Does God exist? کے عنوان سے ہونے والے مباحثے کی تفصیلی رپورٹ

 

ڈاکٹر شاہد وصی

 

آج "کیا خدا موجود ہے؟” کے عنوان سے ایک علمی مباحثہ منعقد ہوا جس کی میزبانی سوربھ دویدی نے کی ہے۔ اس میں اسلامک اسکالر مفتی شمائل ندوی اور مشہور شاعر و مصنف جاوید اختر کے درمیان مکالمہ ہوا۔

اس مباحثے کا تفصیلی تجزیہ درج ذیل ہے:

مباحثے کا تعارف اور اصول

مباحثے کا بنیادی موضوع "کیا خدا موجود ہے؟” تھا۔ سوربھ دویدی نے واضح کیا کہ یہ بحث کسی مذہب کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں بلکہ منطقی دلائل کے ذریعے سچائی تک پہنچنے کی ایک کوشش ہے۔ دونوں فریقین کو اپنے ابتدائی بیانات، جوابی دلائل اور ایک دوسرے سے سوالات کا موقع دیا گیا۔

 

مفتی شمائل ندوی کے مرکزی دلائل (خدا کے حق میں)

مفتی شمائل ندوی نے اپنے دلائل کی بنیاد سائنس کے بجائے منطق (Logic) اور فلسفے پر رکھی۔ ان کے اہم نکات یہ تھے:

انہوں نے دلیل دی کہ سائنس صرف مادی دنیا (Physical World) اور مشاہداتی ثبوتوں (Empirical Evidence) پر کام کرتی ہے۔ چونکہ خدا مادی نہیں بلکہ مافوق الفطرت (Supernatural) ہستی ہے، اس لیے سائنس خدا کے وجود کو ثابت یا رد کرنے کا درست پیمانہ نہیں ہے۔

دلیلِ امکان (Argument from Contingency): یہ ان کا سب سے مضبوط استدلال تھا۔ انہوں نے کہا کہ کائنات کی ہر چیز "ممکن الوجود” (Contingency) ہے، یعنی وہ موجود ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، اور وہ اپنے وجود کے لیے کسی اور کی محتاج ہے۔ چونکہ "تسلسل” (Infinite Regress – یعنی اسباب کا لامتناہی سلسلہ) منطقی طور پر ناممکن ہے، اس لیے ایک ایسی ہستی کا ہونا ضروری ہے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو، اور وہی "واجب الوجود” (Necessary Being) یعنی خدا ہے۔

انہوں نے ایک ویران جزیرے پر پڑی گلابی گیند (Pink Ball) کی مثال دی کہ اگر آپ اسے دیکھیں گے تو فوراً سوچیں گے کہ اسے کس نے بنایا اور یہاں کیوں رکھا۔ اسی طرح یہ کائنات جو گیند سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، خود بخود وجود میں نہیں آ سکتی۔

دنیا میں ظلم اور تکلیف کے وجود پر انہوں نے کہا کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ انسان کو "آزاد مرضی” (Free Will) دی گئی ہے۔ اگر کوئی انسان (جیسے غزہ میں اسرائیل) ظلم کرتا ہے تو یہ اس کی آزاد مرضی کا غلط استعمال ہے، نہ کہ خدا کی رضامندی۔ خدا صرف رحیم نہیں بلکہ "الحکیم” (سب سے زیادہ حکمت والا) بھی ہے۔

 

جاوید اختر کے مرکزی دلائل (خدا کے خلاف/ایتھزم)

جاوید اختر نے اپنے دلائل کی بنیاد انسانی تاریخ، عام فہم (Common Sense) اور زمینی حقائق پر رکھی۔ ان کے اہم نکات یہ تھے:

انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ میں ہزاروں خدا آئے اور چلے گئے۔ یونانیوں، مصریوں اور رومنوں کے خدا اب نہیں مانے جاتے۔ آج جن خداؤں کو مانا جا رہا ہے، ہو سکتا ہے مستقبل میں وہ بھی نہ مانے جائیں۔

عقیدہ (Faith) بمقابلہ علم: جاوید اختر نے کہا کہ "ایمان” (Faith) کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے کسی بات کو مان لیں۔ اگر ثبوت ہوتا تو اسے "علم” (Belief/Knowledge) کہا جاتا، ایمان نہیں۔

قدرت میں ناانصافی: انہوں نے دلیل دی کہ قدرت (Nature) میں کوئی انصاف نہیں ہے۔ شیر ہرن کو کھا جاتا ہے، طوفان درخت اکھاڑ دیتا ہے۔ انصاف ایک "انسانی تصور” ہے جو ہم نے سماج کو چلانے کے لیے بنایا ہے۔

غزہ اور معصوموں کی موت: انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خدا قادرِ مطلق (Omnipotent) ہے اور رحیم ہے، تو وہ غزہ میں مرنے والے 45 ہزار معصوم بچوں کو کیوں نہیں بچاتا؟ اگر وہ دیکھ رہا ہے اور کچھ نہیں کر رہا تو اس کی عبادت کیوں کی جائے؟

 

4. کراس ایگزامینیشن (Cross Examination) اور اہم لمحات

مفتی صاحب نے کہا کہ سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ کار کیسے چلتی ہے (انجن کے ذریعے)، لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ کار کس نے بنائی (ڈیزائنر)۔ اسی طرح سائنس کائنات کا نظام بتاتی ہے، خالق کا انکار نہیں کرتی۔

جاوید اختر نے جوابی وار کیا کہ اگر خدا دنیا کے معاملات میں دخل نہیں دیتا اور سب کچھ فری ول (Free Will) ہے، تو لوگ نوکری اور بیماری سے شفا کے لیے دعائیں کیوں مانگتے ہیں؟ اگر وہ نوکری دلا سکتا ہے تو بچوں کو مرنے سے کیوں نہیں بچا سکتا؟

تجزیہ و نتیجہ

مفتی شمائل کا انداز: وہ انتہائی منظم، فلسفیانہ اور منطقی رہے۔ انہوں نے جذبات کے بجائے خالص علمی دلائل (Cosmological Arguments) پر توجہ مرکوز رکھی۔

جاوید اختر کا انداز: وہ عوامی، جذباتی اور زمینی حقائق پر مبنی تھے۔ ان کے دلائل میں انسانی ہمدردی اور مذہب کے سماجی اثرات پر تنقید نمایاں تھی۔

خلاصہ: یہ مباحثہ دو مختلف دنیاؤں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف "فلسفیانہ منطق” (Philosophical Logic) تھی جو کائنات کے وجود کی وجہ تلاش کر رہی تھی، اور دوسری طرف "انسانیت پسندانہ حقیقت پسندی” (Humanist Realism) تھی جو دنیا میں موجود دکھ اور تکلیف کی بنیاد پر خدا کے وجود پر سوال اٹھا رہی تھی۔

اس مباحثے میں مفتی صاحب کی کسی بھی دلیل کا جواب جاوید اختر سے نہیں بن پایا۔ فبھت الذی کفر

Comments are closed.