بی ڈی او چندرکانتا کماری کی ہدایت: خود شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں،11 پنچایتوں کے شمار کنندگان کی تربیت آخری مرحلے میں، گھر گھر درست گنتی پر زور
جالے:(محمد رفیع ساگر)
مقامی بلاک کے سرحدی علاقہ بوکھڑا بلاک ہیڈکوارٹر واقع میٹنگ ہال میں "ہندوستان کی مردم شماری 2027” کے پہلے مرحلے کے تحت مکانوں کی فہرست سازی اور عمارتوں کی گنتی کے لیے شمار کنندگان اور چارج سپروائزرز کی تربیت اب آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ 13 اپریل سے شروع ہونے والے اس تربیتی پروگرام میں بلاک کی تمام 11 پنچایتوں کے اہلکار بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔
یہ تربیت بی ڈی او کم چارج آفیسر چندرکانتا کماری کی نگرانی میں منعقد کی جا رہی ہے۔ ٹرینرز پنکج کشور پون، امتیاز احمد انصاری، شیومنگل کمار اور دلیپ کمار شرکاء کو مرحلہ وار عملی اور تکنیکی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
تربیت کے دوران 34 اہم نکات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جن میں مکانوں کی درست فہرست سازی، ہر عمارت کو منفرد نمبر دینا، خاندانوں کی شناخت، فارمز اور موبائل ایپ کا استعمال، ڈیٹا کی درستگی کو برقرار رکھنا، غلطیوں کی اصلاح کا طریقہ کار اور رازداری کے اصول شامل ہیں۔
ٹرینرز نے واضح کیا کہ گنتی کے دوران کوئی بھی گھر یا خاندان چھوٹنے نہ پائے۔ اس کے لیے فیلڈ میں جانے سے پہلے علاقے کی مکمل سمجھ پیدا کرنے، دوبارہ جانچ (ری چیکنگ) کرنے اور مقررہ وقت کے اندر کام مکمل کرنے پر زور دیا گیا۔ ساتھ ہی ممکنہ مشکلات اور ان کے عملی حل بھی بتائے گئے تاکہ زمینی سطح پر کام بخوبی انجام دیا جا سکے۔
اپنے خطاب میں بی ڈی او کم چارج آفیسر چندرکانتا کماری نے کہا کہ مردم شماری ایک بنیادی قومی عمل ہے جس کے اعداد و شمار پر ہی ترقیاتی منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے تمام سرکاری ملازمین سے اپیل کی کہ وہ خود شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی اس کے لیے ترغیب دیں۔ انہوں نے بتایا کہ خود شماری کا عمل 17 اپریل سے شروع ہو کر یکم مئی تک جاری رہے گا، اس لیے اس میں تیزی لانا ضروری ہے۔
یہ تربیتی پروگرام تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں ہر بیچ میں 40 سے زائد شرکاء شامل ہو رہے ہیں۔ اس وقت تیسرے اور آخری بیچ کی تربیت جاری ہے، جس کا اختتام کل متوقع ہے۔
تمام 11 پنچایتوں سے آئے شمار کنندگان اور سپروائزرز سرگرمی کے ساتھ تربیت میں حصہ لے رہے ہیں اور مردم شماری کے عمل کی باریکیوں کو سمجھ رہے ہیں، جس سے آئندہ گنتی کے کام کو کامیابی سے مکمل کرنے کی تیاریاں آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہیں۔
Comments are closed.