ادارہ دعوۃُ السنۃ، ممبئی کا سہ روزہ کل ہند مسابقۂ قرآنِ کریم

 

مفتی محمد نافع عارفی قاسمی

جنرل سیکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار

گزشتہ 11 تا 13 جنوری 2026ء کو عروسُ البلاد ممبئی میں منعقد ہونے والے کل ہند مسابقۂ قرآنِ کریم میں شرکت اور اس پُر بہار روحانی محفل سے اپنے قلب و نظر کو جِلا بخشنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ سہ روزہ مسابقہ اپنے ایک ایک لمحے میں اثر آفریں تھا۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے، جن میں اکثر طلبہ کی عمریں دس سال سے بھی کم تھیں، اپنی دلنشیں تلاوت، خوش گوار آواز، طرزِ ادا اور لہجۂ داؤدی کے ذریعے ائمۂ حرمین اور دنیا کے نامور قاریوں کو گویا دعوتِ مبارزت دے رہے تھے، اور زبانِ حال سے یہ پیغام دے رہے تھے:

عجمی خم ہے تو کیا، مے تو حجازی ہے مری

نغمہ ہندی ہے تو کیا، لے تو حجازی ہے مری

یہ طلبہ ملک کی مختلف ریاستوں—آسام، بنگال، مدھیہ پردیش، کشمیر، پڈوچیری، اتراکھنڈ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، دہلی، مہاراشٹر، راجستھان، ہریانہ وغیرہ—سے اپنے فن کے اظہار کے لیے تشریف لائے تھے۔

ممبئی کی اس روح پرور بزمِ قرآنی اور کلامِ الٰہی کے حفاظ کی اس عظیم الشان محفل کو قرآن و سنت کے بے لوث خادم، متعدد علمی و فکری کتابوں کے مصنف، ادارہ دعوۃُ السنۃ ممبئی (مہاراشٹر) کے بانی و روحِ رواں حضرت مولانا محمد شاہد ناصری نے آراستہ فرمایا۔ مولانا ناصری کی مقناطیسی شخصیت کا یہ کرشمہ ہے کہ گزشتہ 29 برسوں سے بلا کسی انقطاع اور ناغے کے یہ مسابقۂ قرآن ممبئی میں منعقد ہو رہا ہے، اور ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے سینکڑوں حفاظِ کرام ممبئی آ کر اپنے حفظ و قرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مخدومِ گرامی حضرت مولانا محمد شاہد ناصری نے اس ملک میں مسابقۂ قرآنِ کریم کی بنیاد ڈالی اور اسے عام کرنے میں بھی حضرت کا بنیادی کردار رہا ہے۔ آج ملک میں جہاں کہیں بھی مسابقۂ قرآن منعقد ہو رہا ہے، اس میں کسی نہ کسی درجے میں مولانا ناصری کی محنت اور اثر ضرور شامل ہے، کیوں کہ

"الدالُّ على الخير كفاعله”۔

مولانا ناصری ملک کی ان گنی چنی شخصیات میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے علمی و فکری خدمات کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ مسابقۂ قرآنِ کریم کے علاوہ ادارہ دعوۃُ السنۃ ہر سال ممبئی میں ہفتۂ سیرتُ النبی ﷺ بھی منعقد کرتا ہے، جس میں ملک کے ممتاز علماء شرکت فرماتے ہیں۔ اس ہفتۂ سیرت کے مختلف اجلاس انجمنِ اسلام ممبئی کے کالجوں اور اسکولوں میں منعقد ہوتے ہیں، جہاں مسلم و غیر مسلم طلبہ و اساتذہ یکساں طور پر شرکت کرتے ہیں اور ملک کے مایہ ناز علماء کے خطبات کے ذریعے سیرتِ نبوی ﷺ کے مختلف پہلوؤں سے روشناس ہوتے ہیں۔ یہ ایک شاندار، بامعنی اور قابلِ تقلید سلسلہ ہے، جو عصری درسگاہوں کے طلبہ و طالبات کو سیرتِ نبوی ﷺ کو سمجھنے اور اپنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ سب حضرت مولانا محمد شاہد ناصری کے زندہ دماغ، دینی جذبے، علم و فکر، اور سیرت و سنت سے والہانہ محبت کا مظہر ہے۔ ادارہ دعوۃُ السنۃ ان علمی و روحانی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ رفاہی خدمات میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ ادارے کے زیرِ انتظام ایک ادارۂ حفظ و قرأت بھی قائم ہے، جہاں زیرِ تعلیم طلبہ کی مکمل کفالت ادارہ خود کرتا ہے۔

