اتحاد واتفاق : اہمیت ، ضرورت اور تقاضے
خطبہ عرفہ 1444 ھجری
عالی مقام پروفیسر ڈاکٹر شیخ یوسف بن محمد بن عبدالعزيز بن سعید حفظہ اللہ
اردوترجمہ: ثناءاللہ صادق تیمی
مترجم فوری حرم مکی
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو غالب بہت نوازنے والا ہے ، اس نےاجتماعیت کو نجات اور تفرقہ کو عذاب کا سبب بنایا اور اللہ پاک نے اتحاد و اتفاق اور محبت ویکجہتی کا حکم دیا اور ہر اس چيز سے منع فرمایا جس سے تفرقہ اور اختلاف جنم لے ۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے اللہ کے کوئی بھی معبود برحق نہيں ، ہم اسی سے امید باندھتے ہیں اور اسی سے خوف کھاتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وه بہت رحم کرنے واﻻ اور بڑا مہربان ہے”(البقرۃ:163)
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کےبندہ اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے باہمی تعاون اور اتفاق کا حکم دیا اورباہمی نفرت اور جگھڑے سے منع فرمایا ۔ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دلوں کو اکٹھا کردیا ، حالتیں درست کردیں ، اللہ نے آپ کو پیغام پہنچانے اور امانت ادا کرنے کا حکم دیا ۔ اللہ کا فرمان ہے :
"آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے”(الاعراف :158)
درود وسلام نازل ہو آپ پر ، آپ کی آل ، اصحاب اور پیروکاروں پر ۔
اما بعد :
اے مسلمانو! اللہ کی اطاعت کرکے ، اس کی شریعت کی پابندی کرکے اور اس کے حدود کی حفاظت کرکے اللہ کا تقوی اختیار کرو تاکہ تم دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے والے مصلح لوگوں میں سے ہو جاؤ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے”(النساء:13)
اللہ تعالی کے حدود کی حفاظت میں سے یہ ہے کہ عبادتوں میں سے کچھ بھی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نہ پھیرا جائے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
” فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے”(یوسف:40)
جو اہل توحید میں سے ہوگا وہ اہل ہدایت میں سے ہوگا اور اس کے لیے نجات اور قابل ستائش انجام ہوگا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟)(النحل :36)
اللہ تعالی نے لا الہ الا اللہ کوتوحید کی گواہی مقرر کرتے ہوئے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اسی کا چہرہ (اور ذات) ۔ اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے”(القصص:88)
اسی طرح اللہ نےاپنےنبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اپنے اس قول سے مقرر کی :
"محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں”(الفتح :29)
اور اپنے اس قول سے مقرر کی :
"(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے”(الاحزاب:40)
اس گواہی کا تقاضہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبروں کی تصدیق کی جائے ، آپ کے حکموں کی تعمیل کی جائے ، آپ نے جن چيزوں سے منع فرمادیا ان سے بچا جائے اور اللہ کی عبادت صرف اس طریقے پر کی جائے جسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے اس مین دن اور رات میں پانچ وقتوں کی نمازیں قائم کرنا ہے، زکوۃ دینی ہے چنانچہ مالدار آدمی اپنے فقیر بھائيوں کے دلاسہ اورمفاد عامہ میں حصہ داری نبھانےکےلیے اپنے مال کا تھوڑا حصہ دے گا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو”(البقرۃ:43)
اور اللہ پاک نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان میں ماہ رمضان کے روزے ہیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
” تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے”(البقرۃ:185)
اور اللہ کے حرمت والے گھر کا حج ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
” اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔”(آل عمران :97)
یہ ارکان اسلام ہیں جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہيں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرواور زکوۃ ادا کرو اور رمضان کا روزہ رکھو اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے کی تم میں استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو اور ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ، یوم آخرت پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو کہ اگر تم نہيں دیکھ رہے ہو تو وہ تو دیکھ ہی رہا ہے ۔
