مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

پریس ریلیز

اے ایم یو کے محققین کو ڈی آر ڈی او کا ریسرچ پروجیکٹ حاصل ہوا

علی گڑھ، 23 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای ایم یو) کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی کے محققین کو ایڈوانسڈ کمپوزٹ سینڈوچ اسٹرکچرز کے میدان میں تحقیق کے لئے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کے ایروناٹکس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے 72.68 لاکھ روپے کا ایک ریسرچ پروجیکٹ حاصل ہوا ہے۔

یہ منصوبہ ڈی آر ڈی او کے مالی تعاون سے مکمل کیے گئے ایک سابقہ تحقیقی مطالعے (35.5 لاکھ روپے) کے بعد منظور کیا گیا ہے، جس میں ہنی کومب کور سینڈوچ اسٹرکچرز میں فیٹیگ کے رویے کا جائزہ لیا گیا تھا۔ یہ تحقیق ڈاکٹر اظہر جمیل (پرنسپل انویسٹی گیٹر) اور ڈاکٹر ایس ایم یحییٰ (شریک پرنسپل انویسٹی گیٹر)، شعبہ مکینیکل انجینئرنگ، ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ اس مطالعے نے فیٹیگ کریک کے اضافہ اور ایرو اسپیس اجزاء کی ساختی مضبوطی کے حوالے سے بہتر سمجھ فراہم کی اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی، جس میں ناسا لینگلے ریسرچ سینٹر کی جانب سے حوالہ بھی شامل ہے۔

ان نتائج کی بنیاد پر ڈی آر ڈی او کے ماہرین کے پینل نے تحقیق کو مزید جدید اطلاقات تک وسعت دینے کی سفارش کی۔ چنانچہ ”فریکچر کیرکٹرائزیشن آف جی ایف آر پی اسکن وِد پولی وینائل کلورائیڈ (پی وی سی) اینڈ سنتھیٹک فوم کور سینڈوچ اسٹرکچرز“ کے عنوان سے ایک نیا ریسرچ پروجیکٹ منظور کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کی قیادت ڈاکٹر اظہر جمیل کریں گے جبکہ ڈاکٹر یاسر رفعت بطور شریک پرنسپل انویسٹی گیٹر شامل ہوں گے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے اربن ہیلتھ ٹریننگ سنٹر کی جانب سے ٹیکہ کاری بیداری پروگرام منعقد

علی گڑھ، 23 اپریل: شعبہ کمیونٹی میڈیسن، جے این میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای ایم یو) کے اربن ہیلتھ ٹریننگ سنٹر (یو ایچ ٹی سی) نے عالمی ٹیکہ کاری ہفتہ2026 کے تحت پرانی چنگی کے آنگن واڑی مرکز میں ایک بیداری پروگرام منعقد کیا۔ یہ پروگرام پروفیسر عظمیٰ ارم، چیئرپرسن، اور ڈاکٹر علی جعفر عابدی (ایم آئی سی، یو ایچ ٹی سی) کی رہنمائی میں منعقد ہوا۔

ڈاکٹر ثنا نواب نے جان لیوا بیماریوں کی روک تھام میں ٹیکہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ ڈاکٹر شائستہ پروین نے ویکسین سے متعلق عام غلط فہمیوں پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر سی کے پربھاکرن نے شرکاء کو ویکسین کی حفاظت کے حوالے سے مطمئن کیا اور معمول کی ٹیکہ کاری خدمات سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔

اس موقع پرڈاکٹر ریااور ڈاکٹر شابیہ نے ایک نکڑ ناٹک پیش کیا، جس میں معاشرے میں پائی جانے والی عام غلط فہمیوں کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر شیوانی اور ڈاکٹر عامر نے سائنسی حقائق بیان کیے اور ویکسین کی افادیت سے متعلق شبہات کو دور کیا۔

بعد ازاں ایک انٹرایکٹیو سیشن منعقد ہوا، جس میں شرکاء کو سوالات پوچھنے اور اپنے شبہات دور کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ پروگرام میں ایم پی ایچ طلبہ، آنگن واڑی کارکنان، خواتین اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے ویمنس کالج میں لائف سائنسز فیسٹیول بایوبلیز 2.0 کا اہتمام

