مولانا ضیاءالدین بخاری کا قتل اور ممبئی فسادات — خدمات فراموش، انصاف اب بھی مفقود
ممبئی،22 اپریل(جاوید جمال الدین)
ممبئی کے 1992-93 کے فرقہ وارانہ فسادات آج بھی شہر کی اجتماعی یادداشت میں ایک گہرے زخم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھڑکنے والے ان فسادات نے نہ صرف شہر کو لہولہان کیا بلکہ انصاف کے نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کیے۔ انہی ہنگامہ خیز حالات میں مولانا ضیاءالدین بخاری ایک نمایاں اور متحرک رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے، جنہوں نے متاثرین کی عملی مدد اور رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔
دسمبر 1992 اور جنوری 1993 میں دو مرحلوں میں پھیلنے والے ان فسادات کے دوران جب خوف و ہراس اپنے عروج پر تھا، مولانا بخاری نے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کے لیے فوری امدادی اقدامات کیے۔ اندھیری کے ملت نگر میں قائم ریلیف کیمپ ان کی قیادت کا نمایاں ثبوت تھا، جہاں سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد کو پناہ دی گئی۔ سائن اور دیگر حساس علاقوں سے نکالے گئے متعدد خاندانوں کو یہاں محفوظ مقام فراہم کیا گیا، جسے اس دور میں ایک بڑی انسانی خدمت قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 1500 افراد کو فسادی حالات سے نکال کر ملت نگر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں رہائش، خوراک اور بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ مولانا بخاری نہ صرف ان اقدامات کی نگرانی کرتے رہے بلکہ خطرناک حالات کے باوجود خود میدان میں موجود رہے۔ ان کی سرگرمیوں کے باعث انہیں سیکیورٹی خطرات لاحق ہوئے، جس کے پیش نظر حکومت نے انہیں خصوصی سیکیورٹی بھی فراہم کی تھی۔
تاہم، 21 اپریل 1993 کو بائیکلہ میں نامعلوم حملہ آوروں نے انہیں ان کی رہائش گاہ کے قریب دن دہاڑے گولی مار کر قتل کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہیں سرکاری سیکیورٹی حاصل تھی، جس نے سیکیورٹی نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
قتل کے بعد پولیس نے چند ملزمان کو گرفتار کیا، مگر عدالت میں ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جا سکے، جس کے نتیجے میں تمام ملزمان بری ہوگئے۔ قانونی ماہرین کے مطابق استغاثہ کا مقدمہ کمزور تھا، جس کے باعث ایک اہم کیس منطقی انجام تک نہ پہنچ سکا۔
آج، اس واقعے کو 33 سال گزر چکے ہیں، لیکن ہر سال 21 اپریل خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ نہ کوئی بڑی یادگاری تقریب منعقد ہوتی ہے اور نہ ہی انصاف کے حصول کے لیے کوئی مؤثر اجتماعی آواز سنائی دیتی ہے۔
فسادات کے بعد 12 مارچ 1993 کو ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمات میں جہاں سخت سزائیں سنائی گئیں، وہیں فسادات اور اس سے جڑے کئی معاملات، بشمول مولانا بخاری کا قتل، انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکے۔ یہ تضاد آج بھی بحث کا موضوع ہے۔
اندھیری کا ملت نگر آج بھی اس دور کی ایک زندہ یادگار کے طور پر موجود ہے، جہاں فسادات کے متاثرین کو پناہ ملی تھی۔ مولانا ضیاءالدین بخاری کی خدمات کو اسی پس منظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر ان کا قتل آج بھی ایک ایسا سوال بنا ہوا ہے جس کا جواب نہ مل سکا۔
ممبئی فسادات اور مولانا بخاری کا قتل شہر کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جو اب تک ادھورا ہے، اور انصاف کی تلاش آج بھی جاری ہے۔
Comments are closed.