسکری تربیت اور جنگی حکمت عملی میں راست ملوث تھی امارات اور سعودی عربیہ کو کئی سال تک یمن میں اپنی فوجی و دفاعی و جنگی کوششوں کے باوجود خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ امریکہ ایک جانب ایران سے دشمنی کا اظہار کرتا ہے جب کہ عراق ‘ شام میں ایران کو امریکی پشت پناہی حاصل تھی ۔ سعودی عربیہ کو جھٹکہ اس وقت لگا جب امریکہ نے یمن کی خانہ جنگی میں ملٹری مشن کی تائید سے اچانک دستبرداری حاصل کرلی تھی ۔ حوثیوں نے آرامکو کمپنی کے تیل کے ذخائر اور فوجی تنصیبات پر راکٹ حملے کئے اس کے بعد امریکہ نے یمن کی خانہ جنگی میں سعودی عربیہ کی فوجی امداد سے دوری اختیار کرلی ۔امارات نہیں چاہتا تھا کہ یمن کی خانہ جنگی کا خاتمہ ہو۔ اس میں ایران ‘ روس اورسوڈان کے ایک جنرل حمیدتی کی فوج اور Mercenery حوثیوں کی تائید میں برسر پیکار تھی۔ جیسے ہی یمن میں جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ حمیدتی کی فورس سوڈان لوٹ گئی اور نئی سیاسی عسکری صف بندی کرتے ہوئے پرانے شرکا کو لے کر یمن سے سوڈان کی طرف خانہ جنگی کا رُخ موڑ دیا گیا ۔
ایران اور سعودی تعلقات کو مامول پر لانے چین کی خدمات:
چین نے ایران کے ساتھ سعودی عربیہ کے تعلقات کو مامول کے مطابق بحال کرنے کے لئے ثالثی کا رول ادا کرتے ہوئے 6؍ مارچ 23 کو بجنگ میں تاریخی معاہدہ پر دستخط کرانے میں کامیابی حاصل کرلی۔
75 سال میں بین الاقوامی سطح پر پہلی مرتبہ یہ دیکھا گیا ہے کہ امریکہ کو علاقائی ‘ سیاسی تبدیلیوں کے موقع پر دور رکھا گیا ۔ سعودی عرب نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایران سے تعلقات کو بحال کرنے میں بڑی گرم جوشی دیکھائی ۔ امریکہ کی ایک نہ سنی ۔ بیجنگ معاہدہ کے وقت ہی اس بات سے سعودی نے اتفاق کرلیا تھا کہ شام کو دوبارہ عرب لیگ میں شامل کرلیا جائے گا اور تمام عرب ممالک سے شام کے تعلقات کو 2010 سے پہلے کی طرح خوش آئند بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔
شام کی عرب لیگ میں واپسی اور ایران سے تعلقات میں گرمجوشی پر سعودی عربیہ کی فارن سفارتی پالیسی پر ملا جلا رد عمل دیکھنے میں آرہا ہے ۔ عالم اسلام کی دو بڑی تیل سے مالا مال مملکتوں کے درمیان دوستی اور برادارانہ تعلقات سے قطع میں بڑی حوش آئند تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے ۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عربیہ اور امارات کو یمن کی طویل خانہ جنگی میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ حوثیوں کو ایران کی عسکری امداد و تعاون نے تھکا دینے والی جنگ میں اپنے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور کردیا ۔ تمام عرب ممالک میں داخلی جنگی حکمت عملی میں ایران کو برتری حاصل رہی۔ سعودی عربیہ اپنی با عزت دستبرداری چاہتا تھا ۔ چین اور روس کی ثالثی کی وجہہ سے سعودیہ کو ایک زرین موقع ہاتھ آیا۔
عالم اسلام میں شام کی رکنیت کی عرب لیگ میں بحالی کو لے کر زبردست تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ عرب عوام اس بات کو لے کر سخت ناراض ہے کہ وقت قصاب کو عرب لیگ سمٹ جدہ میں خطاب کا کیوں موقع دیا گیا اور اس کی رکنیت کیوں بحال کی گئی؟سب اس بات کو لے کر حیران ہیں کہ کل کا ظالم ڈکٹیٹرراج امن کا چیمپین کس طرح قرار دے دیا گیا۔