مومنو!اللہ کے حرمت والے گھر کے حاجیو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے خطبے میں سےیہ بات تھی : اے لوگو! بلا شبہ تمہارا رب ایک ہے ، تمہارا باپ ایک ہے ،سنو، نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور نہ کسی عجمی کسی عربی پر ، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل ہے سوائے تقوی کی بنیاد کے۔ سنو، میں نے پہنچا دیا ، بے شک اللہ نے تمہارے بیچ تمہارے خون، مال اور آبرو کو تمہارے اس دن کی طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس ماہ میں حرام قرار دیا ہے ۔اسے احمد نےصحیح سند سے روایت کیا ہے ۔
معلوم ہوا کہ زبانوں ، رنگوں اور نسلوں کا اختلاف فرقہ بندی اور جھگڑے کی وجہ جواز نہیں ہوسکتا بلکہ وہ تو کائنات میں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
"اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں”(الروم :22)
جن چيزوں پر زور دینے کےلیے بکثرت نصوص وارد ہوئی ہیں ان میں اتحاد ، محبت اور باہمی الفت کا حکم ہے اور جھگڑا، تفرقہ اور اختلاف سے ممانعت ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے "(آل عمران :103)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤاور یہ کہ تم سب کےسب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔
اسی لیے اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان جتلایا کہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم پر اکٹھا کردیا ۔ اللہ کا فرمان ہے :
” اللہ تجھے کافی ہے، اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے۔ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے وه غالب حکمتوں والا ہے ۔”(الانفال :62-63 )
اور اللہ تعالی نے تفرقہ سے منع کرتےہوئے فرمایا:
"بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے” (الانعام :159)
اور اللہ پاک نے فرمایا:
"تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈاﻻ، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے”(آل عمران :105)
اس کی وجہ یہ ہے کہ اتحاد میں دین ودنیا کی درستی ہوتی ہے ، مصلحتیں پوری ہوتی ہیں ، بگاڑ ختم ہوتا ہے ، اس سے نیکی اور تقوی پر تعاون حاصل ہوتا ہے ، اس سے حق کو غلبہ ملتا ہے ، باطل پسپا ہوتا ہے ، دشمن ناراض ہوتا ہے ، حاسدوں اور ٹوہ میں پڑے لوگوں کی کوششیں اکارت جاتی ہیں اور جب اتحاد ختم ہوجائے تو خواہشیں اور کینے داخل ہوجاتے ہیں ، ارادے متضاد ہوجاتے ہیں ، یوں حرام خون بہایا جاتا ہے ، معصوم مال حلال سمجھ لیا جاتا ہے ، حرمتیں پامال کی جاتی ہیں اور امت کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ترقی کرے اور اطاعتوں کی پابندی مشکل ہوجاتی ہے ۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک دوسرے سے محبت و رحمد لی میں مسلمانوں کی مثال جسم کی سی ہے کہ جب اس کےایک عضوکوتکلیف پہنچتی ہے سارا جسم شب بیداری اوربخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک مومن دوسرے مومن کےلیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کے ایک حصے سے دوسرے حصے کو تقویت ملتی ہے ۔
اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے اور شیطان اس کے ساتھ ہوتا ہے جس نےجماعت کو چھوڑ دیا اور اتحاد واتفاق کی قدر وقیمت کاپتہ تفرقہ و اختلاف کے ان تکلیف دہ اثرات سے چلتا ہے جو فرد ، خاندان اور معاشرہ پر پڑتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
” اور اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقیناً دور کے خلاف میں ہیں”(البقرۃ:176)
یہیں سے شریعت نے ایسی حفاظتی ضمانتیں اور ضروری قوتیں رکھی ہیں جو تخریب وتباہی کے اوزاروں کو اثر انداز ہونے سے روکتی ہیں کہ وہ معاشرہ کو توڑ سکیں ، اس نے مضبوط باڑ ربنایا ہے جوخاندانی ، سماجی ، ملکی بلکہ عالمی سطح پر اس کی عمارت کو ٹوٹنے اور اس کے ستونوں کو کمزور ہونے سے روکتا ہے۔
یہیں سے اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جھگڑے کے وقت کتاب وسنت کی طرف رجوع کریں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔”(النساء:59)
اور اللہ نے فرمایا:
"اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں”(شوری:10)
اور اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وه اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان والوں کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے”(النحل :64)
اسی طرح اللہ نے انہیں اچھے اخلاق و برتاؤ اور ایک دوسرے پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
"اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں”(آل عمران :159)
اورانہیں رغبت دلائی کہ وہ صبر اور خطاؤں سے درگزر کرنے کے اخلاق کو اپنائيں ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”(الانفال :46)
اور اللہ کا فرمان ہے :
"اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے”(آل عمران :133-134)
اتحاد کےحصول کے لیے شریعت نے سماجی ، خاندانی اور ایمانی رشتوں کو مضبوط کیا ، اس نےصلہ رحمی کا حکم دیا ، زن وشو ، باپ ، بیٹے اور بیٹیوں کے حقوق واضح کیے ، بقیہ تمام رشتہ داروں ، پڑوسیوں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا”(النساء:36)
اور حدیث میں ہے : تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔
اور شریعت نے خیر پر تعاون کا حکم دیا ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
” نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناه اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو "(المائدہ:2)
اور بری بات سے منع فرمایا:
"اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وه بہت ہی اچھی بات منھ سے نکالا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بےشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے”(الاسراء:53)
اور شریعت نے ان افواہوں اور سنسی خیز خبروں کے پیچھےبھاگنے سے منع کیا ہے جن کا مقصد صفوں میں تفریق پیدا کرنا ہو۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ”(الحجرات:6)
یہیں سےمسلمانوں کو خبر دار کیا جاتا ہے کہ وہ اتحاد کو توڑنے کےلیے اور سماج کے بعض لوگوں کو بعض کے خلاف بھڑکانے کےلیے مختلف وسائل اور اسالیب میں جاری معاندانہ پروپیگنڈوں سے بچیں ۔ اللہ تعالی نے متعدد عبادتوں کو ایسا مقرر کیا ہے کہ انہیں اجتماعی شکل میں ادا کرنا ہے جیسے آج آپ لوگوں کا سرزمین عرفات میں اکٹھا ہونا ہے اور جیسے جمعہ اور جماعت کی نماز میں اکٹھا ہونا ہے اور جن چيزوں سے اتحاد حاصل ہوتا ہے اور جنہیں شریعت لے کر آئی ہے ان میں سماجی ہم آہنگی ، زکوۃ دینا، وقف کرنا اور صدقہ نکالنا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور شفاعت۔ اور کافر ہی ظالم ہیں ” (البقرۃ:254)
اسی لیے شریعت نے دو جھگڑنے والوں کو ایک دوسرے کی اخوت کی یاد دلائی ہے اور جھگڑے کے وقت صلح کی ترغیب دلائی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
"(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے”(الحجرات:10)
امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرزندوں کی اتحاد پر سنجیدہ تربیت کرے ۔اللہ کا فرمان ہے :
"یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو”(الانبیاء:92)
اور اللہ تعالی نے فرمایا:
"اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو”(الانعام :153)
اسی طرح حکمرانوں کے لیے سمع وطاعت بجا لانے پر تاکید آئی ہے تاکہ اتحاد کا مقصد پورا ہو ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
"اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔”(النساء:59)
اور صحیح میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی پر پسندیدہ و ناپسندیدہ حکم میں سمع وطاعت واجب ہے جب تک کہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا جائے ۔
اس میں جو چيزیں داخل ہیں ان میں لوگوں کے دلوں کو حکمرانوں پر متحد کرنا، ان کی طاعت میں لوگوں کو رغبت دلانا ، ملک اور لوگوں کے احوال کی اصلاح میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کے لیے دعا کرنا ہے ۔
اور ہر چند کہ تمام جگہوں پر اتحاد کا حکم دیا گیا ہے اور تفرقہ سے منع کیا گيا ہے لیکن موسم حج اور مقامات شعائرمیں یہ اور ضروری ہے ۔ حاجی کو چاہیے کہ وہ ہر اس چيز یا کام سے بچے جو اسےاس کے مناسک کی ادئے گی سے پھیرے ، اسے چاہیے کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر اپنے رب کی عبادت میں لگا رہے اور ہر اس چيز سے بچے جو اس کے بھائی اللہ کے مہمانوں کے سکون و اطمیان پر اثر انداز ہونے والی ہو ۔
اے مسلمانواور صاحبان رسوخ و تاثیر ! امت کے اتحاد کی کوشش کرکے ، فتنوں کو بجھاکر اور ان کے داعیوں کو خاموش کرکے امت کے سلسلے میں اللہ سے ڈریں ۔اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو یاد رکھیں : آسانی پیداکرو، سختی نہیں ، خوش خبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔
اور فرمایا: تم دونوں آپس میں ایک دوسرے کی موافقت کرنا باہم اختلاف نہ کرنا۔
