مسلمانوں کو ملک کے روشن مستقبل کے لیے کانگریس کی طرف لوٹنا ہوگا: منظر خان
ملکی سیاست کی موجودہ سمت پر تشویش، تاریخی کردار اور قربانیوں کے تناظر میں کانگریس ہی مؤثر متبادل
جالے:(محمد رفیع ساگر)
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بنگلور کی سیاست میں نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت منظر خان نے کہا ہے کہ کانگریس ہی وہ جماعت ہے جس نے اس ملک کو خود اعتمادی کے ساتھ چلنے کا ہنر سکھایا اور آج بھی ملک کا مستقبل اسی کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ہندوستان کو ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو خصوصاً مسلمانوں کو دوبارہ کانگریس کی طرف لوٹنا ہوگا اور نفرت کی سیاست کو فروغ دینے والی قوتوں کے خلاف منظم حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔
یہ باتیں انہوں نے بنگلور میں باوقار عالم دین مولانا محمد نسیم سالک قاسمی، مہتمم المعہد الشفیق للعلوم الاسلامیہ، میسور روڈ کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کے دوران کہیں۔ اس موقع پر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی اور نعیم بھائی بھی موجود تھے۔
منظر خان نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرستی کے سہارے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کانگریس کے تاریخی اور تعمیری کردار کو مشکوک بنانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک صدی سے زائد طویل سفر کے باوجود کانگریس نہ اپنے بنیادی مقصد سے ہٹی ہے اور نہ ہی ملک کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، روزگار، صحت، دفاعی طاقت اور حسنِ انتظام کے میدان میں کانگریس نے جو کارنامے انجام دیے ہیں، ان کی مثال ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہر دور میں ملک کی ضرورت کے مطابق اپنی قربانیاں پیش کی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے ختم کرنے کے خواب دیکھنے والی کئی سیاسی جماعتیں وقت کے ساتھ منظر سے غائب ہو گئیں، لیکن کانگریس آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاندھی خاندان کے خلاف نفرت پھیلانے والے دراصل تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ اس ملک کی تاریخ گاندھی خاندان کی قربانیوں کے اعتراف کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔
منظر خان نے کہا کہ سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی ایک مضبوط سیاسی فکر اور تحریک کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کے عزم کے سامنے فرقہ پرست طاقتیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب ملک مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، عوام کو ایک بار پھر کانگریس کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا تاکہ بدامنی اور انتشار سے نجات حاصل کر کے ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ماضی میں بھی ملک کی حفاظت اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق کانگریس صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جس نے طویل قربانیوں کے بعد ملک کو آزادی دلائی اور آج بھی قومی یکجہتی اور ترقی کے لیے سرگرم عمل ہے۔
Comments are closed.