بشار الاسد کے مظالم سے کون واقف نہیں ہے ۔ روس ‘ ایران ‘ امریکہ کو لے کر 20 لاکھ سے زیادہ معصوم ‘ بے گناہ شامی شہریوں کا بے دریغ قتل کیا ۔ عام بستیوں کے بستیاں تباہ کرنے اور ہلاک کرنے کے لئے زہریلی گیاس کے ڈرمس ‘ فائٹر جٹ ایر کرافٹ سےگرائے گئے ‘ 6 لاکھ سے زیادہ بچے علاج کے لئے دوا ٔنہ ہونے کی وجہہ سے ہلاک ہوگئے ‘ لاکھوں بچے یتیم ‘ لاکھوں عورتیں بیوہ ہو گئیں‘ نان شبینہ کے لئے آج بھی ترس رہی ہیں ۔دیڑھ کروڑ شامیوں(الشعب البریا) کو دنیا کے مختلف ممالک میں ہجرت کے لئے مجبور ہونا پڑا ۔ یورپ ہجرت کرنے کی کوشش میں ہزاروں لوگ سمندر میں حادثے کا شکار ہوکر مرگئے ۔ 30 لاکھ سے زیادہ ترکی ‘ 10 لاکھ اردن ‘ 5 لاکھ لبنان اور دیگر پڑوسی ممالک میں آج بھی شامی مہاجروں کی بڑی تعداد مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔15 لاکھ سے زیادہ کم عمر بچے ‘ بچیاں آوارہ جنگلوں ‘ کھیتوں ‘ سڑکوں پر پھر رہے ہیں ان کا دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے ۔بشار الاسد کی رکنیت بحال کرنے سے پہلے کروڑوں مہاجرین کی دوبارہ اپنے اپنے علاقوں ‘ بستیوں و گاؤں میں بازآبادکاری کا اعلان کرنا چاہیئے تھا۔ بشار الاسد کا دوسرا بڑا جرم ٹرمپ کے صدارت کے آخری ایام میں 18سومربع کلو میٹر پر محیط گولان کی پہاڑیوں کا پورا علاقہ اسرائیل کو حوالہ کردیا اس پر شام نے کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی اعتراض کیا۔
عراق کی طرح شام میں بھی روس ‘ امریکہ ‘ ایران کی میلشیا کے جنگجو نے تمام سنی سائنسدانوں ‘ انجینئرس ‘ دانشوروں ‘ اعلیٰ تعلیمی یافتہ حکومتی عہدہ داروں ‘ کمپنیوں کے مالکین ‘ اسلامی اسکالر ‘ علما اور دینی مدارس کے طلبا و اساتذہ کا مکمل طور پر صفایا کردیا گیا ۔ UNO کے علاوہ یورپی یونین کے آزاد انسانی حقوق کے تنظیموں کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ صاف طور پر کہا گیا ہے کہ بشار الاسد جنگی جرائم کا مرتکب ہے ۔ بے قصور اپنی ہی شامی عوام کا قتل عام کرنے والا وحشی جلّاد صفت یہ ڈکٹیٹر ہے۔ انسانی بنیادی حقوق اور سنّی مسلمانوں کے خون کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے سعودی عربیہ کو چاہیئے تھا کہ پہلے بشارالاسد کو معزول کروانے کی ایران کے سامنے شرط رکھتا ۔ سعودی عربیہ نے بشارا لاسد کو بغیر کسی اصلاح اور حکومتی سطح کی اپنے کیمپ میں شامل کرکے تاریخی سیاسی غلطی کی ہے ۔ اس ڈکٹیٹر کو اپنی ہی قوم کے معصوم عوام کے مسلسل قتل عام کا مجرم قرار دے کر پہلے اسے بے دخل کرنا چاہیئے تھا ۔مبصرین سعودی عربیہ کے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ اور غیر مدبرانہ قرار دیتے ہوئے اسے موقع پرستی کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں ۔
جب ظلم جاری تھا‘ جب آپ عالم اسلام کے سربراہ بنے تو پھر معصوم شامیوں کے بے جا خون کا حساب کرنا چاہئے تھا۔ 10 سال تک کیوں یمن ‘ شام ‘عراق میں سنی مسلمانوں کی جاری خون ریزی پر خاموشی اختیار کی گئی ۔ کل کا ظالم ‘ جابر ‘ وحشی حکمران آج انسانیت کے خلاف کئے جانے والے سنگین جرائم سے کیسے پاک ہوگیا۔ ڈکٹیٹرس کو ظلم و بربریت کا ہمیشہ کے لئے جواز مل جائے گا کہ اپنے ہی ملک کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کردو اور معصوم عوام کی خون کی ندیاں بہاتے رہیں پھر ان کو بڑی طاقتیں بچالے گی۔
صدام حسین پر 181 اہل تشیعہ حضرات اور حزب مخالف کو قتل کرنے کے الزامات تھے ‘ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے نیو کلیر وار بند کا لغو الزام لگا کر صدام حسین کو پھانسی پر چڑھادیا اس کے بعد صرف اس بات پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ 25 لاکھ معصوم سنی عراقی شہریوں کاسلسلہ وار قتل عام ہوتا رہا یہ سلسلہ کئی سال سے جاری ہے اور عرب سیاسی قائدین تماشہ دیکھتے رہے۔
