مولانا ابو سلمہ شفیع احمد بہاری رحمہ اللہ (علمی خدمات، تدریس و تربیت)

 

بقلم،ڈاکٹر سید افضل حسین قاسمی.

نورنگ دوا خانہ بنگلور.

 

 

1969 کا عیسوی سال، کلکتہ، ،ندائے اسلام،، میں اپنے والد بزرگوار مرحوم کے ساتھ مدرسے کی بالکل ابتدائی تعلیم سے آراستگی اور باپ کی نگاہِ تربیت سے فیضیابی کا دور تھا، میرے والد صاحب عالم تو نہیں تھے، حکیم تھے تاہم عالمانہ وجاہت و وضع قطع کے ساتھ علماء سے والہانہ مراسم ان کی خاص شناخت تھی، وہ اسی مدرسہ ندائے اسلام میں معمولی تنخواہ کے عوض خدمت پر مامور تھے، ایک باوقار، سفید پوش اور نستعلیقی عالم دین کا اکثر یہاں آنا جانا رہتا تھا ، کبھی جمعہ کی نماز سے پہلے خطاب بھی فرماتے، آواز کی گھن گرج، شستہ و شگفتہ زبان و بیان ،آنکھوں میں چمک اور سُرخ ڈورے، اقدامی قال و حال کے سادگی پسند قد آور عالم دین، ہمہ وقت الرٹ اور مستعد طبعیت کے حامل، عجلت کے ساتھ اپنے جوتے چپل اُتار کر فوراً اُٹھا لیتے، ایک مشت سے نکلتی ہوئی سنت کے سانچے میں ڈھلی ڈاڑھی سے بھرا کتابی چہرہ ہر ایک کو اپنی جانب ملتفت کرلیتا تھا، مدرسہ عالیہ کلکتہ میں تدریسی خدمات سے سبکدوشی کے بعد فیتے سے منسلک جُزدان میں لپٹا قرآن پاک تقریباً ہر وقت اپنے گلے میں آویزاں رکھنے لگے تھے.

ایک دن ابا مجھے وارثین انبیاء کی بارگاہ میں حاضری کے آداب کی پدرانہ تلقین کے ساتھ ان کے قریب لے گئے اور مولانا سے کہنے لگے کہ یہ میرا بیٹا ہے، حضرت نے میرا نام پوچھا اور سَر پہ دستِ شفقت پھیرتے ہوئے دعاؤں سے نوازا، پھر جب بھی مولانا تشریف لاتے تو شناخت کے ساتھ مجھے اپنے قریب کر کے حال چال پوچھتے، مولانا سے ملاقات میری 9 برس کی عمر میں پہلی ملاقات تھی جو کسی بڑے عالم دین سے ہوتی رہی تھی، مولانا کی عالمانہ و وارثانہ شخصیت کے رخشندہ نقوش جو اُس وقت میرے دل و دماغ پر ہویدا ہوئے تھے وہ آج بھی 65 سال کی عمرتک ثبت ہیں.

مولانا ابو سلمہ شفیع احمد بہاری، مولانا حکیم امیر حسن ابن محمد اکبر حسن، محلہ سکونت کلاں بہار شریف میں پیدا ہوئے، 1912 عیسوی ان کی پیدائش کا سال ہے، مولانا نے چونکہ نیک صالح والد اور ماہر طبیب کے گھر میں آنکھیں کھولیں تھیں لہذا مولانا نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد بزرگوار ہی سے حاصل کی پھر عربی کی ابتدائی تعلیم مولانا اصغر حسین صاحب سے حاصل کی جو بعد میں مولانا کے خسر بھی ہوئے، اس کے بعد بہار شریف کے مدرسہ قومیہ میں داخل ہوئے پھر بہار شریف ہی کے مدرسہ عزیزیہ میں طالب علم رہ کر کسب فیض کرتے ہوئے ہندوستان کی معروف دانشگاہ،، دارالعلوم دیوبند،، میں داخلہ لے کر علامہ انور شاہ کشمیری کے تلمیذ رشید ہونے کا شرَف حاصل کیا، دارالعلوم دیوبند سے جب علامہ انور شاہ کشمیری، ڈابھیل مدرسے میں تدریسی ذمہ داری سنبھالی تو دیگر رفقاء کے ساتھ مولانا ابو سلمہ بہاری بھی دارالعلوم دیوبند میں ایک سال مکمل کرکے علامہ کی کشش پر دور دراز ڈابھیل منتقل ہوگئے چنانچہ آپ نے جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے 1932 میں سند فراغت حاصل کی. مولانا کے بہت سے رفقاء کا کہنا ہے کہ مولانا بہار شریف سے جو علم دین کی پیاس بجھانے نکلے تو اپنی تعلیم مکمل کر لینے کے بعد ہی بہار شریف واپس ہوئے.

