اسرائیل کا قانون سزائے موت
✒️محمد نفیس خان ندوی
آسمان سے برستی آگ-زمین سے ابلتا لہو- فضا میں بکھرے انسانی اعضاء-جلتے مکانات سے اٹھتا دھواں-دلوں کو چیرنے والی چیخیں- پامال ہوتی عصمتیں-کھنڈروں میں بدلتی بستیاں- ملبے کا ڈھیر بنتے ہسپتال- تباہ ہوتے اسکول-ناکہ بندیاں-نوجوانوں کی گرفتاریاں- جنسی تشدد- قیدیوں پرمظالم- بھوک مری- امدادی کارکنوں پر حملے- جبری نقل مکانی – فوجی آپریشنز کے نام پر غارت گری- غذا و ادویہ پر پابندی-مسلسل نسل کشی- تقریباایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی درد بھری موت اورپھر غزہ کے کھنڈر – مظالم کی ایک لمبی فہرست -درد والم کی ایک طویل داستاں!
حیا سوز،اخلاق سوز،انسانیت سوز‘ان مظالم کے باوجود اسرائیل کا دعوی ہے کہ اس کے وجود کو فلسطینیوں سےخطرہ ہے، اس کے شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں، اس کے اپنے لوگ دہشت کے سایہ میں سانسیں لے رہے ہیں، اس لیے وہ سخت سے سخت قانون بنانے پر مجبور ہے؎
*وہی جلائے ہے بستی، وہی فغاں بھی کرے*
*عجب ہے ظلم کہ خود ہی بیاں بھی کرے*
اسی بے بنیاددعویٰ کے تحت ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو اسرائیلی پارلیمنٹ ’’کنیسٹ‘‘ (Knesset) نے ایک عالمی سطح پرانتہائی متنازعہ بل منظور کیا جس کا نام ہے:
*’’دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کا قانون‘‘*
"Death Penalty for Terrorists Law”
اس قانون کے تحت ’’دہشت گردی‘‘ کے مقدمات میں سزائے موت کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ گویا عدالتی کارروائی کا مقصد محض کسی ملزم کو مجرم یا بے گناہ ثابت کرنا نہیں ہوگا، بلکہ بحث اس بات پر ہوگی کہ آیا گرفتار شخص کو سزائے موت دی جائے یا کسی استثنائی صورت میں اس کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
یہ قانون دو الگ الگ عدالتی نظاموں پر مبنی ہے: ایک کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے (West Bank) میں فوجی عدالتوں سے ہے۔ یعنی کوئی بھی فلسطینی اگر’’دہشت گردی‘‘ کے الزام میں دانستہ قتل (Fatal Terrorist Attack) کا مرتکب پایا جائے تو سزائے موت ڈیفالٹ (Default) ہوگی۔ عدالت کو صرف ’’خاص حالات‘‘ (Special Circumstances) میں عمر قید کا اختیا ر ہے، جو تحریری طور پر ریکارڈ کرنا ہوگا۔ پھانسی کا طریقہ لٹکانا (Hanging) ہوگا۔ سزا کے حتمی فیصلے کے نوے دن کے اندر عمل درآمد لازمی ہے۔
دوسرے کا تعلق اسرائیل کے اندر سول عدالتوں سے ہے یعنی جو کوئی بھی دانستہ قتل کرے اور اس کا مقصد ’’اسرائیل کے وجود کو ختم کرنا‘‘ ہو، اسے سزائے موت یا عمر قید دی جا سکتی ہے۔ یہ شق خاص طور پر یہودی آباد کاروں یا اسرائیلیوں کے جرائم کو خارج رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ۱۹۴۸ء سے اسرائیل میں سزائے موت کا قانون نافذہے لیکن صرف انسانیت کے خلاف جرائم اور غداری کے لیے اس کا نفاذ ہوتا تھا۔ آخری بار ۱۹۶۲ء میں نازی مجرم’’ایڈولف آئیخمن‘‘ کو پھانسی دی گئی تھی۔ عام جرائم میں یہ عملاً معطل رہی ہے۔
۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ کو حماس کےسخت ترین حملوں (الاقصی آپریشن)کے بعد دائیں بازو کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا سلسلہ شروع کیا، جس کا ایک اہم حصہ یہ نیا قانون ہے۔
اس قانون کی منظوری کے ساتھ اسرائیل نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف طاقت کے بل بوتے پر فلسطینیوں کی مزاحمت کو کچلنا چاہتا ہے بلکہ اسے قانونی جواز بھی فراہم کرنا چاہتا ہے۔ یہ قانون‘ دراصل ایک ایسا ہتھیار ہے جو اسرائیلی فوجی عدالتوں کو فلسطینی نوجوانوں، مزاحمت کاروں اور عام شہریوں کو بھی، جن پر’’دہشت گردی‘‘ کا لیبل لگا دیا جائے، بغیر کسی حقیقی انصاف کے پھانسی کے پھندے تک پہنچانے کا اختیار دے گا۔
یہ قانون نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اسرائیل کی اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے انصاف، اخلاقیات اور انسانی اقدار کو بالکل نظر انداز کرنے پر تیار ہے۔
اس قانون کی منظوری سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل امن کی راہ پر چلنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ نہ تو’’ دو ریاستی حل‘‘ قبول کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی فلسطینیوں کو ان کا بنیادی حق دینا چاہتا ہے۔ اس کے بجائے وہ مسلسل جبر، قبضہ، نسل کشی اور اب قانونی طور پر سزائے موت جیسے ہتھیاروں کے ذریعے فلسطینی قوم کو ختم کرنے یا انہیں مکمل طور پر غلام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
(دار العلوم ندوۃ العلماء-لکھنؤ)
٢٨/اپریل/۲۰۲۶
Comments are closed.