عرب دانشوروں اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عرب معصوم نہتے عوام کے لہو کے تقدس کو بھینٹ چڑھاتے ہوئے شام کےبشارالاسد کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرنا نہتے ‘ بے بس‘ مجبور عوام کے ساتھ اس صدی کی بدترین اہانت اور ذلت ہے ! ایسا لگتا ہے کہ عالمی طاقتوں نے بھی بشار الاسد کو مرکزی اسٹیج پر لانے کی کوششوں پر اپنی رضا مندی دے دی ہے۔
انسانیت کی بقا کے لئے حکمرانوں کے لئے کچھ تو بنیادی ‘ اخلاقی ‘ مذہبی ‘ دستوری اصول ہوتے ہیں ۔ اسرائیلی لابی اس بات کا کھل کر مذاق اُڑا رہی ہے کہ دیکھئے عربوں کا قتل عام عربوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جس طرح شام نے اپنے عوام کو قتل کیا ہے‘ اسرائیل میں تو کبھی فلسطینیوں کو اس طرح سے بے دردانہ قتل نہیں کیا جاتا‘ بشار الاسد عرب ممالک کے دورہ پر ہے ہر ملک کے دورہ پر صحافتی کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردوں اور انتہا پسندی کے خلاف اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اخوان ‘ بہار عرب اور ترکی کی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ ہم عثمانی استعمار دور کے استبداد کو ہر گز بڑھنے نہیں دیں گے‘ قصاب ِوقت کو امن کا پیمبر بنا کر دورے کروائے جارہے ہیں۔
تیونس میں جہاں النھضحہ پارٹی کی حکومت کو الٹ کر قیس سعید نے صدارت کرتے ہوئے ملک کا ڈکٹیٹر بن گیا حکومت قائم کرلی ہیں بشار الاسد نے حال ہی میں وہاں کا دورہ کرتےوقت کہا کہ یہاں جو حکو مت سابق میں جمہوریت کے نام پر قائم ہوئی تھیں وہ عوام کی مرضی کے خلاف تھیں قیس سعید کی حکومت عوامی امنگوں کے مطابق ہے ہم اس کی تائید کرتے ہیں ۔
جن ممالک میں خاندانی حکومتیں اور ڈکٹیٹر شپ قائم ہے وہ متحدہ طور پر اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ کسی بھی عرب ملک میں آئندہ مستقبل میں کوئی بھی جمہوری حکومت قائم نہ ہوسکے چاہے دنیا کا کتنا بڑا جلّاد ہی کیوں نہ ہو اسے سرفراز رہنے اور حکمرانی پر فائز رہنے کی ہر طرح سے انھیں مدد دی جائے ‘ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہو بھی جائے تو اسے کمزور کرتے ہوئے بے دخل کردیا جائے۔
ہمارے سامنے وہ تمام عرب ممالک کی مثال جہاں عرب جمہوری انقلاب برپا ہوتے تھے ان سب کو چند سالوں میں ایک ایک کرکے معزول اور معطل کردیا گیا ۔سیاسی قائدین اور عوامی رہنماؤں کو عمر قید یا موت کی سزاؤں کے ذریعے ان سب کاخاتمہ کیا جا چکا ہے
جب تک بشارالاسد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں سعودی عربیہ اپنا منصفانہ رول ادا نہیں کرے گا اس وقت تک سعودی عربیہ کی حالیہ اختیار کردہ علاقائی پالیسی کو حق و انصاف کے علمبرداروں کی فطری تائید حاصل نہیں ہوگی۔ اپنی سوپر مسی یا مخصوص عرب ممالک کے مفادات حاصلہ کے لئے دوسرے عرب اقوام کو بھینٹ نہیں چڑھا یا جاسکتاہے ۔ سیاست اور ذاتی مفادات سے بہت اونچا اٹھ کر مظلوموں کو حق و انصاف دلاتے ہوئے عوامی ‘ جمہوری حکومت کو بحال کرنے میں ہر طرح کی مدد فراہم کرنا وقت کا اولین تقاضہ ہے ۔عرب لیگ کو عادلانہ ‘ منصفانہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔
.ایران اور سعودی عربیہ سے علاقائی ‘ اقتصادی ‘ تجارتی ترقی میں یقیناً اضافہ ہوگا اور ایک متحدہ عالم اسلام کی تعمیر نو میں مدد ملے گی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاہدات کتنے دیرپا اور کار آمد ہوسکتے ہیں ۔

Comments are closed.