ہبہ : احکام ومسائل
ڈاکٹرقاضی محمدفیاض عالم قاسمی
ناگپاڑہ ،ممبئی
8080697348
ہبہ کی تعریف:
کسی کو اپنی کوئی چیزبغیر کسی عوض کےملکیت کے طورپر دیدیناہبہ کہلاتاہے۔جب وہ شخص اس پر قبضہ کرلے تو ہبہ مکمل ہوجاتاہے۔ہبہ ،عطیہ،ہدیہ اورصدقہ جیسےالفاظ کا مفہوم تقریباً ایک ہی ہے ۔تاہم عرف میں کسی غریب کو ثواب کی نیت سےکچھ دیناصدقہ ہے اور از راہِ محبت والفت کسی کو کچھ دینا ہدیہ ہے۔قرآن وحدیث میں ہدیہ کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا : تَهَادَوْا تَحَابُّوا،(سنن کبریٰ للبیھقی، حدیث نمبر:١١۹۴۶) یعنی تم ایک دوسرے کو ہدیہ دیاکرو، اس سے محبت ہوتی ہے۔ دوسری جگہ ارشادہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیاکرو اس سے بغض وکینہ ختم ہوتاہے۔(ترمذی:١۹٥٣ ، مشکوٰۃ المصابیح:٣۰٢۷)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام ہدیہ قبول فرماتے تھےا ور اس کے بدلہ میں کچھ نا کچھ ضرور دیدیاکرتےتھے۔(صحیح بخاری:٢٥۸٥)امام ابومنصورؒ فرماتے ہیں کہ مسلمان پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کو جودوسخاوت اور لوگو ں کےساتھ حسن سلوک کرنا سکھائے۔ (الدرمختار مع ردالمحتار:٥/۶۸۷)
الحمد للہ مسلم معاشر ے میں ہدیہ دینے اور قبول کرنے کارواج ہے، لیکن اس کے کچھ اصول وضوابط ہیں ان کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے ہدیہ کا مقصدیعنی ” محبت ” فوت ہوجاتاہے۔اس لئے ہبہ اورہدیہ کے چنداصول وضوابط ذکرکئے جاتے ہیں۔
اصطلاحات:
ہبہ کرنے والے کو واہب، جس کو ہبہ کیاجارہاہے اس کو موہوب لہ،اور جو چیزہبہ کی جارہی ہے اس کو شئی موہوب کہتے ہیں۔
ہبہ کی شرائط:
ہبہ کے لئے شرط یہ ہے کہ ہبہ کرنے والا(واہب ) عاقل وبالغ ہو،پس پاگل اور نابالغ کا ہبہ کرنادرست نہیں ہے۔اگر ولی اجازت دے تو بھی درست نہیں ہے۔
١۔ جو چیز ہبہ کی جارہی ہے وہ مال ہواورہبہ کے وقت واہب کی ملکیت میں ہو، اگر وہ چیز موجود نہیں ہے،یاموجود تو ہے، لیکن واہب کی ملکیت میں نہیں ہے تو اس کا ہبہ کرنادرست نہیں ہے، مثلاً کوئی یہ کہے کہ "فلاں بلڈنگ کی فلیٹ نمبرفلاں میں تم کو دیدیتاہوں”، حالاں کہ ابھی نہ بلڈنگ موجود ہے اور نہ بلڈنگ کی فلیٹ ، تو ایساہبہ درست نہیں ہے۔ "مجھے فلاں جگہ سے رقم ملنے والی ہےوہ تم کو دیدیا’۔ان جملوں سے ہبہ نہیں ہوتاہے۔ہاں جب وہ رقم مل جائے اورواہب موہوب لہ کے حوالہ کردے تو ہبہ درست ہوجائے گا۔
٢۔ ہبہ منقولی اورغیرمنقولی دونوں کی طرح کی جائداد میں ہوسکتاہے۔ منقولی جائداد سے مراد وہ چیز جس کو اٹھاکر ایک جگہ سے دوسی جگہ لے جاسکیں، جیسےروپیہ پیسہ،گاڑی،موبائل وغیرہ، اور غیرمنقولی سےمراد جس کو اٹھاکرکہیں لےجانا ممکن نہ ہو جیسے زمین مکان وغیرہ۔
