بہار کا مستقبل اور مسلمانوں کی سیاسی حکمت عملی
از: جاوید اختر حلیمی قاسمی
ہندوستان کی سیاست کو اگر دریا کی روانی سے تشبیہ دی جائے تو یہ بات بے جا نہ ہوگی۔ کبھی پانی پرسکون بہتا ہے، کبھی طغیانی میں سب کچھ بہا لے جاتا ہے، مگر بہاؤ تھمتا نہیں۔ بہار کی سیاست بھی اسی دریا کی مانند ہے۔ یہاں ذات پات کا حساب، اتحاد و انشقاق کا کھیل، اقتدار کے سودے اور وقت کے بدلتے رنگ ایک ایسا نقشہ کھینچتے ہیں جو ہر آن بدلتا رہتا ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان کا ووٹ کس رخ پر جائے، کون سی جماعت ان کے وجود اور ان کے مستقبل کی ضامن بن سکتی ہے۔ بی جے پی کی سیاست کا محور ہندوتوا ہے۔ یہ بیانیہ اکثریتی جذبات کو ابھار کر اقلیتوں کو مشکوک بناتا ہے۔ وقف جائیدادوں پر حملے، وظائف کی بندش، شہریت کے قوانین پر سوال، اور گھروں پر بلڈوزر کی سیاست، یہ سب واضح اشارے ہیں کہ یہ جماعت مسلمانوں کو برابر کا شہری ماننے کے بجائے ایک بوجھ سمجھتی ہے۔ ایسی سیاست مسلمانوں کے لیے محض اقتدار کا مسئلہ نہیں بلکہ اپنے وجود کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد ہے۔ نتیش کمار نے بہار کو تعلیم اور سڑکوں کی سہولتیں ضرور دیں، لیکن ان کی سیاست ہمیشہ اقتدار کی کشتی پر سوار رہی ہے۔ کبھی بی جے پی کے ساتھ، کبھی کانگریس و آر جے ڈی کے ساتھ، یہ مسلسل پلٹاؤ مسلمانوں کے لیے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کرتا ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کا نظریہ ہر چند سال میں بدل جائے، اس پر مستقبل کی بنیاد رکھنا مشکل ہے۔ لالو پرساد یادو نے ایک دور میں دلتوں اور مسلمانوں کو آواز دی۔ ان کے زمانے میں محروم طبقات نے پہلی بار طاقت کا ذائقہ چکھا۔ ہاں، "جنگل راج” کا داغ بھی اس دور پر لگا، مگر انکار نہیں کہ آر جے ڈی نے مسلمانوں کو سیاست میں جگہ دی۔ آج قیادت تیجسوی یادو کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جوان ہیں، ترقی و روزگار کی زبان بولتے ہیں۔ اگر وہ ذات پات کی محدود سیاست سے آگے بڑھ کر تعلیم، انصاف اور ترقی کے ایجنڈے پر کھڑے ہوں تو بہار کے مستقبل کی اصل کنجی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ کانگریس کا بہار میں وزن کم ہے، لیکن اس کی فکری بنیاد اب بھی "کثرت میں وحدت” پر قائم ہے۔ یہ جماعت مسلمانوں کو دشمن بنا کر سیاست نہیں کرتی۔ تنہا کانگریس بہار کا منظر نہیں بدل سکتی، مگر اتحاد کی سیاست میں یہ وہ ستون ہے جو سیکولر اقدار کو سہارا دیتا ہے۔ یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو اگر بہار کے بڑے اتحاد کا حصہ بنا لیا جاتا تو مسلمانوں کی آواز اور زیادہ مضبوط ہوتی۔ اسد الدین اویسی صاحب کی جماعت کے وجود کو نظر انداز کرنا ایک سیاسی کوتاہی ہے، کیونکہ یہی وہ پلیٹ فارم ہے جو مسلمانوں کے جذبات اور مسائل کو زبان دیتا ہے۔ اگر یہ جماعت بھی انڈیا اتحاد یا کسی بڑے سیکولر محاذ میں شامل ہو جائے تو ووٹوں کی تقسیم رُک سکتی ہے اور مسلمان اپنے ووٹ کو زیادہ متحد اور مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت بے عیب ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون سی قوت ان کی شناخت کو تسلیم کرتی ہے اور ان کے خوابوں کو ٹوٹنے سے بچا سکتی ہے۔ جذبات میں آکر ووٹوں کو بانٹ دینا سب سے بڑی غلطی ہے۔ یہ غلطی صرف مسلمانوں کا نقصان نہیں کرتی بلکہ بہار کے سیکولر ڈھانچے کو بھی کمزور کرتی ہے۔ بی جے پی کا راستہ نفرت اور اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔ جے ڈیو کی سیاست غیر یقینی ہے۔ آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ ساتھ اگر مجلس اتحاد المسلمین کو بھی اتحاد کا حصہ بنایا جائے تو بہار کی سیاست ایک نئی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ یہی وہ اتحاد ہوگا جو مسلمانوں کو منتشر ہونے سے بچائے گا اور بہار کو نفرت کے زہر سے محفوظ رکھے گا۔بہار کا مستقبل عوام کے ووٹ میں پوشیدہ ہے۔ مسلمان اگر دانش، اتحاد اور بصیرت کے ساتھ فیصلہ کریں تو وہ بہار کو فرقہ پرست سیاست سے بچا سکتے ہیں۔ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے مقدر پر لکھا جانے والا فیصلہ ہے۔ ہم ایسا فیصلہ کریں جو ہماری شناخت کو محفوظ رکھے، ہماری عبادت گاہوں کو سلامت رکھے اور ہماری نسلوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدل دے۔ بہار کا کل ہمارے آج کے شعور اور اتحاد پر منحصر ہے۔
Comments are closed.