اگر مسلمان بائیکاٹ کرنے لگیں؟

 

سچ تو مگر کہنے دو!

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

9395381226

جب کبھی ملک میں کہیں الیکشن ہوتے ہیں تو اچانک پاکستان کی جانب سے دہشت گردانہ حملے ہو جاتے ہیں یا ہندو مسلم فسادات شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ عوام جو کل تک اپنے اپنے مذہب کے پابند ہوتے ہوئے بھی صرف ہندوستانی تھے اچانک کٹر ہندو اور کٹر مسلمان بن جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کا اثر فرقہ پرست سیاسی جماعتوں پر ہوتا ہے اور وہ اپنے اپنے فرقے کے ووٹ بٹور لیتے ہیں۔ ہندوستان میں ہمیشہ سے فرقہ پرستی کا بول بالا رہا ہے۔ مذہب کی بنیادوں پر ہی توملک تقسیم ہوا۔مسلمانوں کی مخالفتوں اور نفرت نے ہی تو ہیڈ گوار ویر ساورکر سے لے کر آج کے دور کے فرعونوں کو ایک طبقے کا ہیرو بنا دیا۔ آزادی سے پہلے بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور آزادی کے بعد سے ابھی تک 50 ہزار سے زائد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ کل تک جن سنگھ، ہندو مہاسبھا جیسی تنظیمیں تھی آج بی جے پی، وی ایچ پی، بجرنگ دل نے ان کی جگہ لی ہے۔ کل بھی بلراج مدھو ک تھا جو تاج محل کو ہندو مندر کہتا تھا آج یوگی ہے جو تاج محل ’تیجو محل‘ کہنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کا بائیکاٹ تو کل بھی ہوا اگر آج بھی ہوتا ہے تو 50 سال سے زائد عمر والے مسلمانوں کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہاں! نئی نسل کے لئے نئے اور تلخ تجربات ضرور ہیں۔ پولیس تو ہر دور میں خاکی وردی میں درندہ صفت رہی ہے۔ کل بھی یوپی کی پولیس نے کئی مسلمانوں کو حالت روزہ میں گولی مار کر ندی میں بہا دیا تھا۔ آج کی یوپی پولیس انکاؤنٹر، ہاف انکاؤنٹر کے نام پر تاریخ دہرا رہی ہے۔ عدالتوں میں کل بھی فیصلے جانبدارنہ ہوا کرتے تھے۔آج بھی سلسلہ جاری ہے۔ کل بھی مسلم تاجروں کا بائیکاٹ ہوا کرتا تھا، اذان پر پابندی کا مطالبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ فرق اتنا ہے کہ کل تک سوشیل میڈیا نہیں تھا، موبائیل فونس کا تصور بھی نہیں تھا۔ اخبارات سے جو اطلاع ملتی اسی پر اکتفا کیا جاتا تھا۔ آج دنیا سمٹ گئی ہے۔ پل بھر میں ہر خبر، ہر واقعہ دنیا کے گوشے گوشے میں دیکھا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرستی کا اثر بھی خطرناک وائرس کی طرح ہندوستانی عوام کے ذہنوں کو متاثر کرچکا ہے۔