٣۔ انسان اپنے اعضاء کامالک نہیں ہوتاہے، اس لئےاپنا خون ،کڈنی ،آنکھیں وغیرہ ہبہ کرنادرست نہیں ہے۔ہاں اگر کسی کی جان بچانا مقصود ہوتو ہبہ کی نیت کئے بغیردیدیاجائے تو کوئی حرج نہیں ، بلکہ بعض دفعہ یہ انسانی خدمت کہلائے گی، لیکن بہرحال ہبہ نہیں کہلائے گا۔(دیکھئے اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ، اعضاء کی پیوندکاری)
٤۔ جس چیزکو ہبہ کیاجارہاہےوہ واضح اورکلیر ہو، اگر زمین ہے تو مقدار، علامت غیرہ کے ذریعہ اس کی تعیین ضروری ہے۔ شئی موہوب پر قبضہ کرنا بھی شرط ہے ،جب تک قبضہ نہ ہو ہبہ مکمل نہیں ہوتاہے۔منقولی جائداد میں قبضہ یہ ہے کہ واہب شئی موہوب کو موہوب لہ کے حوالہ کردے۔اورغیرمنقولی جائداد جیسے زمین، مکان، دکان وغیرہ میں قبضہ یہ ہے کہ اگروہ واہب کے یا دوسرے کے تصرف میں ہے تو خالی کراکرموہوب لہ کے حوالہ کردے،ایسی صورت میں صرف موہوب لہ کے لئے نام پر کردینا ،یانام ٹرانسفر کردینا، یایہ کہہ دینا کہ تم لے لو، یامیرے مرنے بعد تم لے لینا،یا کسی سے کہہ کے جانا کہ میرے مرنے کے بعد فلاں کو یہ دیدینا، کافی نہیں۔ اس طرح ہبہ نہیں ہوتاہے۔ ہاں اگرزمین، مکان یا دکان وغیرہ خالی ہیں تو موہوب لہ کےنام پر کردینا قبضہ کے لئے کافی ہوگا۔
٥۔ اگر ایک چیز کودوتین آدمی کے درمیان ہبہ کررہاہے تو اگروہ تقسیم کے قابل ہو مثلا ایک لیٹر دودھ دوآدمی کو دیا، یا ایک کلو سیب دو آدمی کو دیاتو ایسا ہبہ درست ہے،کیوں کہ یہ دونوں آدمی آسانی سے شئی موہوب کو تقسیم کرکے استعمال کرسکتے ہیں۔اوراگر شئی موہوب قابلِ تقسیم نہیں ہے تو تو ایسا ہبہ درست نہیں ہے، مثلاً ایک موبائل دو آدمی کو ہبہ کیا ، تو ایسا ہبہ درست نہیں ہے۔کیوں کہ ایک موبائل کو دو آدمیوں کےدرمیان تقسیم کرکے نہیں دیاجاسکتاہے۔
۶۔ اگر کوئی زمین، مکان ، دکان، روم دو آدمیوں میں ہبہ کرے تواگر اس کو دوحصوں میں تقسیم کرناممکن ہو، تو ایسا ہبہ درست ہےا وراگر دو حصوں میں تقسیم کرناممکن نہ ہو، یا ممکن تو ہو لیکن ایسی صورت میں اس سے کوئی خاص فائدہ اٹھانا ممکن نہ ہو تو ایسا ہبہ کرنادرست نہیں ہے۔مثلا ً روم اتنا چھوٹا ہے کہ اگر پارٹیشن کرکے دو بنایاجائے تو اس میں رہنا ممکن نہ ہو تو ایسا ہبہ درست نہیں۔(درمختارعلی ردالمحتار:٥/۶۹١)، وجہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں جن لوگوں کو ہبہ کیاگیاہے ان کے درمیان جھگڑاواقع ہونے کا کافی امکان ہے، ایک اس حصہ کو لیناچاہے گا جس میں آرا م اورسہولت ہواوردوسرا بھی اسی حصہ کولیناچاہےگا۔حالاں کہ شریعت کامزاج یہ ہے کہ جھگڑا اور اسبابِ جھگڑا سےخودکوبچاجائے اوردوسروں کو بھی بچایاجا ئے۔تاہم بعض علماء کرام کاخیال یہ ہے کہ جن لوگوں کوہبہ کیاگیاہے اگر ان میں جھگڑا نہ ہونے کایقین ہو تو پھر ہبہ درست ہوجائےگا۔چنانچہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیانے اپنے تئیسویں فقہی سیمینار میں اس کے جواز کا فیصلہ کیاہے۔(دیکھئےاسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ)
۷۔ اگر دو تین آدمیوں نے اپنی مشترکہ چیز کو کسی ایک آدمی کوہبہ کردیا تو یہ جائز ہے، کیوں کہ جس کو ہبہ کیاہے اس کو پوری چیز بغیرشراکت کے مل رہی ہے۔