علی گڑھ، 23 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای ایم یو) کے ویمنس کالج نے ”اِگنائٹنگ کیوریوسیٹی، ایڈوانسنگ لائف سائنسز“ کے موضوع کے تحت دو روزہ لائف سائنسز فیسٹیول ”بایوبلیز 2.0“کا اہتمام کیا، جس میں 80 سے زائد طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز ”کیا انسانوں میں جین ایڈیٹنگ کی اجازت ہونی چاہیے؟“ کے موضوع پرایک ڈبیٹ سے ہوا۔ مقابلے کے جج ڈاکٹر فوزیہ فریدی، ڈاکٹر صدف فرید اور ڈاکٹر زید مصطفیٰ تھے۔ ڈبیٹ میں زویا امجد نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ زینہ انبساط اور مائشہ خوشنود بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔

نیوٹری جینومکس فوڈ کورٹ میں صحت بخش جدید غذاؤں کی نمائش کی گئی، جس میں کیسکا پتری نورحمہ، عادلہ فانیہ اور یانتی ویناسہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ ذکیہ مرتضیٰ اور حبا بیگ نے بالترتیب دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کیا۔ اس موقع پر سائنسی اور اختراعی موضوعات پر مختلف اسٹال اور نمائش بھی لگائی گئی تھی۔ دوسرے دن ای پوسٹر پرزنٹیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کے جج ڈاکٹر عصمت لائیگ، ڈاکٹر مسد اللہ خان اور ڈاکٹر ایم فرقان تھے۔ اس میں فاطمہ جعفری نے پہلی پوزیشن، جبکہ علیزہ قیصر اور اریبہ غفار نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسکیوینجر ہنٹ مقابلے میں ہدیٰ احمد، انشیکا گپتا اور وسودھانجلی فاتح قرار پائیں، جبکہ آیت علی، دانیہ آفرین اور مزما احمد رنر اپ رہیں۔ڈاکٹر محمد سلمان شاہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ کمیونٹی میڈیسن، جے این ایم سی نے طلبہ کے لیے اسٹریس مینجمنٹ پر ایک لیکچر دیا، جبکہ ڈاکٹر عامر رینا نے مہمان مقرر کا تعارف کرایا۔ عاکفہ حسن نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔

اختتامی سیشن میں مس درفشاں سلطانہ نے سرگرمیوں کا خلاصہ پیش کیا، جبکہ مس نائلہ صدیقی نے فاتحین کے ناموں کا اعلان کیا، جنہیں ڈاکٹر سلمان شاہ، پروفیسر نظورہ عثمانی اور ڈاکٹر فوزیہ نوشین نے اعزازات سے نوازا۔ پروفیسر نظورہ عثمانی نے اختتامی کلمات میں استقامت اور مقصدیت کے ساتھ سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ پروگرام کا اختتام مس فرحین عرف اریبہ کے کلماتِ تشکر پر ہوا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے ایس ٹی ایس اسکول میں تمباکو سے پاک اسکول مہم کا آغاز

علی گڑھ، 23 اپریل:ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبہ پبلک ہیلتھ ڈینٹسٹر ی کی جانب سے سیدنا طاہر سیف الدین اسکول (منٹو سرکل)، اے ایم یو میں تمباکو سے پاک اسکول مہم کا انعقاد کیا گیا۔ اس بیداری سیشن میں طلبہ کو تمباکوکے استعمال کے مضر اثرات سے آگاہ کیا گیا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی گئی۔ اس موقع پر اسکول کے احاطے میں تمباکو سے پاک ماحول برقرار رکھنے کے لیے حاضرین کو حلف بھی دلایا گیا۔

پروفیسر نیہا اگروال، چیئرپرسن، شعبہ پبلک ہیلتھ ڈینٹسٹری نے پروگرام کی قیادت کی اور طلبہ میں صحت مند عادات کی تشکیل میں اسکولوں کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے تمباکو کے استعمال سے وابستہ خطرات کو اجاگر کیا اور ابتدائی سطح پر بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت بیان کی۔