سوشیل میڈیا کا استعمال مسلم دشمن طاقتوں نے خوب کیا ہے۔ اپنی ساری توانائیاں، دولت اور وسائل اس پلیٹ فارم پر خرچ کئے ہیں جس کا اثر ہندوستانی معاشرے پر دکھائی دے رہا ہے۔ اسے اتفاق کہیے یا انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی، گزشتہ 14 برس کے دوران سوشیل میڈیا اور اس کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا نے ہندوستان کے ماحول کو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے زہر آلو د بنا دیا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت اور اس کے بعد اس کی جگہ پر مندر کی تعمیر نے ہندوؤں کے حوصلے بلند کردیئے ہیں اور انہیں اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ ہندوستان اب سیکولر ملک نہیں رہے گا بلکہ ہندو راشٹریہ بن جائے گا۔ اس کا کریڈٹ نریندر مودی کو دیا جارہا ہے جو بڑی تیزی سے بڑھاپے کے منزل پر پہنچ چکے ہیں اور ان کی جگہ لینے کے لئے یوگی ہر وہ کام کر ر ہے ہیں جس سے ہندوتوا واہ واہ کر رہا ہے مگر جب وہ اقتدار سے بے دخل ہونگے‘تب انہیں سلاخوں کے پیچھے ہر حال میں جانا ہوگا۔ یوپی میں انہوں نے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ وہاں دستور اور قانون کا کوئی کام نہیں۔ یوگی کا اپنا کام چل رہا ہے جب چاہا جس پر چاہا بلڈوزر چلا دیا، انکاؤنٹر کردیا، تعلیم یافتہ تو ہے نہیں نہ یوگ اور نہ ہی کسی اور شعبے میں کسی قسم کی قابلیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی زبان چلتی ہے پھسل جاتی ہے۔ یوگی کا دیکھا دیکھی آسام کے نالائق قسم کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما نے بھی ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کیا۔ یہ اور بات ہے کہ خود انکے اور انکی بیوی کے خلاف ایسے ایسے انکشافات ہوئے ہیں کہ یہ بھی کرسی سے اترجائے تو جیل ہی میں جائیں گے۔ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر انہیں شہری حقوق سے محروم کرنا، انہیں مختلف بہانوں سے بے گھر اور بے روزگار بنا دینا اس وقت آسام، یوپی کے علاوہ اور کئی ریاستوں میں بی جے پی حکومتوں کا مشغلہ ہے۔ ناسازگار حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلمان جب تعلیم کے میدان میں اپنی محنت، قابلیت کی بنیاد پر مقام حاصل کر رہا ہے، سیول سرویسس میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے سرویس جہاد کا نام دے کر اس کے خلاف بھی مخالفت شروع کی گئی ہے۔ انٹرینس پاس کرکے جب جموں کے میڈیکل کالج میں 40 مسلم طلبہ نے میرٹ کی بنیاد پر داخلہ لیا اسے بھی تعلیمی جہاد کا نعرہ دے کر داخلہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ میڈیکل کونسل نے کالج کی مسلمہ حیثیت ہی کو ختم کردیا۔ جس کا جشن منایا گیا۔ ساری دنیا نے ایسے جاہلوں پر لعنت و ملامت کی کہ ایم بی بی ایس داخلوں کی منسوخی کا جشن منانے والی یہ دنیا کی پہلی قوم بن گئی۔ ’لو جہاد‘ کا نعرہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ جس کسی کے خلاف انتقامی کاروائی کرنی ہو یہ نعرہ کام آجاتا ہے۔ یہ نعرہ لگانے والے بھول جاتے ہیں کہ اکبر اور جودھا کی شادی کیا 5 سو برس پہلے کا ’لو جہاد‘ نہیں تھی؟ اسی دور میں ایک من گھڑت پریم کہانی قلی قطب شاہ اوربھاگمتی کی بھی تھی جسے بڑے فخر کے ساتھ مؤرخین نے تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے اور حیدرآباد کو بھاگیہ نگر کہنے والوں کو اپنے فرضی جیجا قلی قطب شاہ سے نفرت نہیں؟ ویسے شاہ رخ خان جیسے سوپر اسٹار سے بھی انہیں کوئی شکایت نہیں کہ انہوں نے گوری سے شادی کی بلکہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ مسلمانوں کی دولت کسی نہ کسی طرح سے ان کی قوم میں منتقل ہوسکتی ہے۔ کتنے مسلم سفارتکار ہیں جنہوں نے ہندو لڑکیوں سے شادی کی۔ ان کے خلاف کبھی بھی لو جہاد کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ انہیں اس بات کا اطمینان رہتا ہے کہ جب کوئی قابل، لائق، فائق، دولت مند کھلاڑی، فلمی اداکار، سفارتکار، سائنسدان کسی غیر مسلم لڑکی کے جال میں پھنس جاتا ہے تو وہ کم از کم اس کی اپنی قوم کا وفادار نہیں رہتا۔ ویسے بھی بہت کم بین فرقہ جاتی شادیاں دیر پا ہوتی ہیں۔ جب کبھی ٹوٹ جاتی ہیں تو مسلم لڑکوں یا مردوں کے حصے میں بدنامی، جبر و ستم کے الزامات آتے ہیں اور جانے والی بہت کچھ دولت سمیٹ کر لے جاتی ہے۔ مسلمانوں نے جب سائنس اور ٹکنالوجی میں ترقی کی اور اپنی قابلیت کی بناء پر انہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں میں اعلی عہدے ملنے لگے تو فرقہ پرستوں کے آنکھوں میں کھٹکنے لگے اور پھر کارپوریٹ جہاد کا نعرہ بلند ہوا۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں آزاد ماحول ہوتا ہے۔ ایک دوسرے سے قربت پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ ہاں! جب کوئی جال میں نہیں پھنستا اسے الزامات کے ذریعہ قانونی چکروں میں الجھا دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ناسک (مہاراشٹرا) کی ٹاٹا کنسلٹنسی سرویس میں کیا گیا۔ فرضی الزامات اور کوٹھوں کے طوائفوں اور دلالوں سے بد تر گودی میڈیا کے اینکرس ان الزامات کو سچ ثابت کرنے کے لئے میڈیا ٹرائیل کرتے ہیں اور پولیس جو بے چین شکاری کی طرح اپنے شکار کے لئے چوکس رہتی ہے۔ فوری کاروائی کرتی ہے۔ TCS معاملے میں کئی الزامات غلط اور کئی دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے، بیچاری حاملہ ندیٰ خان کو نشانہ بنایا گیا، حالانکہ وہ ایک ٹیلی آپریٹر ہیں اور اس کا دور دور تک اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جہاں تک تبدیلی مذہب کا تعلق ہے، کوئی کسی پر جبر نہیں کرسکتا۔ جو اسلام اور اس کی تعلیمات سے متاثر ہوتا ہے وہی اس کے قریب آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ حجاب کی مخالفت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیٹیوں، بہنوں اوربیویوں کی بے پردگی فیشن کے نام پر جسم کی کھلی نمائش سے شرمندہ ہیں۔ بچپن میں ہم نے دم کٹی لومڑی کی کہانی پڑھی تھی کہ ایک لومڑی کی دم کٹ گئی تو اس نے جنگل کے تمام جانوروں کو قائل کرنا چاہا کہ دم کٹنے سے بوجھ کم ہوجاتا ہے۔ مگر ہر ایک جانور نے دم کی اہمیت کو بتایا جیسے بندر نے کہا: میری دُم ہی میرا سب کچھ ہے اسی کی مدد سے میں فضاء میں قلا بازی کرسکتا ہوں۔ گلہری نے کہا میری دُم ہی میرا سہارا ہے، میرا سائبان ہے، میری خوبصورتی ہے، ہاتھی نے کہا: دُم میرا سب سے بڑا ہتھیار ہے جو کام سونڈ سے نہیں ہوسکتا وہ دُم سے کرسکتا ہوں۔

