قربانی کوئی رسم نہیں ، بلکہ عبادت ہے،ہم اس کی نمائش سے بچیں

 

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عید الاضحی کے موقع پر پوری دنیا میں قربانی کی جاتی ہے ، قربانی  سے اللہ کی قربت حاصل ہوتی ہے ، اور  اس سے نفس ، کبر  اور انا کو قربان کرنے کا جذبہ بھی  پیدا ہوتا ہے ،یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، قربانی رسم نہیں ، اللہ کی عبادت ہے ، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم رسم سمجھ کر نہیں ، بلکہ عبادت سمجھ کر اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے خلوص و اخلاص کے ساتھ قربانی کریں ، اور نام و نمود اور  نمائش  سے بچیں ۔مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے  کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے سوال کیا ، یارسول اللہ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ؐ نے فرمایا : تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کرنے سے کیا ملے گا ؟ آپؐنے فرمایا : ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی ، صحابہ کرام نے پھر عرض کیا ، یارسول اللہ ! اون کے بدلے میں کیا ملے گا ؟ فرمایا : اون کے ہر بال  کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔  ( ابن ماجہ ) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک قربانی کے دن قربانی کرنے سے زیادہ پسندیدہ عمل کوئی نہیں ہے،  قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنےنہیں پاتا کہ اللہ کے یہاں مقبول ہوجاتا ہے، لہٰذا قربانی خوش دلی اور پوری آمادگی کے ساتھ کرو۔(ترمذی)  استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھے ، پھر بھی قربانی نہ کرے ،وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے ،  ( ابن ماجہ )  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں میں عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرنے کا جذبہ پایا جاتا ہے ، اور لوگ خوشی اور جذبہ کے ساتھ قربانی کرتے ہیں ، جس سے ایک اچھا تاثر پیدا ہوتا ہے  ، مگر موجودہ وقت سوشل میڈیا کا ہے ، واٹس ایپ ،فیس بک وغیرہ کا رواج عام ہوگیا ہے ،  سوشل میڈیا پر سیلفی ،فوٹو اور تصویر عام کرنے کا رواج تیزی سے بڑھ رہا ہے ، اب ہماری عبادت اور قربانی بھی اس سے محفوظ نہیں ہے ، اب بہت سے لوگ عبادت کی تصویر شیئرکرنا فخر کی بات سمجھنے لگے ہیں ،عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے جانور کی تصویر یہانتک کہ ذبح کرنے کی تصویر شیئر کرنے کو  بھی فخر کی بات سمجھتے ہیں ، حالانکہ یہ سب نام و نمود ، ریا اور دکھاوا میں شامل ہے ، ریا اور دکھاوا سے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، نیز یہ فتنہ کا بھی سبب ہے ، ۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دین وشریعت کا پورا علم نہیں رکھتے ہیں، وہ قربانی کے بجائے رفاہی کاموں کی اہمیت بیان کرکے قربانی اور حج سے روکتے ہیں، جبکہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور اس کی شریعت ایک مکمل نظام ہے، جس عمل کو جس وقت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس وقت اسی عمل کو اہمیت اور فضیلت حاصل ہے، اس کا بدل کوئی دوسرا عمل نہیں ہوسکتا ہے، اس لئے مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے احکام کو شرعی نقطۂ نظر سے سمجھیں اور اپنی رائےسے پرہیز کریں۔ حج کے موقع پر حج صاحب استطاعت پر فرض ہے ، قربانی کے موقع پر قربانی ہی واجب ہے، اس کا بدل کوئی رفاہی کام نہیں ہوسکتا ہے، کیونکہ رفاہی کام مستحب کے درجے میں ہے، فرض اور واجب کا بدل کوئی مستحب کام نہیں ہوسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قربانی ایک عبادت ہے، عبادت کے لئے ضروری ہے کہ وہ صرف اللہ کے لئے ہو، اس لئے قربانی سے ہماری نیت صرف اللہ کی رضا ہونی چاہئے، نام ونمود اور دکھاوا سے بچنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عیدالاضحی کا تہوار نہایت ہی حساس ہے، اس موقع پر مندرجہ ذیل باتوں پر خاص توجہ دی جائے۔

(۱)عیدالاضحی کی نماز کے لئے اطمینان  و سکون کے ساتھ تکبیر پڑھتے ہوئے عیدگاہ جائیں۔ (۲) عیدالاضحی کی نماز عیدگاہ یامسجد کے اندر ہی ادا کی جائے،کسی عام کھلی جگہ نماز ادا نہ کی جائے۔(۳) نماز پڑھ کر اطمینان وسکون کے ساتھ تکبیرپڑھتے ہوئے واپس آئیں۔( ۴) نماز کے بعد قربانی کریں،  قربانی کرتے وقت قربانی کے آداب کو ملحوظ رکھیں ، قربانی کھلی جگہ میں نہ کریں۔ (۵)قربانی کے جانور کے فضلات کو ادھر ادھر نہ پھینکیں،بلکہ اس کو زمین میں دفن کردیں یا متعین جگہ پھیکیں، گندگی کو نالا میں نہ بہائیں، صاف صفائی کا پورا خیال رکھیں۔(۶)  قربانی کے جانور کی نمائش نہ کریں اور نہ جانور  کو ذبح کرنے کی سیلفی اور  تصویر لیں  اور نہ ویڈیو بنائیں اور نہ واٹس ایپ یا فیس بک پر شیئر کریں (۷) قربانی میں اخلاص پیدا کریں ، اس کو اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کریں ، اور اپنی قربانی کو  نفس ،  انا ،تکبر،گھمنڈ ، حسد اور کینہ کو قربان کرنے کا ذریعہ بنائیں ، (۸) عیدالاضحی کے تہوار کو امن وشانتی  کے ماحول میں منائیں، کوئی ایسا کام نہ کریں، جس سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانی کو قبول فرمائے۔

 

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

Comments are closed.