مسٹر فیصل نفیس، پرنسپل، ایس ٹی ایس اسکول نے کہا کہ یہ اقدام ایک صحت مند اور باخبر طلبہ برادری کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو محفوظ اور تمباکو سے پاک ماحول کے فروغ کے سلسلہ میں اسکول کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پروگرام ڈاکٹر محمد عالمگیر، نائب پرنسپل، مسٹر فرحان حبیب اور مس نسرین فاطمہ کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو ملاپورم سینٹر میں ہال ڈے تقریب کا اہتمام

علی گڑھ، 23 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) ملاپورم سینٹر، کیرالہ میں سالانہ ہال تقریب (ہال ڈے 2026) جوش و خروش اور طلبہ، اساتذہ و عملے کی فعال شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔

پروگرام کا آغاز پرووسٹ مسٹر غالب ناشتر کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس کے بعد پروفیسر ایم شاہ الحمید، ڈائریکٹر، اے ایم یو ملاپورم سینٹر نے افتتاحی خطاب پیش کیا، جس میں انہوں نے طلبہ میں ڈسپلن اور یگانگت کی تشکیل میں رہائشی زندگی کے کردار کو اجاگر کیا۔

تہنیتی خطبات ڈاکٹر شاہنواز احمد ملک اور ڈاکٹر جیجو جارج نے پیش کیے، جنہوں نے طلبہ اور ہال انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ بوائز اور گرلز سینئر ہالز کی سالانہ رپورٹ بالترتیب مسٹر غلام اشرف توقیر اور مس سدرہ فاطمہ نے پیش کی۔ طلبہ کو تعلیم، کھیل اور ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں دستیابیوں پر اعزازات سے نوازا گیا۔ پروگرام کا اختتام ڈاکٹر سبینہ پی ایس کے کلمات تشکرپر ہوا۔

٭٭٭٭٭٭

کنسلٹنگ کلب، اے ایم یو کے زیر اہتمام ’دی فائنل بریف کیس – دی ایسکیپ‘ پروگرام کا انعقاد

علی گڑھ، 23 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای ایم یو) کے کنسلٹنگ کلب نے شعبہ کامرس میں ”دی فائنل بریف کیس: دی ایسکیپ“کے عنوان سے ایک انٹرایکٹیو پروگرام منعقد کیا، جس کا مقصد طلبہ کو تجزیاتی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے اور حکمت عملی سے متعلق مہارتوں کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔پروگرام میں 100 سے زائد طلبہ نے شرکت کی، جن کا تعلق مختلف شعبوں جیسے انجینئرنگ، سائنس اور کامرس سے تھا۔ مقابلے کو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا، جس کا اختتام ایک ایسکیپ روم چیلنج ”دی بورڈ روم کرائسز“پر ہوا، جہاں شرکاء نے بطور کنسلٹنٹ محدود وقت میں کارپوریٹ کی پیچیدہ صورتِ حال کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس مقابلہ میں ”دی فائیو فولز“، ”لائفو“ اور ”کوانٹم ایس“نامی ٹیموں نے بالترتیب پہلا، دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کیا جنھیں انعامات سے نوازا گیا۔

پروفیسر صبوحی نسیم، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن، اور سی اے عاصم، گیسٹ فیکلٹی، اے ایم یو مقابلے کے جج تھے۔ یہ پروگرام پروفیسر نواب علی خان اور پروفیسر محمد آصف خان، چیئرمین، شعبہ کامرس کی نگرانی میں منعقد کیا گیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی نے یونیسکو اور بِرل کے بین الاقوامی پروجیکٹس میں نمایاں علمی خدمات انجام دیں

علی گڑھ، 23 اپریل: شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای ایم یو) کے پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی نے یونیسکو (پیرس) اور بِرِل (لائیڈن اور بوسٹن) کے عربی زبان و ثقافتی مطالعات سے وابستہ باوقار بین الاقوامی تعلیمی پروجیکٹس میں نمایاں علمی خدمات انجام دی ہیں۔