 

مولانا کے اساتذہ و مُربی

 

علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہی، مولانا ابراہیم بلیاوی اور ابو عبداللہ محمد بن یوسف سورتی رحمھم اللہ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں.

 

وعظ و تدریس

 

جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے تعلیمی فراغت کے بعد بہار شریف کے اُسی مدرسہ قومیہ میں صدر المدرسین مقرر ہوئے جہاں مولانا نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، تدریس کے علاوہ اپنے محلے کی مسجد میں جمعہ کی نماز سے پہلے وعظ بھی فرماتے تھے.

تدریس و وعظ کے ساتھ وہ قوم ملت کے نبض شناس بھی تھے لہذا تحریک آزادی بھی ان کی کاوشوں اور خدمات سے استحکام پاتی رہی، بہار شریف کے ایک مؤقر عالم دین اور مجاہد آزادی مولانا علی حسین عاصم بہاری کی تحریک،، مومن کانفرنس،، سے منسلک ہو کر مولانا ابو سلمہ شفیع احمد بہاری نے بھی تحریک آزادی میں اپنا حصہ پایا اور مولانا سید حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ اور مولانا ابوالکلام آزاد رحمھم اللہ کے ساتھ غیر منقسم ہندوستان کی تائید میں شانہ بشانہ رہے.

 

*بہار شریف سے کلکتہ*

 

آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی کاوش و بصیرت سے جب مدرسہ عالیہ دوبارہ اُٹھ کھڑا ہوا تو مولانا ابوالکلام آزاد کی نگاہ انتخاب مولانا ابوسلمہ پر مرکوز ہوئی اور مولانا آزاد نے 1949 میں غالباً، مولانا ابوسلمہ شفیع احمد بہاری کے لئے مدرسہ عالیہ کلکتہ میں شیخ الحدیث کے منصب جلیل پر تقرر کی راہ ہموار کی چنانچہ مولانا ابوسلمہ نے 1972 تک شیخ الحدیث والتفسير کی مسند کو رونق بخشی جہاں سے ہزاروں تشنگانِ علم دین، مولانا سے شرف تلمذ کی سند لے کر ہند و بیرون ہند مولانا کے فیض کو عام کررہے ہیں. کہتے ہیں کہ مولانا سید احمد ہاشمی، مولانا محمد یحییٰ گوہاٹی یونیورسٹی، مولانا راحت اللہ ازہری، مولانا عبد الاحد محکمہ تعلیم بہار اور مولانا ذبیح اللہ عتیق مدرسہ عالیہ کلکتہ، مولانا ہی کے تلامذہء رشید ہیں.

 

*اتنا ہی نہیں*

 

ایک عالَم مولانا ابو سلمہ شفیع احمد کے علم فضل کا توصیفی اعتراف کرتا رہا ہے، چنانچہ قاضی اطہر مبارکپوری فرماتے ہیں کہ،، مولانا ابو سلمہ اسلامی علوم کے عالم تھے اور مروجہ علوم میں ید طولیٰ رکھتے تھے، مگر ان کو علم حدیث سے عشق کی حد تک تعلق تھا،،

 

مولانا سعید الرحمن الاعظمی، مہتمم ندوۃ العلماء لکھنؤ فرماتے ہیں کہ،، مولانا ابو سلمہ ہندوستان میں اس دور کے جید علماء میں شمار کئے جاتے ہیں، بطور خاص علم حدیث سے ان کا شغف معتبر جانا جاتا ہے،،

 

امیر الہند و محدث کبیر مولانا حبیب الرحمن اعظمی فرماتے ہیں کہ،، مولانا ابو سلمہ میں درس حدیث کی اتنی عمدہ صلاحیت تھی کہ المعھد العالی للدراسات الاسلامیۃ کے لئے میں نے ان کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کسی بدخواہ کی رخنہ اندازی کی وجہ سے وہ نہ آسکے،،

 

عرب عالم دین، محقق و محدث، شیخ عبدالفتاح ابو غدہ نے مولانا کے انتقال پر ان کے صاحبزادے کو لکھا کہ،، یہ سانحہ تنہا آپ کا نہیں بلکہ اس میں عالم اسلام کے وہ سارے افراد شریک ہیں جو حضرت مولانا کے علم حدیث کے قلم گہر بار سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں.

