پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ نے حافظ جنید خان لنچنگ کے مرکزی ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی
چنڈی گڑھ (پریس ریلیز) پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ نے 2017 میں 16 سالہ حافظ جنید خاں میو کی وحشیانہ لنچنگ کے مرکزی ملزم کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جرم کی سنگینی کی وجہ سے کسی بھی ضمانت کی درخواست پر غور کرنے سے پہلے عینی شاہدین کی جانچ کے لیے ایک محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس معاملے میں ابھی دو عینی شاہدین سے پوچھ گچھ ہونا باقی ہے، جس میں کلیدی ملزم نریش کو آئی پی سی کی دفعہ 302، 307، 323، 324، اور 34 کے ساتھ ساتھ ریلوے ایکٹ کی دفعہ 145 کے تحت الزامات کا سامنا ہے۔
چیف جسٹس شیل ناگو نے کہا، ’’یہ عدالت، جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، یہ خیال رکھتی ہے کہ ضمانت کی درخواست پر غور کرنے سے پہلے، چشم دید گواہوں کو جانچ کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔بہر حال، اس نے عینی شاہدین کی جانچ کے بعد دوبارہ عدالت میں جانے کی آزادی دی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ 22 جون 2017 کو، 16 سالہ حافظ جنید خان، کو ریل میں سفر کے دوران اس وقت ہجوم کے ذریعہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا جب وہ اپنے دوست کے ساتھ عید کی خریداری کے بعد دہلی سے متھرا جانے والی ٹرین میں سوار تھا،اس دوران کھنداؤلی بلب گڑھ اپنے گھر واپس آتے ہوئے ایک ہجوم نے مسلمان ہونے کی وجہ سے وحشیانہ حملہ کیا اور جان سے مار دیا میوات کے سرگرم سماجی و ملی رہنما مولانا محمد صابر قاسمی نے بتایا کہ اس کیس کے ملزمین میں دہلی میونسپل کارپوریشن کے ہیلتھ انسپکٹر نریش کمار، رامیشور داس اور چار دیگر شامل ہیں، جن پر قتل، مجرمانہ قتل اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے الفاظ کہنے سمیت دیگر جرائم کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔
Comments are closed.