۸۔ اگر کوئی اپنے مکان، دکان یا زمین کے کچھ حصہ کو ہبہ کرے توضروری ہے کہ اس کی وضاحت کرکے اس کو اپنے قبضہ سے الگ کردے؛البتہ باپ بیٹا اورمیاں بیوی میں سے کوئی دوسرے کو ہبہ کرے تو چوں کہ ان کا ایک ساتھ رہناسہناہوتاہے اس لئے اگر الگ کرکے نہ دے تو بھی ہبہ درست ہے۔(درمختارعلی ردالمحتار:٥/۶۹١)،
۹۔ شادی کے موقعہ پر جوکچھ دولہن کو دیاجاتاہے خواہ اس کے والدین کی طرف سے ہو یاوالدین کے رشتہ داروں کی طرف سےہو ،یاشوہرکی طرف سے ہو یا شوہر کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے ہو، سب لڑکی کے حق میں ہبہ ہے، ہاں اگر کہیں کوئی چیز صرف استعمال کے طورپر دینےکا عرف ہو، تووہ ہبہ نہیں کہلائے گا،یا دیتے وقت کہہ د یاگیا ہو کہ یہ صرف استعمال کے لئے دیاجارہاہےتو ہدیہ نہیں ہے۔
١۰۔ جوکچھ لڑکے کو دیاجاتاہے اس میں تفصیل ہے،اگر لڑکے نے یا اس کی طرف سے کسی نے مطالبہ کیاہے اور لڑکی والوں نےرشتہ کینسل ہوجانے کے ڈرسے دیدیاتویہ رشوت کے حکم میں ہے۔لڑکے کے لئے ایسی چیز کواستعمال کرناجائزنہیں ہے،بلکہ واپس کرناواجب ہے۔
١١۔ اگر لڑکے نے نہیں مانگا،پھربھی لڑکی والوں نے کوئی چیز دیدی۔تودیکھاجائے گا کہ جو چیز دی گئی ہے قیمتی اور اس کے دینے کا عرف ہے یانہیں ، اگر وہ قیمتی ہے اور اس کے دینے کا ایسا عرف بھی ہے کہ اگر نہ دیاجائے توشادی ہی نہیں ہوگی، یا رشتہ دارناراض ہوجائیں گے، تو ایسی صورت میں وہ ہبہ نہیں کہلائےگا،بلکہ یہ بھی رشوت کے حکم میں ہوجائے گا،دینے والے کی ملکیت برقراررہے گی، لڑکے پر لازم ہے کہ ایسی چیزکو واپس کردے، جیسے موٹر سائکل، فورویلر، سونے کی گھڑی ، نقد رقم ، مکان فلیٹ وغیرہ۔ اور اگرویسی چیز دینے کالازمی طورپر عرف نہیں ہے یا وہ چیز ہلکی پھلکی ہے تو ہبہ کہلائے گا جیسےایک جوڑانورمل کپڑا، ہاتھ کی نورمل گھڑی،ایک چاندی کی انگوٹھی وغیرہ
١٣۔ اگر دولہا نے صاف صاف منع کردیا، اور اس کے دل میں بھی یہی تھا کہ نہیں لینا ہے، حتیٰ کہ دینے سے بھی نہیں لینا تو بھی لڑکی والوں نے اسی وقت یا بعد کچھ دیدیااور لڑکا نہ چاہتے ہوئے بھی لے لیا، تو یہ ہبہ ہے۔(تفصیل دیکھیں، مجموعہ قوانین اسلامی، اور اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ)
١٤۔ شرط کے ساتھ ہبہ کرنے کی صورت میں اس شرط کا کوئی اعتبار نہیں، مثلا یوں کہا کہ یہ پیسہ لیں ؛تاکہ آپ کپڑے سلوالیں، پس کپڑے سلوانے کی شرط کا کوئی اعتبارنہیں، موہوب لہ قانون شرع کے لحاظ سے اس رقم سے کوئی دوسرا کام بھی کرسکتاہے، لیکن اخلاقی طورپر موہوب لہ کو چاہئے کہ واہب کی منشاء کی رعایت کرتے ہوئے کپڑے سلوائیں، تاکہ واہب کو بھی خوشی حاصل ہو۔
بہرحال ہبہ تام ہوجانے کے بعد موہوب لہ اس کا مالک ہوجاتاہے۔ وہ اس کو استعمال کرسکتاہے ،بیچ سکتاہے، کسی اورکو ہبہ بھی کرسکتاہے، اس کی وفات کے بعد اس میں ترکہ بھی تقسیم ہوگا۔فقط
Comments are closed.