خیر، جب ذکر ادارہ دعوۃُ السنۃ کا آیا تو بات ذرا دور نکل گئی، میں دراصل مولانا محمد شاہد ناصری کے زیرِ اہتمام مسابقۂ قرآنِ کریم کا تذکرہ کر رہا تھا۔

مولانا ناصری گزشتہ 29 برسوں سے یہ عظیم مسابقہ منعقد کرا رہے ہیں، جس میں پوزیشن حاصل کرنے والے تین طلبہ کو وقیع انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ اس سال پہلی اور دوسری پوزیشن آسام کے طلبہ نے حاصل کی، جنہیں بالترتیب ساٹھ ہزار اور چالیس ہزار روپے نقد انعام دیے گئے۔ اس کے علاوہ ایک ایک جوڑا کپڑا، عمدہ سفری بیگ، آمد و رفت کا کرایہ، متعدد قیمتی کتابیں، شیلڈ اور میڈل بھی عطا کیے گئے۔ تیسری پوزیشن بھوپال کے ایک طالب علم نے حاصل کی، جنہیں تیس ہزار روپے نقد اور دیگر مذکورہ لوازمات سے نوازا گیا۔

چوتھی، پانچویں اور چھٹی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو تشجیعی انعامات دیے گئے، جبکہ تمام شریک حفاظِ کرام کو آمد و رفت کا کرایہ، میڈل، عمدہ سفری بیگ اور کپڑے فراہم کیے گئے۔ تین روزہ مسابقے کے دوران طعام، ناشتہ اور قیام کا شاندار نظم تھا، جو میزبان کی حسنِ ذوق اور جمالیاتی حس کی واضح شہادت دے رہا تھا۔

اختتامی تقریب (جلسۂ تقسیمِ اسناد) کی صدارت سرسیدِ ثانی ڈاکٹر سید ظہیر قاضی نے فرمائی۔ اس موقع پر جناب مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری، اشفاق آنولے، ڈاکٹر عبدالرؤوف سمار، معروف عالمِ دین مولانا انیس الرحمن قاسمی، مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی، مولانا اشفاق قاضی، مولانا غفران ساجد وغیرہ اسٹیج کی زینت تھے۔ آخری اجلاس میں دو بوہری قاریوں نے بھی اپنی دل آویز تلاوت سے محفل کا رنگ دوبالا کر دیا۔

یوں یہ تین دن کلامِ الٰہی کو سنتے اور پڑھتے اس طرح بیت گئے کہ احساس ہی نہ ہوا کہ کب آئے اور کب گزر گئے۔ میں نے اس مسابقے میں کئی آنکھیں ایسی دیکھیں جو معصوم طلبہ کی تلاوت سن کر بے اختیار اشک بار تھیں۔

اللہ تعالیٰ اس مسابقے کے روحِ رواں حضرت مولانا محمد شاہد ناصری کو عمر و عمل میں برکت عطا فرمائے، اور ادارہ دعوۃُ السنۃ کو مزید ترقیات سے نوازے۔ آمین۔

محمد نافع عارفی

جنرل سیکرٹری، آل انڈیا ملی کونسل، بہار

Comments are closed.