پروفیسر ندوی نے یونیسکو کے سلک روڈ پروگرام میں حصہ لیا، جو تاریخی تجارتی راستوں کے ساتھ عربی زبان کے کردار اور ورثے کا جائزہ لیتا ہے۔ برصغیر میں عربی زبان کی تاریخ پر مبنی ان کی تحقیق ”اسٹوری ٹیلنگ، سی فیرنگ، اینڈ ٹریول رائٹنگ: دی عربین گلف اینڈ دی انڈین اوشن“ کے عنوان سے شائع شدہ مجموعے میں شامل ہے۔ اس اشاعت میں عربی زبان کو مختلف خطوں کے درمیان ثقافتی تبادلے، فکری مکالمے اور تہذیبی روابط کے ایک مؤثر وسیلے کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

برل کی کتاب ”ہندیز اینڈ افریقنز ایکروز دی انڈین اوشن“میں بھی پروفیسر ثناء اللہ کا تحقیقی مقالہ شامل ہے، جس میں عربی، فارسی اور اردو سفرناموں کے ذریعے بین ثقافتی روابط کا جائزہ لیا گیا ہے اور بحر ہند کے خطے میں سمندری تاریخ اور ثقافتی تبادلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

عربی زبان اور تقابلی ادب کے ممتاز محقق پروفیسر ندوی انگریزی، عربی اور اردو میں درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، جبکہ ان کے 200 سے زیادہ تحقیقی مقالات اور مضامین مستند تحقیقی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے پانچ طلبہ کا اسٹیپنگ کلاؤڈ کنسلٹنگ میں انتخاب

علی گڑھ، 23 اپریل: ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای ایم یو) کے پانچ طلبہ کا انتخاب اسٹیپنگ کلاؤڈ کنسلٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، نئی دہلی نے آن لائن پلیسمنٹ مہم کے ذریعے کیا ہے۔

ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ انچارج، ڈاکٹر معینہ اطہر نے بتایا کہ یہ مہم 2026 بیچ، سالِ آخر بی ٹیک /بی ای (تمام شعبہ جات) اور ایم سی اے /ایم بی اے طلبہ کے لیے تھی۔ انتخابی عمل میں آن لائن ٹیکنیکل اور اپٹیٹیوڈ ٹیسٹ کے بعد ٹیکنیکل اور ایچ آر انٹرویو شامل تھے۔ مجموعی طور پر 60 طلبہ کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جن میں سے پانچ طلبہ کو حتمی طور سے منتخب کیا گیا۔

منتخب ہونے والے طلبہ میں چھایا چودھری (بی ٹیک کمپیوٹر انجینئرنگ)، دکشا سارسوت (بی ٹیک کمپیوٹر انجینئرنگ)، محمد طیب الیاس خان (بی ٹیک آرٹیفیشل انٹیلی جینس)، انیلا عثمانی (ایم سی اے) اور فرحان احمد صدیقی (ایم ایس سی، سائبر سیکیورٹی اینڈ ڈیجیٹل فارینسکس) شامل ہیں۔

کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل، اور ڈاکٹر معینہ اطہر نے منتخب طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور ان کے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں ذہنی صحت سے متعلق پروگرام کا انعقاد

علی گڑھ، 23 اپریل: ”مائنڈ میٹرز: اسٹوڈنٹ ویل بیئنگ سیریز“ کے تحت اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں ایک ورکشاپ ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو) آفس، ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز (اے سی ڈبلیو ایس)، اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر اور انکلوزیوفیوچرز فاؤنڈیشن (آئی ایف ایف) کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔

اس موقع پر ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر ایم اطہر انصاری نے تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت سے متعلق اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ ڈاکٹر جوہی گپتا نے ورکشاپ سیریز کے مقاصد سے آگاہ کیا۔

ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر صبوحی خان نے طلبہ کو کھلے انداز میں بات چیت کرنے اور ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ ڈاکٹر نشید امتیاز نے ذہنی صحت سے متعلق بیداری اور جذباتی استحکام پر ایک تکنیکی سیشن منعقد کیا، جس کے بعد ڈاکٹر عائشہ رحمان نے مائنڈ فُلنیس اور اسٹریس مینجمنٹ تکنیک جیسے عملی طریقوں سے روشناس کرایا۔ ڈاکٹر حنا پروین نے طلبہ کو کوگنیٹیو ری اسٹرکچرنگ اور ذہن و دماغ کو سکون بخشنے والی حکمت عملیوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی۔ پروگرام کا آغاز وائس پرنسپل ڈاکٹر صبا حسن کے استقبالیہ خطاب سے ہوا اور اختتام ڈاکٹر فرحت پروین کے کلمات تشکر پر ہوا۔