بہرحال! بے حجابی کے تماشے سبھی نے ہولی کے دوران دیکھ لئے۔ حجابی لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ خود کئی ہندوؤں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ مسلم لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ اپنی جسم کو چھپاکر رکھتی ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر میں بھی اگر مسلم لڑکیاں حجاب میں ہوتی ہیں اور لڑکوں کو داڑھی اور ٹوپی رہتی ہے تو اس سے خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت؟ جبکہ ان سے زیادہ سکیوریٹی تو آپ کو کہیں نہیں ملتی۔ ’لینس کارٹ‘ کمپنی کا نیا تنازعہ چل رہا کہ اس کے حالیہ اشتہار میں تلک، بِندی اور کلاوہ پر پابندی کی بات لکھی گئی۔ شر پسندوں کو سستی شہرت کا بہانہ مل گیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود کمپنی نے پیسہ خرچ کرکے اپنے خلاف نگیٹیو پبلیسٹی کاروائی ہوتا کہ اس کمپنی کو آگے چل کر فائدہ ہوسکے۔مسلم دشمن جماعت میں شامل آوارہ اور اوباش قسم کے بعض عناصر نے ’لینس کارٹ‘ کے ایسے شو رومس کو نشانہ بنایا جہاں کے منیجرس مسلمان ہیں۔ ان کے خلاف انہوں نے اناپ شناپ بکا، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ لینس کارٹ ہندو کی کمپنی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس میں سرمایہ دبئی کی ایک کمپنی کا بھی لگا ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دبئی کی اس کمپنی کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہو۔ اب تو فرقہ پرستوں کو روح افزا سے بھی روحانی تکلیف ہو رہی ہے، کیوں کہ انہیں رام دیو کے پرو ڈکٹ کی پبلسٹی کرنا ہے۔ روح افزا کو بھی ان دیوانوں کی دیوانگی سے فری پبلسٹی مل گئی۔ مہاراشٹرا میں مسلم انتظامیہ کے اسکولس ہندوستان بھر میں مدرسے، مساجد، مسلم تاجروں، ترکاری اور میوہ فروشوں کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ ایسے حالات ہر دور میں رہے، جس دن سب مل کر ان کا بائیکاٹ کریں گے تو کیا حال ہوگا؟ اس کا وہ تصوربھی نہیں کرسکتے۔ ان کے وہ لیڈر جن پر انہیں ناز ہے ان کا حال بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسا ہونے والا ہے، اس بات کا ہمیں یقین ہے۔

Comments are closed.