 

مدرسہ عالیہ کلکتہ میں شیخ الحدیث والتفسير کے منصب جلیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد جب مولانا نے،، ادارہ ترجمہ و تالیف،، قائم فرما کر مغربی بنگال کے مسلمانوں کی مذہبی رہنمائی کا گرانقدر کارنامہ انجام دیا تو جانشین شیخ الاسلام مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے لکھا کہ،، مولانا کا قائم کردہ یہ ادارہ تقریباً سولہ برسوں سے خالص علمی و دینی خدمات انجام دے رہا ہے اور اس ادارہ کے زیر اہتمام 30 سے زائد مطبوعات منظر عام پر آچکی ہیں. اس ادارے کی تاسیس اور سرکردگی کا شرف حضرت مولانا ابو سلمہ صاحب رحمہ اللہ کو حاصل تھا جو جمعیۃ العلماء ہند سے نزدیکی تعلق رکھتے تھے.

 

*مولانا کی تصنیفات*

 

مولانا کو تدریس و تقریر کی طرح تصنیف و تالیف میں بھی خوب درک حاصل تھا، حدیث پر مولانا کے تحقیقی مضامین جو ماہنامہ،، برھان دہلی،، میں طبع ہوتے رہے وہ تو تھے ہی، اس کے علاوہ

1،یکساں سول کوڈ.

2،ختم رسالت اور قادیانی فتنہ.

3،اکبر کا دین الہی.

4.خطبہ حجۃ الوداع.

5،تعلیمات قرآن.

6، تسنیم و کوثر.

7،مظلوم اردو.

جیسی کتابیں اور رسائل تصنیف کر کے مولانا نے قوم و ملت میں ادراک و آگہی پیدا فرمائی.

 

*امام عیدین*

 

یہ اک عظیم دینی خدمت اور ممتاز منصب ہے، مولانا چونکہ نہایت مؤثر طرز خطابت کے شہسوار تھے اسی لئے کلکتہ میں دھرمتلہ کے وسیع و عریض میدان میں عیدین کی نماز کے لئے مولانا کو منتخب کیا گیا تھا جبکہ مولانا سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد اس منصب کو رونق بخشتے رہے تھے، مولانا ابو سلمہ رحمہ اللہ کے خطاب میں بلا کی کشش اور جاذبیت تھی، چنانچہ لوگ وقت سے بہت پہلے مولانا کا خطاب باوقار سننے کے لئے دور دراز سے آکر اپنی نشست اپنی تحویل میں لے لیا کرتے تھے، مولانا اپنی عمر کے آخری سال یعنی 1985 تک اس منصب پر فائز رہے، اس ممتاز منصب کی وجہ سے وہ،، امام عیدین،، کے لقب سے مشہور ہوکر جانے اور پہچانے گئے، اس کے علاوہ ہندوستان میں دعوت و تبلیغ کے صوبائی مرکز،، کولو ٹولہ مسجد،، میں بھی مولانا کے خطاب کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی،اس طرح والدین سے اعلیٰ تربیت، جبال علم اساتذہ سے اعلیٰ تعلیم و تربیت سمیٹ کر ہر طرح کے ذریعہء ترسیل کو اپنا کر ایک عالَم کو فیض یاب کرتے ہوئے 1985 تک مولانا ابو سلمہ شفیع احمد بہاری رحمہ اللہ اپنی زندگی کے 75 برسوں کو قابلِ رشک بنا گئے.

 

 

تحریر : ڈاکٹر سید افضل حسین قاسمی.

نورنگ دوا خانہ.

103/7 سُرانا کامپلکس.

پی اینڈ ٹی کالونی بس اسٹاپ.

ویکٹیش پورم.

بنگلور 560045

موبائل : 9448344458

7090026003

Comments are closed.