یہ ورکشاپ آئی ایف ایف کے رضاکاروں کے تعاون سے منعقد کی گئی اور ڈاکٹر سارہ نے اس کی نظامت کی۔ انٹرایکٹیو سیشن نہایت مفید ثابت ہوا، جس میں طلبہ کو ذہنی فلاح و بہبود برقرار رکھنے کی عملی حکمت عملیوں سے بخوبی روشناس کرایا گیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ اردو میں ریسرچ ایسوسی ایشن کا اجلاس منعقد

علی گڑھ، 23 اپریل: شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای ایم یو) کی ریسرچ ایسوسی ایشن کا تیسرا اجلاس صدر شعبہ پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اس موقع پر ریسرچ اسکالر فرحین شکیل نے ”تقلید سے تحقیق تک“ کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا، جس میں ادب میں تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جبکہ سجاد رحمانی نے ”کیا اقبال تصوف کے منکر تھے؟“ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا اور اقبال کی شاعری اور مولانا رومی سے ان کے تعلق کی روشنی میں تصوف کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کی وضاحت کی۔ اساتذہ نے دونوں مقالوں کو سراہا اور مفید تجاویز پیش کیں۔

پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی نے طلبہ کی شرکت کو لائق ستائش قرار دیتے ہوئے انہیں علمی سنجیدگی کے ساتھ تحقیق جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی نے اس اقدام کی تعریف کی اور تحقیقی معیار کو بہتر بنانے کے طریقوں پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر معید الرحمٰن نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تحقیق میں معروضیت برقرار رکھیں اور غیر متعلقہ مواد سے گریز کریں۔ آخر میں ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی نے کلمات تشکر ادا کئے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو میں کیمپس سیفٹی اور جینڈر ویل بیئنگ پر ورکشاپ منعقد

علی گڑھ، 23 اپریل: ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز (اے سی ڈبلیو ایس)، ادارہ جاتی شکایات کمیٹی (آئی سی سی) اور ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای ایم یو) کے اشتراک سے ”میپنگ سیفٹی اینڈ جینڈر ویل بیئنگ: اے پارٹیسپیٹری کیمپس آڈٹ اینڈ ورکشاپ“ کے عنوان پر ایک ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کا مقصد ایک محفوظ کیمپس ماحول کو فروغ دینا تھا۔ پروگرام میں مختلف فیکلٹیز کے 50 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔

اے سی ڈبلیو ایس کی ڈائریکٹر پروفیسر عذرہ موسوی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں صنفی طور سے حساس اور محفوظ کیمپس کی اہمیت پر زور دیا۔ پروفیسر ثمینہ خان، پریزائیڈنگ آفیسر، آئی سی سی نے طلبہ کی سلامتی کے حوالے سے ادارہ جاتی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا اور مسائل کے سلسلہ میں اطلاع دینے کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ پروفیسر صبوحی خان، ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو نے کھلے مکالمے، آگہی اور سائبر سیفٹی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

ورکشاپ میں شرکاء کی شمولیتی سرگرمیوں جیسے سیفٹی میپنگ اور طلبہ کے تجربات پر مباحثے شامل تھے، جس کے ذریعے شرکاء نے اپنے خدشات کا اظہار کیا اور کیمپس سیفٹی کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں عملی تجاویز پیش کیں۔

ایک سائبر آگہی سیشن ایڈوکیٹ ندیم انجم نے منعقد کیا، جس میں ڈیجیٹل کمزوریوں اور عام آن لائن خطرات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

انسپکٹر امیت کمار اور انسپکٹر سمن لتا، سائبر کرائم برانچ، علی گڑھ نے بھی حاضرین سے خطاب کیا اور ڈیٹا پروٹیکشن، محفوظ آن لائن طریقوں اور سائبر فراڈ سے بچاؤ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر بیان کیں۔