لڑنے والوں کو جانوں کی حفاظت اور صلح کی کوشش کرکے اللہ سے ڈرنا چاہیے ، اللہ کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے :
"اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔”(الحجرات :9)
اورتم حق میں پیروکار رہو یہ بہتر ہے اس سے کہ باطل میں تمہاری پیروی کی جائے ، اور جس نے اللہ کےلیے کچھ چھوڑا اللہ اسےاس سے بہتر عطا کرے گا۔
اللہ کے حرمت والے گھر کےحاجیو:
اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں خطبہ دینے کے بعد بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز قصر کے ساتھ دو رکعت ادا کی پھر انہون نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےدو رکعت عصر کی نماز قصر کے ساتھ ادا کی پھر اپنی اونٹی پر عرفہ میں ٹھہرے اللہ کو یاد کرتے رہے ، اس سے دعائیں کرتے رہے یہاں تک کہ سورج کی ٹکیہ چھپ گئی پھر آپ مزدلفہ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو نرمی کا حکم دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اے لوگو، تم سکینت ووقار کو لازم پکڑو ، اس لیے کہ نیکی تیز چلنے میں نہیں ہے ۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچے تو آپ نے تین رکعت مغرب کی نماز پڑھی اور عشاء دو رکعت پڑھی ، جمع و قصر کیا، مزدلفہ میں رات گزاری ، مغرب کی تین رکعت نماز پڑھی ، فجر کی اول وقت میں وہیں نماز ادا کی پھر دعا کی یہاں تک کہ اجالا ہوگیا پھر منی گئے اورطلوع شمس کے بعد جمرۃ العقبی کی سات کنکریوں سے رمی کی ، قربانی کا جانور ذبح کیا اور سر کےبال منڈوائے پھر طواف افاضہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی کے اندر ایام تشریق میں رکے رہے ، اللہ کو یاد کرتے اور زوال کے بعد تینوں جمرات پر رمی کرتے ، پہلے اور بیچ والے جمرہ پر دعائیں کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معذور افراد کے لیے رخصت دی کہ وہ منی میں رات نہ گزاریں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت منی میں تیرہ تاریخ تک رکنا ہے اور یہی افضل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےبارہ تاریخ کو جلدی نکل جانے کی بھی اجازت دی ۔ جب آپ حج سے فارغ ہوئے اور سفر کا ارادہ کیا تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا ۔
اللہ کے حرمت والے گھر کے حاجیو!
آپ معزز مقام اور فضلیت والے زمانے میں ہیں ، اس میں گناہوں کی بخشش اور دعاؤں کے سنے جانے کی امید ہوتی ہے ۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن اپنے حج میں روزہ نہیں رکھا تاکہ ذکر ودعا کے لیے فارغ رہ سکیں ۔
اپنے لیے ، اپنے احباء کے لیے ، جن کا تمہارے اوپر حق ہے ان کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے اپنے رب سےخوب دعا کرو کہ اللہ ان کے احوال درست کرے اور انہیں حق پر متحد کردے۔
جنہوں نے تم پر احسان کیا ہے ان کے لیے دعا کرنا نہ بھولو، جیسا کہ حدیث میں ہے :
جو کوئی تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے اسےاس کا بدلہ دو اور اگر بدلہ نہ دے پاؤ تو اس کے لیے دعا کرو۔
جن لوگوں نے مسلمانوں پر احسان کیا ہے ان میں وہ لوگ ہیں جو حرمین شریفین کی خدمت کرتے ہیں ، اللہ کے مہمانوں کی راحت کے لیے راتوں کو جگتے ہیں اور ان میں سرفہرست خادم حرمین شریفین ، ان کے ولی عہد اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ہیں ، ان کےلیے اللہ سے دعا کرو۔
اے اللہ اے حی قیوم اے صاحب جلال واکرام ، ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو توفیق یاب کر، اے اللہ تو ہر خیر میں ان کا معین و نصیر ہو ، اے اللہ وہ مسلمانوں کے اتحاد کے لیے جو کوششیں صرف کررہے ہیں ان پر انہیں بہتریں بدلوں سے نواز۔ اے اللہ ان کے امین ولی عہد محمد بن سلمان کو بابرکت کر ، اے اللہ ان کے ذریعہ شاہ کے بازو مضبوط کر اور انہيں اتحاد کے اسباب میں سےبنا۔
اے اللہ حاجیوں کا حج قبول کر ، ان کے معاملات آسان کر ، ان کے ساتھ جو برائی کا ارادہ کرے ان کی طرف سے تو اس کے لیے کافی ہو جا۔ اللہ انہیں ان کے ملک صحیح سالم اور کامیاب لوٹا کہ تونے ان کے گناہ بخش دیے ہیں اور ان کی ضرورتیں پوری کردی ہیں ۔
اے اللہ مسلمان حضرات وخواتین کو بخش دے ، ان کے رشتوں کو جوڑ دے ، ان کے دل درست کر، ان کے معاملات کا ذمہ لے لے، انہیں ان کے ملکوں میں امن سے نواز، انہیں متحد کردے ، ان کی جانوں کی حفاظت فرما، ان کی روزیوں میں برکت دے ، اور انہیں بہترین اقوال و اعمال اور اخلاق کی توفیق دے ۔
” پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے”(الصافات:180-182)
Comments are closed.