زمین میں فساد برپا مت کرو!
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
زمین، زندگی اور ہماری ذمہ داری — قرآن و سنت اور عصرِ حاضر کی روشنی میں ایک فکری و دعوتی خطاب
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، اما بعد!
محترم حضرات!
آج ہم ایک نہایت اہم اور بروقت موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں — زمین، زندگی اور ہماری ذمہ داری۔ یہ موضوع محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک دینی، شرعی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔ جس زمین پر ہم بستے ہیں، جس کی مٹی سے ہماری تخلیق ہوئی، جس کے وسائل سے ہماری زندگی قائم ہے ، اس کی حفاظت دراصل اپنی بقا کی حفاظت ہے۔
زمین — ایک الٰہی امانت
قرآنِ مجید نے زمین کو انسان کے لیے بچھونا اور قرار گاہ قرار دیا:
“الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا…” (البقرہ: 22)
یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے نرم، ہموار اور قابلِ رہائش بنایا۔ یہ محض ایک طبعی حقیقت نہیں بلکہ ایک احسانِ عظیم ہے۔ اسی لئے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا گیا — ایک ذمہ دار نگران، نہ کہ بے لگام صارف۔
انسان اور امانت کا تصور
اسلامی تعلیمات کے مطابق زمین اور اس کے وسائل انسان کی ملکیتِ مطلق نہیں، بلکہ امانت ہیں۔ امانت کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں خیانت نہ کی جائے، اس کا ناجائز استعمال نہ ہو، اور اس کے توازن کو بگاڑا نہ جائے۔ قرآن واضح ہدایت دیتا ہے:
“وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا” (الأعراف: 56)
یعنی زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو۔
اصلاح کا ایک روحانی پہلو ہے اور دوسرا مادی ، روحانی پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور شریعت نازل فرما کر صالح زندگی کا ایک پورا نظام عنایت فرمایا ہے، گناہ بے حیائی اور ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنا اس اصلاح کو فساد اور بناؤ کو بگاڑ سے بدل دینا ہے ، زمین میں فساد برپا نہ کرو ،، یعنی زمین کے انتظام کو خراب مت کرو ۔ انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت چھوڑ کر اپنے اخلاق ،معاشرت اور تمدن کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں ، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کی بے شمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن مجید کا مقصود و مطلوب ہے ۔یہ تو اس آیت کا روحانی پہلو ہے ۔
اس کا مادی پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہے کہ زمین اور اس کی فضا کو انسان کی زندگی ،اس کی صحت اور اس کے غذا کے لئے نہایت موزوں اور موافق بنایا گیا ہے ،زمین میں آلودگی پھیلا کر اس کو صحت کے لیے نقصان دہ اور زندگی کے لئے مہلک نہ بنایا جائے اور ماحولیات کا تحفظ کیا جائے ۔
غرض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ “فساد” صرف اخلاقی یا سماجی بگاڑ تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی بگاڑ بھی اس میں شامل ہے — جنگلات کی کٹائی، صوتی و فضائی آلودگی، پانی کا ضیاع، پہاڑوں کا خاتمہ، تالاب اور ندی نالوں کا پاٹنا،
اور قدرتی نظام میں مداخلت — سب اسی کے مظاہر ہیں۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ زمین کا تقریبا 72/ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، جب کہ صرف 29/ فیصد حصہ خشکی ہے اور انسان کو اپنی تمام تر سرگرمیاں اسی محدود حصے میں انجام دینی ہوتی ہے ، اس محدود زمین میں بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ بھی ہے اور وسائل کا بے محابہ استعمال اور بے جا استعمال زمین کی زرخیزی کو متاثر کر رہا ہے ، زراعت سے زیادہ پیدا وار حاصل کرنے کے لئے کیمیاوی کھادوں کے زیادہ استعمال نے بھی زمین کی صحت کو نقصان پہنچایا ہے ۔ جس کی وجہ سے موسم کی مزاج بھی بہت جلد بدلتا رہتا ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ حدت اور شدت پیدا ہورہی ہے ۔
زمین کی حیات اور ہماری بقا
یہ ایک سادہ مگر گہرا اصول ہے: زمین کی حیات ہماری حیات ہے۔ اگر زمین سرسبز و شاداب ہوگی، تو انسان خوشحال ہوگا، اور اگر زمین بنجر، آلودہ اور غیر متوازن ہو جائے گی تو انسانی زندگی بھی بحران کا شکار ہو جائے گی۔
آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں ماحولیاتی مسائل ایک عالمی چیلنج بن چکے ہیں:
گلوبل وارمنگ (عالمی حدت میں اضافہ)
موسمیاتی تبدیلیاں
پانی کی قلت
فضائی اور صوتی آلودگی
یہ سب دراصل انسان کی غیر ذمہ دارانہ روش کا نتیجہ ہیں۔
درخت، پانی اور فضا — ہماری ذمہ داریاں
اسلام نے ماحولیاتی تحفظ کے اصول صدیوں پہلے واضح کر دیے:
درخت لگانا اور ان کی حفاظت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تمہارے ہاتھ میں پودا ہو تو اسے لگا دو۔
یہ تعلیم اس بات کی علامت ہے کہ شجر کاری ایک دائمی نیکی ہے۔
پانی کا اعتدال سے استعمال
آپ ﷺ نے وضو میں بھی پانی کے اسراف سے منع فرمایا، چاہے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔
فضا کی پاکیزگی
صفائی کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔ آلودگی پھیلانا نہ صرف سماجی جرم ہے بلکہ دینی ذمہ داری سے غفلت بھی ہے۔
جنگ میں بھی ماحول کا تحفظ
اسلامی تعلیمات میں یہاں تک ہدایت ہے کہ جنگ کے دوران بھی درخت نہ کاٹے جائیں اور کھیتیاں تباہ نہ کی جائیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام ماحول کے تحفظ کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔
پہاڑ اور قدرتی توازن
قرآن نے پہاڑوں کو “اوتاد” (میخیں) قرار دیا ہے، جو زمین کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ جدید سائنس بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ پہاڑ زمین کے جغرافیائی اور موسمی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کو بلا ضرورت ختم کرنا دراصل قدرتی توازن سے کھیلنا ہے۔
عالمی یومِ ارض: ایک اجتماعی شعور کی کوشش
ہر سال 22 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ارض منایا جاتا ہے۔ اس کا آغاز 1970ء میں ہوا، جس کے محرک امریکی ماہرِ ماحولیات سینیٹر گیورڈ نیلسن تھے۔ اس دن کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو زمین کے تحفظ، قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال، اور ماحولیاتی توازن کی اہمیت کا شعور دیا جائے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
زمین محدود وسائل رکھتی ہے
ان کا بے دریغ استعمال مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے
اجتماعی کوشش کے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں
انفرادی سے اجتماعی ذمہ داری تک
یہ ایک حقیقت ہے کہ صرف انفرادی کوششیں کافی نہیں ہوتیں۔ اگرچہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ پانی بچائے، درخت لگائے اور آلودگی سے بچے، لیکن جب تک سماجی، تعلیمی اور حکومتی سطح پر منظم اقدامات نہ ہوں، مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ:
تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی شعور پیدا کیا جائے
حکومتی سطح پر قوانین بنائے جائیں اور ان پر عمل ہو
معاشرہ مجموعی طور پر ذمہ داری کا احساس پیدا کرے
عقل و قیاس کی روشنی میں
اگر ہم محض عقل سے بھی سوچیں تو یہ بات واضح ہے کہ جو قوم اپنے وسائل کو ضائع کرتی ہے، وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ جو زمین کو برباد کرتی ہے، وہ اپنا مستقبل برباد کرتی ہے۔ اور جو فطرت کے قوانین سے ٹکراتی ہے، وہ خود نقصان اٹھاتی ہے۔
دعوتی پیغام اور عملی لائحہ عمل
محترم سامعین! آج کا دن ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع دیتا ہے کہ:
ہم زمین کو آلودگی سے بچائیں گے
درخت لگائیں گے اور ان کی حفاظت کریں گے۔
پانی اور دیگر وسائل کا محتاط استعمال کریں گے
دوسروں میں بھی اس شعور کو عام کریں گے
یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک محفوظ اور خوشحال دنیا چھوڑ سکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ زمین ہمارے لیے ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ اگر ہم نے اس کی قدر کی، اس کی حفاظت کی، اور اس کے ساتھ ذمہ داری کا معاملہ کیا تو یہ ہمارے لیے رحمت بن جائے گی۔ اور اگر ہم نے اس میں فساد پھیلایا تو یہی زمین ہمارے لیے مشکلات اور مصیبتوں کا سبب بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح شعور عطا فرمائے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
Comments are closed.