ورکشاپ کا اختتام پروفیسر ثمینہ خان کے تاثرات اور مسٹر ہرشِت اگروال کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ عربی میں ”عربی زبان وادب اور اردو و فارسی زبان کا ادبی و شعری سرمایہ“ موضوع پر لیکچرکا اہتمام

علی گڑھ، 23اپریل: شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں بی اے عربی اور ایم اے عربی کے طلبہ وطالبات کی انجمن ”النادی العربی“ اور شعبہ کے ریسرچ اسکالرز کی تنظیم ”منتدی الباحثین“ کا ایک مشترکہ علمی اجلاس منعقد ہوا، جس کے مہمان خصوصی، یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق استاذ، ممتاز نقاد، محقق و ادیب اور ماہرِ جمالیات پروفیسر قاضی جمال حسین تھے۔

صدر شعبہ عربی پروفیسر محمد فیضان بیگ نے شعبہ عربی کی تاریخ، خدمات اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب کی وابستگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو کے شعبہ عربی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اس یونیورسٹی کی تاریخ قدیم ہے۔ انھوں نے مہمان مقرر کا تعارف کرایا۔

پروفیسر قاضی جمال حسین نے اپنے پرمغز لیکچر میں عربی ادب کے طلبہ کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ اپنے اندر ایسا ادبی ذوق پیدا کریں جس سے کسی بھی ادبی شہ پارے کے محاسن کو آنکنے کی صلاحیت بیدار ہو جائے، یہی ادب کے مطالعہ کا اصل مقصد ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے عربی زبان کے جاہلی اور کلاسیکی دور کے بعض شعراء کے کلام کو بطور مثال پیش کرکے ادبی محاسن کے مختلف پہلوؤں کو نہایت دلچسپ اور مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

انھوں نے کہا کہ عربی زبان آج ایک عالمی زبان کی حیثیت رکھتی ہے، اگر تاریخ کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو یقینا یہ دنیا کی نہایت اعلیٰ اور قدیم ترین زبان ہے نیز جب یہ قدیم زبان ہے تو اس کا ادبی سرمایہ بھی بہت قدیم ہے، اس لیے ہمیں اس کے ادبی سرمایہ کو اچھی طرح سیکھنا اور اس کی حفاظت کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اردو اور فارسی جیسی زبانوں نے دراصل اپنی فنی حیثیت عربی ہی سے کسب کی ہے۔

پروفیسر قاضی جمال حسین نے مزید کہا کہ ہم چونکہ ادب کے طالب علم ہیں اس لیے ہمیں دوسری زبانوں خصوصاً فارسی اور اردو زبان کے ادب کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے، اس حوالے سے انہوں نے عربی، فارسی اور اردو زبان کے شعراء جیسے میر، غالب، جگر، رومی، سعدی اور امرؤالقیس کے اشعار کو پیش کرتے ہوئے ان کے معانی اور مطالب بھی بیان کئے۔ انھوں نے کہا کہ بعض الفاظ امتداد زمانہ کے ساتھ بتدریج اپنے معانی اور مفاہیم کو کھو دیتے ہیں۔ انہوں نے الفاظ و معانی دونوں کے حصول اور استعمالات کے سلسلے میں سیر حاصل گفتگو کی اور طلبہ و طالبات سے اپنی پوری توجہ حصول علم پر مبذول کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شخص اور شخصیت میں واضح اور نمایاں فرق ہوتا ہے، شخصیت اپنی نشست و برخاست، بول چال اور وضع قطع سے پہچان لی جاتی ہے جبکہ شخص اس کے برعکس ہوتا ہے اس لیے ہمیں شخصیت بننے کی کوشش اور جد وجہد کرنی چاہیے۔

نظامت کے فرائض النادی العربی کے سکریٹری خالد سیف اللہ نے بحسن و خوبی انجام دئے، جب کہ منتدی الباحثین کے صدر محمد شاہد نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ جلسے کا اختتام شعبہ عربی کے استاذ ڈاکٹر احسان اللہ خان کے کلمات تشکر پر ہوا۔

پروگرام میں شعبہ عربی کے طلبہ وطالبات کثیر تعداد میں شامل ہوئے۔

Comments are closed.